@UrduVirsa موم کی طرح پگھلتے ہوئے دیکھا اس کو
رت جو بدلی تو بدلتے ہوئے دیکھا اس کو
نہ جانے وہ دعاؤں میں کسے مانگتا ہے
ہاتھ اٹھاتے ہی سسکتے دیکھا اس کو
پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ہم نے
جب مقدر سے الجھتے ہوئے دیکھا اس کو
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مری بات
یا وُسعتِ افلاک میں تکبیرِ مسلسل
یا خاک کے آغوش میں تسبیح و مناجات
وہ مذہبِ مردانِ خود آگاہ و خدا مست
یہ مذہبِ مُلّا و جمادات و نباتات