اگر ہم ان پہ مزید پریشر ڈالیں
تو میرے خیال میں یہ بہت جلد خان صاحب کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل کر سکتے ہیں
مزید پریشر ڈال کے رکھیں
تو بہت جلد خان صاحب کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے
میرے خیال میں ان پر پریشر بڑھ چکا ہے بس مزید پریشر بڑھانے کی ضرورت ہے تو دو سے تین دن کے اندر خان صاحب کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا سکتا ہے
یہ صرف میری ذاتی رائے اور اندازہ ہے۔۔۔۔۔
ڈاکٹر عاصم کی اپیل 🚨
عمران خان کو فوری ریٹینا اسپیشلسٹ کے علاوہ اپنے دیگر طبی مسائل کے مکمل جائزے کے لیے کسی اعلیٰ اسپتال جیسے شفا انٹرنیشنل اسلام آباد، میں فوری اور مکمل طبی معائنے کی ضرورت ہے۔
سوشل میڈیا فرض سمجھ کر آواز اٹھائیں
Jemima Goldsmith has urged Elon Musk to stop suppressing posts on X about her jailed ex-husband Imran Khan, accusing the social media company of “secret throttling”.
Read the full story here: https://t.co/fdtePJTDma
#Pakistan: Imran Khans solitary confinement and inhumane detention conditions must end - UN expert. Prolonged or indefinite solitary confinement is prohibited under int'l human rights law – and when it extends longer than 15 days, it's a form of #torture.
https://t.co/m2Re8Yhyc0
یہ ظلم، جبر اور فسطائیت! سب لکھا جا رہا ہے اور سب یاد رکھا جائے گا۔
وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ کیونکہ میرا رب جس کو چاہتا ہے بادشاہت دے دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ جمہوریت میں کرسی کبھی ایک کے پاس ہوتی ہے تو کبھی دوسرے کے پاس۔
ہمارا ہر ایک قدم آئین اور قانون کے مطابق ہے۔ حقیقی آزادی کی جدوجہد میں ہم نے کبھی قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا۔ اس کے باوجود کچھ دن پہلے عمران خان صاحب کی بہنوں پر تشدد کیا گیا اور ان کو بالوں سے پکڑا گیا۔ کل ان پر سردی کی ٹھنڈی رات میں پانی پھینکا گیا۔ ان کو ایک دفعہ پھر زمین پر گرایا گیا۔ یہ پنجاب کے ضلع راولپنڈی میں اڈیالا روڈ پر کیا گیا، اسی صوبے میں ایک عورت کی جعلی حکومت ہے۔ کل جب ان کی باری ہوگی تو پھر عورت کارڈ کھیلنے والوں کے ساتھ بھی کوئی جواز نہیں ہوگا۔ جو ان کو لائے ہیں اور جن کے دم پر یہ اُچھل رہے ہیں تو ۱۹۴۷ سے لے کر آج تک وہ بچ جاتے ہیں لیکن پہلی دفع ایک سیاسی حکومت (جعلی) ساڑھے ۳ سال سے مسلسل جبر کے تمام ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ عورتوں اور بچوں سے لے کر بوڑھوں تک، ورکر سے لے کر وزیر اعلیٰ تک اور وزیر اعلیٰ سے لے کر سابق وزیر اعظم تک کسی کو بھی نہیں چوڑا گیا۔ ہر ایک بندہ ظلم کا نشانہ بنا۔ ان میں سے ایک بھی نا اینٹی سٹیٹ ہے، نا کوئی مجرم اور نا ہی کرپٹ ہے لیکن تم سب ہو اور پھر برداشت نہیں کر پاؤ گے۔
عمران خان صاحب جعلی کیسز میں ناحق قید ہے۔ انکی اہلیہ بشری بی بی ایک باپردہ غیر سیاسی خاتون بھی نا حق قید ہے۔ اُن کا بھانجا حسان نیازی ناحق سزا کاٹ رہا ہے۔ ان کی تین بہنیں ہر ہفتے روڈ پر ظلم اور جبر کا نشانہ بن رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بدلہ لینے کے لیے پھر کسی جواز کا ہونا یا نا ہونا، رشتہ دار کا سیاست میں ہونا یا نا ہونا، کوئی کیس ہونا یا نا ہونا، عورت کا بیوی ہونا، بیٹی ہونا یا بہن ہونا کوئی ایک چیز بھی کام نہیں آئے گی۔
بس سب لکھا جا رہا ہے اور سب یاد رکھا جائے گا۔
“There is no place in my party for those who play on both sides of the wicket. Such people are the ‘Mir Sadiq’ and ‘Mir Jafar’ of Pakistan Tehreek-e-Insaf. The participation of PTI individuals in the NDU workshop is shameful. On one hand, we are enduring all kinds of hardships, and on the other hand, when our own people socialise with those who oppress us, it causes me deep pain.”
- Imran Khan
#خان_قوم_تیرے_سنگ_رہے_گی
میرے والد کو گرفتار ہوئے 845 دن ہو چکے ہیں۔ پچھلے چھ ہفتوں سے انہیں مکمل بے خبری کے ماحول میں ڈیتھ سیل میں تنہا رکھا گیا ہے۔ ان کی بہنوں کو ہر ملاقات سے روک دیا گیا ہے حالانکہ عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں۔ کوئی فون کال نہیں، کوئی ملاقات نہیں اور زندگی کی کوئی خبر نہیں۔ میں اور میرا بھائی اپنے والد سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کر سکے۔
یہ مکمل اندھیرا کسی حفاظتی پروٹوکول کا حصہ نہیں۔ یہ ایک جان بوجھ کر کی گئی کوشش ہے تاکہ ان کی حالت کو چھپایا جائے اور ہمارے خاندان کو یہ نہ معلوم ہو سکے کہ وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔
واضح رہے کہ پاکستانی حکومت اور اس کے آقاؤں کو میرے والد کی حفاظت اور اس غیر انسانی تنہائی کے ہر نتیجے کی قانونی، اخلاقی اور بین الاقوامی سطح پر مکمل ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔
میں عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہر جمہوری آواز سے اپیل کرتا ہوں کہ فوری مداخلت کریں۔ زندگی کی تصدیق کا مطالبہ کریں، عدالت کے احکامات کے مطابق رسائی یقینی بنائیں، اس غیر انسانی تنہائی کو ختم کریں اور پاکستان کے سب سے مقبول سیاسی رہنما کی رہائی کا مطالبہ کریں جنہیں صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر قید رکھا گیا ہے۔