نقوی صاحب اس شہر پر کچھ رحم کریں۔ اس نے آپ کا ایسا کیا بگاڑا ہے. ویسے میں حیران ہوں سی ڈی اے کے وزیر محسن نقوی صاحب کی خوشنودی/رضا اور انہیں مسلسل خوش اور ٹھیکداروں کو مطمئن کرنے کے لیے ہم سب کو اور کیا کیا بھگتنا ہوگا؟
زرا وزیراعظم شہباز شریف سے لے کر وزرا کی فوج تک بے حسی اور بے رحمی ملاحظ فرمائیں کہ یہ سب خاموش ہیں جو محسن نقوی صاحب کا جب اور جہاں دل چاہتا ہے وہ بغیر کسی ماحول، سبزہ ، پارکس، جنگلات یا فنڈز کی پرواہ کیے بغیر کر گزرتے ہیں۔
موجودہ کنونشن سینٹر جسے سفید ہاتھی قرار دے کر 2014سے بیچنے کی کوشش جاری ہے اور سارا سال خالی پڑا رہتا ہے، اب اسے چھوڑ کر سی ڈی اے
16 ارب روپے کی لاگت سے نیا کنونشن سینٹر بنا رہا ہے۔
چائنا ایکسپو سینٹر جو چین نے بنا کر دیا تھا جہاں ایکسپو اور نمائمشیں ہونی تھیں وہاں وزیروں نے دفاتر بنا لیے۔ نمائش کا کچھ علم نہیں۔
یہ سب بیکار اور ماحول دشمن منصوبے منصوبے اپنی اپنی سوکھی چونچ گیلی کرنے کی گیم ہے جو شہر کے ماحول کو مزید برباد کریں گے۔ پیسہ الگ برباد ہوگا۔
سابق چیرمیں سی ڈی اے رندھاوا جو بربادی کر گئے تھے لاہور سے مشن پاسبل پر لائے گئے نئے چیرمین سہیل اشرف اس بربادی کو آگے بڑھا رہے ہیں ایسے غیرضروری اور بیکار منصوبے منظور کر کے۔
کل کلاں کو پھر وزیرخارجہ خواجہ آصف کہیں گے سرکاری افسران پرتگال جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ خواجہ صاحب بولنا ہے تو اب بولیں۔
عوام کی محنت کی کمائی سے اس سال قرضوں پر ہم نے 8000 ارب سود دینا ہے۔ لوگ بجلی گیس پٹرول مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہیں اور یہاں فضول میں 16 ارب کا بیکار منصوبہ شروع کیا جارہا ہے تاکہ ہم سب اپنی اپنی سوکھی چونچ گیلی کر سکیں۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا ترقیاتی منصوبوں کے نام پر تیس فیصد اپنی چونچ گیلی کرنے پر لگ جاتا ہے۔
کیا کسی میں بھی اس ملک اور عوام کی محبت نہیں رہی کہ ایسے غیرضروری منصوبے پر اتنی بڑی رقم ضائع کی جارہی ہے؟ پہلے بتائیں موجودہ کنونشن سینٹر کیوں خالی پڑا ہے اور نج کاری کی لسٹ پر موجود رہا ہے۔
یہ سرکاری بابوز ایسے بیکار فیصلے کر کے ملک اور عوام کے وسائل ضائع کررہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کو یہ بیکار منصوبہ سکریپ کرنا چاہیے۔
وزیرماحولیات ڈاکٹر مصدق ملک اور وزیر پلاننگ برائے ناروال بھی خوفزدہ نہ ہوں اور سامنے آئیں اور یہ بیکار کے منصوبے اور نیا سفید ہاتھی تعمیر ہونے سے پہلے رکوائیں۔
حیرانی ہے محض کوئی بھی بڑا عہدہ لینے کے لیے یہ سرکاری افسران / ڈی ایم جی والے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں بغیر اس کا فائدہ نقصان دیکھے؟
@CMShehbaz@MohsinnaqviC42@AyazSadiq122@A_Qadir_Patel@AAliZardari@BBhuttoZardari@AseefaBZ@MIshaqDar50@HinaRKhar@sharmilafaruqi@PalwashaKhan18@JunaidAkbarMNA@MaryamNSharif@SyedAliZafar1@KhSaad_Rafique@KhawajaMAsif@SyedAghaPPP@SohailAshrafGor@CDAthecapital@TararAttaullah@betterpakistan@SanaMastiKhel@RanaSanaullahPK
پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (PKLI) نے شعبہ طب میں ایک اور تاریخی اور عالمی اعزاز اپنے نام کرتے ہوئے 24 گھنٹے کے دوران 10 مریضوں کے کامیاب جگر ٹرانسپلانٹس مکمل کیئے ہیں- پاکستان میں پہلی بار دنیا کی سب سے بڑی "ٹین وے لیونگ ڈونر جگر ٹرانسپلانٹ سویپ چین" کامیابی سے مکمل کی گئی، جس کے تحت جدید طبی حکمتِ عملی کے ذریعے 10 ڈونرز اور 10 مریضوں کے درمیان جگر منتقل کیئے گئے-
اس تاریخی کامیابی کیلئے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (PKLI) انتہائی داد و تحسین کا مستحق ہے-
میرا فرائیڈے کالم /رئوف کلاسرا
سمارٹ فون/آئی فون پر PTA ٹیکس کیوں؟
پچھلے سال ایم این اے قاسم گیلانی نے مہم چلائی کہ سمارٹ فون پر ٹیکس کم کیا جائے۔ یہ معاملہ بھی سلیم مانڈوی والا کی سینٹ فنانس کمیٹی میں بھی آیا‘ جہاں ایف بی آر کے افسران موجود تھے۔
چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال کو ذہین اور حاضر جواب افسر سمجھا جاتا ہے۔ بعض اوقات لگتا ہے کہ ان کے پاس ہر سوال کا جواب موجود ہوتا ہے‘ لہٰذا وہ ہنستے ہنستے اور مذاق مذاق میں اپنی بات منوا جاتے ہیں۔
وہ سمارٹ فونز پر ٹیکس کے حامی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو شخص چار لاکھ روپے کا فون خرید سکتا ہے‘ وہ ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے ٹیکس بھی دے سکتا ہے۔
اجلاس سے باہر نکلے تو میرے ساتھ گپ شپ ہونے لگی۔
میں نے کہا: آپ کو علم ہے کہ اس ٹیکس کی وجہ سے ہماری نوجوان نسل کتنی پیچھے رہ جائے گی؟ آپ چند ارب روپے ٹیکس تو اکٹھا کر لیں گے لیکن پاکستانی نوجوان جدید دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ 2018ء میں ڈالر ایک سو روپے کے قریب تھا۔ ایک ہزار ڈالر والا سمارٹ فون ایک لاکھ دس ہزار یا ایک لاکھ بیس ہزار میں مل جاتا تھا۔ اب ڈالر 280روپے کا ہے۔ مناسب سا جدید فون بھی تین لاکھ میں پڑتا ہے۔
اوپر سے حکومت نے امپورٹڈ فون پر ٹیکس لگا دیا‘ جو ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے تک ہے۔ مطلب یہ کہ ایک جدید فون اب پانچ سے چھ لاکھ روپے تک جا پہنچا ہے۔
اب دنیا سمٹ کر سمارٹ فون میں آ گئی ہے۔ اسی فون کے ذریعے آپ نے سب کچھ سیکھنا اور آگے بڑھنا ہے۔ اب جدید فون عیاشی نہیں رہا۔
بھارت میں متوسط طبقے کے تقریباً ہر فرد کے پاس سمارٹ فون موجود ہے۔ ایک تو وہاں ڈالر 72 روپے کا ہے (اب شاید 95 روپے کے قریب ہے)‘ یوں انہیں آئی فون ایک لاکھ روپے سے بھی کم میں پڑتا ہے جبکہ ہمیں تقریباً تین لاکھ روپے کا فون اور ٹیکس ملا کر پانچ چھ لاکھ روپے کا۔
اب جبکہ آئی فون بھارت میں بن رہے ہیں‘ پچھلے سال 70فیصد آئی فون بھارت میں تیار ہوئے۔ آپ نے اپنے نوجوانوں کو بھارت کے مقابلے میں لانے کے بجائے الٹا یہ فون ان کی پہنچ سے باہر کر دیا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق اس وقت سوا لاکھ بھارتی نوجوان امریکی ٹیک کمپنیوں میں کام کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کے صرف دس ہزار نوجوان ہیں۔
وجہ یہی ہے بھارت کا نوجوان جدید ٹیکنالوجی سے جڑا ہوا ہے جس میں اب جدید سمارٹ فون کا اہم کردار ہے۔
آپ چند ارب ٹیکس کما لیں لیکن بھارت نے اپنے نوجوانوں کے ذریعے پوری دنیا کی ٹیک مارکیٹ پر قبضہ جما رکھا ہے۔ آپ سمارٹ فون پر ٹیکس لگا کر اسے مزید مہنگا کر دیں اور بھارت سمارٹ فونز کی فیکٹریاں لگا کر اپنے ایک لاکھ روپے سے بھی کم میں اپنے نوجوانوں فراہم کر رہا ہے۔
آپ اپنے نوجوانوں کو خود ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پسماندہ کر رہے ہیں کیونکہ وہ مہنگے فون خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے جو جدت کی حیران کن شکل ہے۔ اب ایسے ایسے حیران کن فیچرز آگئے ہیں جو آپ کی اس دنیا میں ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔
میرا اپنا فون تین سال پرانا ہے‘ میں بھی اب نیا فون نہیں خرید سکتا کیونکہ دو لاکھ روپے ٹیکس کہاں سے لائیں؟
راشد لنگڑیال بولے: آپ کی باتیں مجھے تو سمجھ آ رہی ہیں‘ آپ کسی دن ہمارے افسران کو بھی یہی باتیں سمجھائیں۔
چھ ماہ سے اوپر گزر گئے لیکن وہ دن کبھی نہیں آیا کہ ہم ایف بی آر کے افسران کو سمجھا پاتے کہ اپنے نوجوانوں کو اس جدید دنیا میں چند ارب روپوں کی خاطر کنویں کا مینڈک نہ بنائیں۔
مہنگے ڈالر کی وجہ سے جدید سمارٹ فونز ان نوجوانوں کی ریچ سے پہلے ہی نکل گئے ہیں اوپر سے ڈیرہ سے دولاکھ تک کا ٹیکس۔۔۔ کہاں سے لائیں۔
@KasimGillani@naveedqamarmna@Rashidlangrial@CMShehbaz@MIshaqDar50@BilalAKayani@HinaRKhar@ShaziaAttaMarri@sharmilafaruqi
اور ناظرین وزیراعظم شہباز شریف سوئٹزلینڈ پہنچ گئے ہیں اور سوئس حکام کے مطابق پاکستانی وفد امریکہ اور ایران درمیان ثالثی کیلئے تشریف لارہا ہے جو امن معاہدہ کے اگلے مرحلہ کو یقینی بنائے گا
آج کم از کم معید حرامزادے کو چلو بھر پانی تلاش کرنا چاہیے
کیا میاں @NawazSharifMNS اور @MaryamNSharif کے علم میں ہے کہ مری کے دیہی علاقوں میں رہنے والوں کی بڑی تعداد کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ مری کے ہر گاؤں میں پانی کی فراہمی کے لیے ایک تفصیلی سروے کی ضرورت ہے تاکہ موجودہ ذخائر اور قلت کا اندازہ لگا پانی کی سکیمیں بنائی جائیں۔
India petrol ( 20% blended with cheap ethanol) -- 334 PKR/Litre
Bangladesh petrol -- 325 PKR/litre
Sri Lanka petrol--412 PKR/Litre
Denmark petrol -- 675 PKR/Litre
Pakistan petrol -- 299 PKR/Litre
US despite self sufficient-- 294 PKR/Litre
UK --568 PKR/litre #Pakistan
درخواست
بخدمت جناب چیف جسٹس صاحب،
سپریم کورٹ آف پاکستان، اسلام آباد۔
عنوان : جب مرجائیگی مخلوق توکیا انصاف کروگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جناب عالی،
گذارش ھے کہ ملک بھر میں تمام الیکٹرک سپلأيز کمپنیز سے درج ذیل 15 نکاتی ٹیکسز کی وضاحت طلب کی جاۓ۔ شکریہ۔
(1). بجلی کی قیمت ادا کر دی، تو اس پر کون سا ٹیکس؟
(2). کون سے فیول پر کونسی ایڈجسٹمنٹ کا ٹیکس؟
(3). کس پرائس پہ الیکٹریسٹی پہ کون سی ڈیوٹی؟
(4) . کون سیے فیوئل کی کس پرائس پر ایڈجسٹمنٹ؟
(5). بجلی کے یونٹس کی قیمت "جو ھم ادا کر چکے" پر کونسی ڈیوٹی اور کیوں؟
(6). ٹی وی کی کونسی فیس، جبکہ ھم الگ سے پیسے دے کر کیبل استعمال کرتے ہیں؟
(7). جب بل ماہانہ ادا کیا جاتا ھے، تو یہ بل کی کواٹرلی ایڈجسٹمنٹ کیا ھے؟
(8). کون سی فنانس کی کاسٹ چارجنگ؟
(9). جب استعمال شدہ یونٹس کا بل ادا کر رھے ہیں، تو کس چیز کے ایکسٹرا چارجز؟
(10). کس چیز کے اور کون سے further "اگلے" چارجز؟
(11). ود ھولڈنگ چارجز کس شے کی؟
(12). میٹر تو ہم نے خود خریدا تھا، اسکا کرایہ کیوں؟
(13). بجلی کا کون سا انکم ٹیکس؟
(14) جب ہر ماہ بلنگ ہو رہی ہے تو فکس چارجز کس بات کے
(15) اگر گزشتہ چھ ماہ میں ایک دفعہ بھی آپ کی یونٹ 200 کو ٹچ کر جاۓ تو اگلے چھ ماہ آپ کے یونٹ کا ریٹ پہلے 200 یونٹ والا ہی ھو گا جبکہ ہر مہینے ادائیگی کرنے پر بار بار ادائیگیاں!
یہ کون سا ظلم کا فارمولا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
منجانب؛
*عام شہری*
صارفینِ بجلی، آل پاکستان۔.
فرائڈے کالم/رئوف کلاسرا
خواجہ آصف کے لہجے میں خوف کیوں؟؟
گزشتہ روز شاید چار برسوں میں پہلی دفعہ اسمبلی میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی آواز میں کچھ خدشات اور خوف محسوس ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمنٹ کو کچھ ہوا تو سب ذمہ دار ہوں گے اور اس کا نقصان بھی سیاستدانوں ہی کو اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارے (پارلیمنٹ) پر سب سے زیادہ کاری وار اور شدید ضربیں خود سیاستدانوں نے لگائی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ اب تک ان نقصانات کی تلافی کرتا رہا ہے لیکن ہماری طرف سے بھی غلطیاں ہوئیں‘ اس لیے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ اگر کچھ ہوا تو کسی ایک پارٹی کا نہیں بلکہ سب کا نقصان ہو گا۔ ہمیں خود کو مضبوط رکھنا ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی والوں سے کہا کہ آپ احتجاج ضرور کریں‘ تقریریں بھی کریں لیکن یہ کام دس پندرہ منٹ کریں اور پھر اس ہاؤس کو چلنے دیں کیونکہ اسی میں سب کا فائدہ ہے۔ جب کارروائی متاثر ہوتی ہے تو ہم سب مل کر اس پارلیمنٹ کو کمزور کرتے ہیں۔
خواجہ آصف کے اس خوف کے پیچھے پچھلے چند دنوں سے اسلام آباد میں گردش کرنے والی وہ خبریں ہیں جن کے مطابق شاید مقتدرہ موجودہ سیٹ اَپ سے زیادہ خوش نہیں۔ دیگر طبقات بھی کسی حد تک ناراض نظر آتے ہیں۔ چار سال مکمل ہو چکے اور شہباز شریف حکومت پانچواں بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے۔
خواجہ آصف کو یہ طعنہ نہیں دیا جا سکتا کہ وہ پارلیمنٹ کو سنجیدگی سے نہیں لیتے رہے‘ جس کی آج انہیں اچانک فکر لاحق ہو گئی۔ خواجہ صاحب ان چند وزیروں میں سے ہیں جو باقاعدگی سے پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں نظر آتے ہیں‘ ورنہ بیشتر وزرا تو کبھی کبھار ہی دکھائی دیتے ہیں۔ وزیروں کے نہ آنے کی ایک بڑی وجہ وزیراعظم کا پارلیمنٹ کو سنجیدگی سے نہ لینا ہے۔
ماضی میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ہی تھے جو ہر سیشن میں خود بیٹھتے اور اگر وقفۂ سوالات میں کوئی وزیر جواب نہ دے پاتا تو جواب بھی وہ خود دیتے تھے۔ ان کے بعد تقریباً تمام وزرائے اعظم چھ چھ ماہ تک پارلیمنٹ نہیں آئے۔ شہباز شریف صاحب پچھلے سال بجٹ والے دن آئے تھے اور ممکن ہے آج بھی بجٹ پیش ہونے پر سیشن میں آئیں اور پھر شاید اگلے سال ہی پارلیمنٹ کا درشن ہو۔خواجہ آصف جب یہ باتیں کر رہے تھے کہ شاید پارلیمنٹ پر کوئی نیا آسمان گرنے والا ہے اور اس کا نقصان سب کو ہوگا تو ان خبروں میں کچھ صداقت محسوس ہونے لگی کہ واقعی سب ٹھیک نہیں چل رہا۔
کچھ دن پہلے میرے پروگرام میں فیصل چودھری صاحب موجود تھے۔ وہ وزیروں کے حوالے سے کچھ کہنے لگے تو میں نے کہا کہ میری اطلاع یہ ہے کہ شاید عام وزیروں کی جگہ ٹیکنوکریٹس کو آگے لایا جائے گا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے متوقع ٹیکنوکریٹس نے ٹی وی چینلز اور پوڈکاسٹس میں اچانک انٹری ڈال دی تھی اور موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ان میں ماہرِ معیشت شیرانی صاحب کے علاوہ سابق گورنر سٹیٹ بینک عشرت حسین بھی پیش پیش ہیں۔ شبر زیدی بھی آئے روز معاشی پالیسیوں کا پوسٹ مارٹم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
سابق وفاقی سیکرٹری احمد نواز سکھیرا اور سابق نگران وزیرِ تجارت گوہر اعجاز بھی معاشی محاذ پر کچھ سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ سکھیرا صاحب کے پاس گورننس کا طویل تجربہ ہے۔ شاید وہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے واحد افسر تھے جو مسلسل نو برس تک وفاقی سیکرٹری رہے‘ جن میں تجارت‘ نجکاری اور کابینہ ڈویژن جیسی اہم وزارتیں شامل تھیں‘ اور ان کی اچھی ساکھ رہی ہے۔ انہوں نے حال ہی میں ایک شیڈو بجٹ تیار کرکے عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔ عمومی طور پر شیڈو بجٹ تیار کرنے کا کام اپوزیشن جماعتیں کرتی ہیں لیکن پاکستان میں سیاسی جماعتیں ایسے سنجیدہ کاموں سے دور رہتی ہیں‘ لہٰذا سکھیرا صاحب جیسے ٹیکنوکریٹ نے پہلی مرتبہ شیڈو بجٹ تیار کرکے مغربی دنیا کی ایک اہم روایت کو زندہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
حکومت کو لگتا ہے سب اچھا چل رہا ہے تو پھر خواجہ آصف کی تقریر میں خوف کس بات کا ہے؟
ململ کالم لنک
👇
https://t.co/Gxw2ZP70al
@roznamadunya@KhawajaMAsif@KhSaad_Rafique@CMShehbaz@TararAttaullah@MIshaqDar50@AyazSadiq122@ansukhera@JunaidAkbarMNA@BarristerGohar@Ali_MuhammadPTI@SyedMusaGillani@YRGillani