رکن اسمبلی کہہ رہا ہے کہ تعلیم پنجابی میں ہونی چاہیے ۔ اسپیکر ملک احمد خان مزاق بنارہے ہیں کہ پنجابی میں H²O کو کیا کہیں گے۔ وہی کہیں گے جو چینی ،جرمن ، فرنچ ، ترکش ، اٹالین، اسپینش اپنی مقامی زبانوں میں کہتے ہیں۔
کیا تمہارے پرکھوں کو انگریزی آتی تھی
@K4mi_i میراایک دوست دوبئ میں ویل سیٹل ہے اوقات سے زیادہ پیسہ بناتا ہے جب پاکستان آتا ہے تو اس طرح 4 گارڈ ساتھ چلتے ہیں
اور
ابا سارا دن ٹوٹی 70 پر پھرتا ہے اور لوگوں سے سگریٹ مانگتا ہے اور باقی بھائی چوک میں بنیان پہن کر بیٹھے ہوتے ہیں
غیر قانونی افغان مہاجرین کی پنجاب میں تعداد تشویشناک حد بڑھ چکی ہے یہ لوگ سمگلنگ ناجائز اسلحہ منشیات فروشی بھتہ خوری ٹیکس چوری ڈکیتی دہشتگردی قتل غنڈےگردی لڑائی جھگڑے قبضہ گیری جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہیں بلیک منی کے زور پر پنجاب کے کاروبار بزنس حب مارکیٹس معشیت پر قابض ہورہے ہیں بڑے شہروں میں ڈیموکریٹک گراف بدلنے کی کوشش کررہے ہیں شاملات سرکاری زمینوں جائیدادوں محکمہ اوقاف ریلوے کی پراپرٹیز اور غریب مسکین کمزور لوگوں کے گھروں دکانوں زمینوں پر گروہ جتھے بناکر غیرقانونی قبضے کررہے ہیں جعلی شناختی کارڈز ڈومیسائل پاسپورٹ انتقال بناکر پنجاب میں ضم ہورہے ہیں پاکستان مخالف سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے ان نمک حرام فسادی لوگوں کو پنجاب سے فلفور بےدخل کیا جائے اور افغانستان ڈیپورٹ کیا جائے
وفاقی حکومت پنجاب کو 12 کروڑ آبادی کے حساب سے بھی کم بجٹ دیتی ہے لیکن دوسرے صوبوں کے لوگوں کے پنجاب میں آنے سے آبادی بڑھ کر سولہ کروڑ تک پہنچ چکی ہے یہ لوگ پنجاب میں کاروبار کرتے ہیں تعلیم حاصل کرتے رہتے کماتے کھاتے یہاں پر ہیں پنجاب کے وسائل سہولیات استعمال کرتے ہیں پنجاب کے صوبائی محکموں میں مخصوص کوٹے پر سرکاری نوکریوں پر بھی قابض ہیں چار کروڑ اضافی لوگوں کا بوجھ پنجاب پر ڈال دیا گیا ہے لیکن ان لوگوں کا شمار اپنے صوبوں میں ہی ہوتا ہے پنجاب کے سسٹم پر شو نہیں ہوتا اور ان کے حصے کا بجٹ انکی صوبائی حکومتیں کھا پی کر پنجاب کو گالیاں دے کر عوام کو تسلی کروا دیتی ہے
ان لوگوں کی اکثریت پنجاب سے نفرت تعصب دشمنی رکھتی ہے پنجاب کو گالیاں دینا نقصان پہنچانا پنجاب میں تقسیم کا چورن بیچنا لسانی نفرتوں کو فروغ دینا
اس کے برعکس اندرون سندھ بلوچستان پختون خواہ میں پنجاب کے لوگوں کی تیسرے درجے کے شہری کی حیثیت ہے پنجابی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک نفرت تعصب قتل اغوا کرنا کاروبار بزنس تباہ کرنا گھر زمین جائیدادوں پر قبضے کرنا پنجابی خواتین بچوں لڑکیوں کو ہراساں کرنا
1970 سے لے کر آج تک ہزاروں پنجابیوں کو قتل کیا گیا اور لاکھوں کو بے دخل کیا گیا
قانون نافذ کرنے والے ادارے پورے پاکستان میں پنجاب کے لوگوں کو تحفظ فراہم کرے اور وفاقی حکومت پنجاب کو سولہ کروڑ آبادی کے حساب سے بجٹ فنڈز دے نہیں تو دوسرے صوبوں کے چار کروڑ لوگوں کو اپنے صوبوں تک محدود رکھا جائے پنجاب کوئی عالمی یتیم خانہ نہیں ہے
ٹیلی کام بل کا مسلہ بھی ویسا ہی ہے جیسے محترمہ شزا صاحبہ گھر سے ایم پی اے بننے گئیں الیکشن کمشن نے کہا آپ کو ایم این اے بن چکی ہیں
آپ یہاں سے اندازہ لگا لیجیے اس ملک میں سٹیٹ آف افئیر کیا ہیں سیٹیں کیسے بانٹی جاتی اور یہ دوسروں کے بچوں پر انگلی اٹھاتے ہیں
تھانہ فیروزوالہ میں تعینات کمپیوٹر آپریٹر مبینہ طور پر 30 ہزار روپے لے کر کریمنل ریکارڈ ختم کرنے میں ملوث۔۔ کریمنل ریکارڈ ختم ہو جائے گا پورے پنجاب سے چیک کرا لیں، کمپیوٹر آپریٹر رائے پرویز کی گفتگو
حافظ داکھڑاک
پٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لیٹرکمی عوامی دباؤ کی کامیابی ہےمگرہمارا مطالبہ ہےکہ قیمت 225 روپےفی لیٹر پرلائیجائے،
پٹرولیم لیوی کی کوئی گنجائش نہیں۔پٹرول پرائز کو تین سال کےلیے منجمدکیاجائےتاکہ انڈسٹری کااعتمادبحال ہواورہماری پروڈکٹس عالمی مارکیٹ میں مقابلے پرآسکیں۔
اس سال اپریل میں شہباز حکومت نے ایک دن میں 137 روپے پیٹرول کی قیمت بڑھا دی تھی اگر ایک دن میں بغیر کسی کمیٹی کے 137 روپے لیٹر بڑھ سکتی تو اس وقت 100روپے سے کم کمی سوائے مذاق کے کچھ نہی ہو گا
بیس تیس یا 35 روپے پر حکومت کی تعریف کرنے نا بیٹھ جانا ورنہ پیٹرول کبھی سستا نہی ہو گا اور تین سو سے اوپر ہی رہے گا اسے ہر صورت 260تک واپس لائیں تاکہ غریب کچھ سانس لے سکے
عوام کے شور کا کچھ فائدہ ہوا ہے مگر جب تک جنگ سے قبل کی قیمت نہی لاتے عوام خوش نہی ہو گی اس وقت بھی چالیس روپے فی لیٹر عوام سے زیادہ پیسے لے رہے ہیں
اس پر داد بنتی یا مزمت ؟
جب 137 روپے پیٹرول بڑھا تو بہت شور ہوا اگلے دن 80 روپے کم کرنا پڑا تھا اس لیے خوب شور ڈالیں ہر جگہ لکھیں کسی راتب خور کی کسی خوشامدی پوسٹ کے چکر میں مت آئیں اس قدر اعتراض کریں کہ ان کو جان چھڑانی مشکل ہو اور یہ واپس پیٹرول اصل قیمت پر لائیں اس کے علاوہ کوئی حل نہی ہماری حکومت کے ساتھ اپوزیشن بھی نا اہل ترین ہے
جب بغیر الیکشن لڑے ،، بغیر کوئی کارنامہ انجام دئیے ۔۔ صرف پولیٹیکل بیک راونڈ کی وجہ سے محترمہ شزا فاطمہ جیسے لوگوں کو آئی ٹی منسڑی جیسے بڑے عہدے پلیٹ میں رکھ کر دے دئیے جائیں ۔
تو ایسے میں ملک کے پڑھے لکھے قابل نوجوان ملک چھوڑ کے نہ جائیں تو کیا کریں ؟؟
اب آپ کو سمجھ آ رہی بینظیر انکم سپورٹ کا ساڑھے آٹھ دس ارب روپیہ کہاں جا رہا اور اس کا نام لیتے ہی پی پی والے بے قابو کیوں ہو جاتے ؟
یہ سوشل میڈیا پر لکھنے والے بھی کیا پتہ اسی پروگرام سے تنخواہ لیتے ہوں ؟
کھادا پیتا لاہے دا
باقی احمد شاہے دا
جی جی ، مہاراجہ رنجیت سنگھ پنجاب کے رہنے والے ہر پنجابی کا ہیرو نہیں کیونکہ پنجاب میں احمد شاہ لٹیرے کی باقیات بھی رہتی ہیں۔
جو احمد شاہ گندم پکنے کے وقت حملہ آور ہوتا تھا اور مسلم سکھ کسانوں سے غلہ لوٹ لیتا تھا ۔ اس احمد شاہ کے بچوں کی مہاراجہ رنجیت سنگھ نے خوب درگت بنائی ۔ وہ دن اور آج کا دن کسی احمد شاہئیے کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ گندم لوٹنے آ جائے ۔
ہاں اب بھی لگ بھگ ۷۰ ، ۸۰ لاکھ احمد شاہئے ، پنجاب مین محنت مزدوری کاروبار ضرور کرتے ہیں اور مہاراجہ رنجیت سنگھ انکا ہیرو بلکل بھی نہیں، بلکہ دھرتی زاد پنجابیوں کا ہیرو ہے ۔
شکریہ
@SenatorMushtaq اوہ مولوی صاحب آپ بات کو ہیرو ولن کی طرف لیکر جا رہے ہو ، اچھا فرض کیا رنجیت سنگھ ولن ہے گندا انسان ہے پھر یہ منافق بیغیرتی کا علمبردار پاٹا بوتھا پاٹی لیر پنجابیوں کو رنجیت سنگھ کی اولاد کیوں بول رہا ہے ؟
تم سب لوگ اپس میں ملے ہوئے ہو پنجابیوں کو برا بھلا کہتے ہو
🚨ایک ریٹائر آدمی کئی دنوں سے اپنی پنشن کے سلسلے میں دفتر چکر لگا رہا تھا،
🚨جب کلرک نے کہا کہ بڑے میاں کچھ مُک مُکا کر لیں اور گھر بیٹھ جائیں آپ کا کام ہوجائے گا👇