بدقسمتی سے ایوان میں بیٹھی ممبر پنجابی کو پہچانتی ہی نہیں، اور اُن کی سکھیوں کی جانب سے آہو نی آہو تالیاں بجائی جاتی ہیں! افسوس
پنجابی 150 ملین لوگوں کی زبان ہے، دنیا کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں سے ایک ہے۔
یہ مولا بخش کی نہیں
داتا گنج بخش کی زبان ہے
وارث شاہ کی زبان ہے
فرید گنج شکر کی زبان ہے
گُرو نانک کی زبان ہے
بھُلّے شاہ کی زبان ہے
میاں محمد بخش کی زبان ہے
بیرسٹر امجد ملک صاحب سے تعارف تب کا ہے جب یہ لاہور ہائیکورٹ بار وزٹ کرنے آیا کرتے تھے اور ہم صحافی دوست ان کے ساتھ گپیں مارتے تھے۔ ہمیشہ بیرسٹر امجد صاحب کو ایک مثبت شخصیت کے طور پر پایا، ملنگ طبعیت اور عاجزی پسند انسان ہیں۔ ماضی میں اوورسیز کمیشن پنجاب کی بابت اکثر مقدمات لاہور ہائیکورٹ آیا کرتے تھے لیکن گزشتہ ڈیڑھ دو برسوں میں ذاتی مشاہدہ ہے کہ اب اوورسیز کمیشن کے کام نہ کرنے کے حوالے مقدمہ بازی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے یعنی دستیاب وسائل اور قانون کے تحت پنجاب اوورسیز کمیشن مکمل فعال کردار ادا کر رہا ہے، جو لوگ کردار اور شعور کے حساب سے بیرسٹر امجد صاحب جیسی شخصیات کی جوتی کے برابر بھی نہیں ہیں، وہ بھی آج بہانے بنا کر آسمان پر تھوکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
Stay Strong Amjad Bhai..... we all admire you...
@AmjadMalik786
Wrote a letter to the Senate Standing Committee on Information & Broadcasting over the gross transgression by NCCIA in issuing a notice to esteemed columnist Taufeeq Butt sb. All journalists must stand up to these intimidation tactics being deployed against freedom of the press 👇
اصل مسئلہ یہ ہے کہ پنجاب حکومت پولیس کو ریفارم کرنے میں ناکام ہوگئ، افسران آئی جی کو سنجیدہ نہیں لیتے ، ایک منظم فورس میں طاقت کے متعدد مراکز نہیں ہو سکتے۔۔۔
اس واش روم میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ ڈی پی او صاحب کے علاوہ کوئی استعمال نہیں کر سکتا؟ یا ڈی پی او صاحب نے اپنی جیب سے اس کی تعمیر کروائی؟ پنجاب کے موجودہ نظام میں زیادہ تر افسران عام عوام کو انسان نہیں سمجھتے۔۔
تبادلہ چھوٹی سزا ہے
ایک واشروم کے استعمال کا تنازع، ایک CSP افسر کی رخصتی
حافظ آباد کے ڈی پی او آفس میں ایک سیاسی بیٹھک تھی۔ کرسیوں پر کچھ سیاسی شخصیات موجود تھیں-
کسی کو خبر نہ تھی کہ واشروم کا ایک دروازہ ایک افسر کے کیریئر کا موڑ بن جائے گا۔
دفتر میں موجود ایک ایم پی اے کے صاحبزادے جو آئندہ ایم پی اے کے امیدوار بھی ہیں اور ایک اور سیاسی شخصیت بھی تھی ان میں سے ایک صاحب اٹھے اور ڈی پی او کامران حمید کے واشروم کی طرف بڑھ گئے۔
ڈی پی او نے ٹوکا۔
“میرا پرسنل واشروم کس کی اجازت سے استعمال کرنے لگے؟”
وہاں بیٹھے سیاستدان صاحب نے وضاحت دی تعارف کروایا
“ ذرا لحاظ کریں۔”
لحاظ نہ ہوا۔ بات بڑھی اور ڈی پی او کامران حمید نے کہا
“Get Lost’’
سیاسی شخصیات وہاں سے چلی گئیں چند لمحوں کے بعد سوشل میڈیا پہ خبر چلی
“ڈی پی او حافظ آباد کامران حمید تبدیل۔”
خبر بے بنیاد تھی کامران حمید ابھی بھی ڈی پی او برقرار تھے۔
چند روز کی تگ و دو، چند فون کالز، اور کچھ بالائی سطح کی سرگرمی کے بعد وہ ہوا جو افواہ تھی، حقیقت بن گئی۔
کامران حمید کا تبادلہ ہو گیا۔ ان کی جگہ ایک نئے رینکر ایس پی کو چارج دے دیا گیا۔
لوگ ابھی یہ طے کر ہی رہے تھے کہ یہ واقعہ سچ ہے یا قیاس آرائی کہ اس سوال کا جواب خود آ گیا۔
ان صاحب نے سوشل میڈیا پر پوسٹ لگائی
“Now You Get Lost”
بس اس ایک لائن نے ہر شک دور کر دیا جو کہانی افواہ لگتی تھی، وہ جشن بن گئی اور اس کے کرداروں نے اس پہ منہ بولتی مہر گا دی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ
ایک CSP افسر کا تبادلہ اس لیے ہوا کہ اس نے اپنے واشروم کے استعال کی اجازت نہ دی -
واشروم بچا لیا مگر اختیار چھوڑ دیا۔
.@BaskinRobbins has sent us (Daily Pakistan) a legal notice for reporting on the enforcement action against them- caught serving substandard food, and instead of fixing their kitchens, they threaten the press. They should spend that lawyer money on hygiene for the customers they overcharge every day. This is a global brand behaving like a street goon; anywhere else they’d have apologized. @SalmaButtPMLN
میں پنجاب میں 4600 روپے من آٹا لیکر کھاتا ہوں آزاد کشمیر میں 2000 روپے من ملتا ھے منگلا ڈیم کے ایک یونٹ پر 12 روپے خرچہ آتا آزاد کشمیر والوں کو وہ یونٹ 2 روپے 59 پسیے میں ملتا ھے یہ کون دے رہا ھے اتنا سستا سب کچھ ملنے کا آپکے پاس کیا جواز ھے ؟
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی معروف صحافی مرحوم الطاف حسن قریشی کے اہل خانہ سے تعزیت اور فاتحہ کے لیے ان کے گھر آمد
وزیراعظم نے مرحوم الطاف حسن قریشی کے بیٹے کامران حسن قریشی اور بیٹی کرتبہ مظہر سے تعزیت کی۔ مرحوم کی مغفرت اور بلندی درجات کیلئے دعا کی۔
وزیراعظم نے الطاف حسن قریشی کی صحافتی خدمات کو
سراہا۔
مرحوم ایک اعلیٰ درجے کے انسان اور صحافی تھے، وزیراعظم
مرحوم کی وفات سے صحافت میں ایک نہ پر ہونے والا خلا پیدا ہو گیا ہے۔ وزیراعظم
👀 میں مردہ باد 👀
آج فیروز پور روڈ لاہور پر مائیکل اپنے لوڈر رکشہ پر جاتا دکھا، اظہار راۓ کے لیے موجود گھٹیا ترین حالات میں بھی کیا شاندار طریقہ ڈھونڈا ہے مائیکل نے احتجاج کا۔مجھے سو فیصد یقین ہے کہ عام آدمی سے مکمل طور پر کٹا ہوا “بچہ جمہورا نظام” مائیکل کے یہ فلیکس بھی برداشت نہیں کر پاۓ گا۔ اللہ ہمارے سائکلیں کھینچتے، بوریاں لوڈ کرتے، مزدوری کرتے، کھیت سینچتے، اپنے خاندان کے لیے خواب دیکھتے مائیکلوں کی خیر رکھے، زندہ رہنے کے حالات تو نہیں رہے لیکن شام کے سب پروگراموں میں ملک اونچی اڑان بھرتا ہے ہر روز۔اسی لیے مائیکل نے لکھ دیا کہ سب زندہ باد بس میں مردہ باد۔
سائن بورڈز کا سائز مقرر کرنا تو سمجھ آتا ہے،
لیکن پورے شہر کے بورڈز کو اک ہی رنگ اور ڈیزائن میں جکڑ دینا خوبصورتی نہیں بلکہ بدصورتی اور بصری اذیت ہے
پنجاب حکومت میں یہ جس کا بھی شاہکار خبط ہے اسے داد دینے کے بجائے علاج کی ضرورت ہے
کائنات کے خالق نے اس دنیا کو تنوع اور رنگوں سے سجایا ہے
مختلف زاویوں سے بنایا ہے
یکسانیت حسن کو مٹا دیتی ہے
اس فیصلے نے نہ صرف شہروں کا حسن گہنا دیا ہے بلکہ ڈیزائنرز اور ہنرمندوں کو بے روزگاری کی طرف دھکیل دیا ہے
جب سب کچھ اک جیسا ہی ہونا ہے تو تخلیقی صلاحیتیں کہاں جائیں گی؟
پہلے ہی کاروبار دم توڑ رہے ہیں
وہ فیصلے مت کریں جو عام آدمی کی عام سی زندگی اور رزق پر بھاری ہوں