جسٹس علی باقرنجفی کوخراج تحسین جنہوں نےچھٹیاں منسوخ کرکے2 دن2رات مسلسل پہرا دیا،کاغذات نامزدگی میں رکاوٹوں اغواتشددحکومت گردی کوروکا،
بیرسٹر @SalmanKNiazi1 انکی ٹیم بھی عمران خان @ImranKhanPTI کی ہدایت پرمتحرک رہی،اپنے ٹکٹ کی قربانی دیکر دیگر راہنماؤں کی مدد کی
“ان تین دونوں میں آپ نے جو ہمارا استقبال کیا ہے وہ ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔۔ہم نے لوریوں میں اپنے آباؤ اجداد کے قصے سنے ہیں۔۔اس شاندار استقبال کے بعد بھی بول رہے ہیں کہ ہم پرامن طور پر لا پتہ افراد کے لئیےآئے ہیں”
المیہ یہ ہے کے ابھی تک بہت سی وکلا اور میڈیا والے یہ سمجھتے ہیں کہ مقدمہ عمران خان پہ چلُ رہا ہے! وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس وقت وہ اور سپریم کورٹ آف پاکستان دونوں تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہیں! سپریم کورٹ ایک آئینی عدالت ہے، یہ Constitutional Court ہے، اس کا بنیادی فریضہ پاکستان کے آئین کا دفاع ہے، صاف شفاف الیکشنُ جس میںُ پاکستانی عوام آزادی سے اپنے مستقبل کا دفاع کر سکیں کورٹ کی زمہ داری ہے! عدالت تاریخ کے کٹہرے میں کھڑی ہے! عدالت مؤرخ کو کیا جواب دے گئی؟ https://t.co/psNEkK7rZe via @YouTube
یہ لو ایک اور ثبوت سامنے آگیا
این اے 176 سے تحریک انصاف کے امیدوار جمشید دستی کے کاغذات نامزدگی وصول کرنے سے انکار کر دیا گیا
خاموش نہ رہیں ان سبکو ایکسپوز کریں پھیلائیں
تحریک انصاف کو بلے کی بجائے انتخابی نشان گھڑی دیدی جائے۔۔مسلم لیگ
اور ہمیں شیر کی بجائے ایون فیلڈ فلیٹ،ٹی ٹی رسید یا ترازو کا پلڑا دیدیا جائے جس کے اوپر لکھا ہوا ہو کہ “ساڈی گل ہو گئی اے”
لاہور ہائیکورٹ نے قیدی حسان نیازی کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی،
آرمی ایکٹ میں کوئی ایس شق نہیں کہ انڈر ٹرائل ملزم الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا اگر حسان نیازی الیکشن میں حصہ لینا چاہیں تو کمانڈنگ افسر انہیں دستخط کرنے کی اجازت دے۔
جسٹس علی باقر نجفی
پی ٹی آئی کے سابق ایم این اے بلال ورک کو پنجاب پولیس نے اس وقت وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا 🚨🚨🚨🚨
جب وہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے گئے تھے۔ اس کے بھائی کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ پنجاب پولیس کوئی مقدمہ درج نہیں کر رہی اور بلال ورک کو کھلے عام کہہ دیا ہے کہ وہ اچھوت ہیں۔ کیا یہ 'لیول پلےنگ فیلڈ' ہے؟ پی ٹی آئی کے امیدواروں پر وحشیانہ تشدد کیا جا رہا ہے، ا
انکے آنسو بتا رہے ہیں کہ ریاست انکے ساتھ کیا کر رہی ہے۔۔اگر ریاست ماں جیسی ہو تو انکی آنکھوں میں آنسووں نہ ہوں لوگ دس بیس سال سے لا پتہ نہ لوگوں کے لئیے
بلوچستان سے چل کر یہاں نہ آئیں ۔۔
سنا تھا ریاست ماں جیسی ہوتی ہے لیکن پچھلے ڈیڑھ سال میں قوم نے جو تماشا دیکھا اس سے قوم کے اعتماد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔اغوا، غیر قانونی گرفتاریاں، عورتوں اور بچوں کی توہین، بزرگوں پر ظلم اور چادر اور چار دیواری کا تقدس جس طرح پامال ہوا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس جدوجہد میں ڈٹ کر کھڑے رہنے والوں کو قوم یاد رکھے گی۔
#ReleasePoliticalPrisoners
#PakistanUnderFascism
نواز شریف عمر کے اس آخری حصے میں جس طرح کا الیکشن لڑ رہے ہیں اسے 40 سال سے زائد سیاست کرنے والے کسی بھی سیاستدان کا بدترین انجام ہی کہا جا سکتا ہے۔یہ الیکشن نواز شریف کی سیاست کے منہ پر ایسی کالک ملے گا جسکی سیاہی سے تاریخ کی کتابوں کے کئی باب لکھے جائیں گے۔ عبرتناک
عمران خان اور تحریک انصاف مبارکباد کے مستحق ہیں! پاکستان کی تمام تر تاریخ میں کبھی کسی سیاسی جماعت نے قانونی دائرے میں رہتے ہوے، اندرونی اور بیرونی طاقتوں کا اتنی جرات اور مستقل مزاجی سے مقابلہ نہیں کیا! اور تمام تر نامساعد حالات اور ظلم کے باجود جمہوریت اور الیکشن پہ اعتماد برقرار رکھا! اور جانتے بوجھتے کے ریاست کی تمام تر طاقت الیکشن کو رگ Rigging کے لئے استعمال کی جا رہی ہے، پھر بھی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا، اس کی نظیر نہیں ملتی! ہمت مرداں مدد خدا! https://t.co/izuo4hOnNO via @YouTube
سیالکوٹ پولیس اپنا راگ الاپ رہی،خواجہ آصف اینڈکمپنی اپنی بولیاں بول رہی مگر کسی کو بھی یہ رتی بھر شرمندگی نہیں کہ ایک والدہ کی بےعزتی ہوئی،بہن،بیٹیاں ہراساں ہوئیں،یہ ذہنوں میں رہےاگر آج عثمان ڈار کی والدہ کی بےعزتی پر یہ گندی سیاست ہو رہی ہےتو کل کوئی والدہ محفوظ نہیں رہےگی۔۔
تحریک انصاف کے ٹکٹ کے خواہش مند افراد کیلئے اہم ہدایات
8 فروری کے انتخابات کے ٹکٹس اگلے دو ہفتوں میں فائنل ہوں گے، اگر آپ تحریک انصاف کا ٹکٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو مندرجہ ذیل نکات پر عمل کریں
1: 22 دسمبر کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ ہے- اس سے پہلے فارم ECP سے حاصل کریں اور کسی ماہر وکیل کی خدمات حاصل کر کے کاغذات جمع کروائیں۔ یاد رہے کہ کاغذاتِ حاصل کرنے یا جمع کروانے یا سکروٹنی کیلئے آپ کا اپنا جانا ضروری نہیں ہے۔
2: آپ قومی اسمبلی کا الیکشن کسی بھی صوبے سے لڑ سکتے ہیں، البتہ صوبائی اسمبلی کے حلقے میں حصہ لینے کیلئے آپکے پاس اسی صوبے کا ووٹر ہونا لازمی ہے-
3: آپ کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ (Proposer & Seconder) سب سے اہم ہیں-
ان کا متعلقہ حلقے کا ووٹر ہونا ضروری ہے- اس سلسلے میں آپ ECP سے ان کا ووٹر سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں-اور سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ جب تک آپ کے کاغذات کی سکروٹنی نہیں ہو جاتی آپ نے ہر صورت اپنے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کی حفاظت کرنی ہے۔
اگر آپ کے حلقے کے وکیل ہوں تو سب سے بہتر ہے-
4: صرف اپنے نہیں اپنے ساتھ وفادار اور مضبوط کورنگ (covering) امیدواران کے کاغذات بھی انتہائی احتیاط سے جمع کروائیں- تاکہ کسی شرارت کی صورت میں بیک اپ موجود ہو-
5: چونکہ ٹکٹ جمع کروانے کی تاریخ 11 جنوری ہے اس لیے کاغذات نامزدگی حاصل اور جمع کرتے وقت آپ کو یہ بتانے کی ہرگز ضرورت نہیں کہ آپ نے کس جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنا ہے-
6: اثاثہ جات (assets) اور قرض، ٹریولنگ ریکارڈ، ٹیکس ریکارڈ وغیرہ انتہائی احتیاط سے چیک کر کے کاغذات جمع کروائیں تاکہ کوئی کمی نہ رہے-
7: اگر آپ کو اپنے اوپر ہونے والے نامعلوم کیسز یا ٹیکس نوٹسز وغیرہ کا پتہ نہیں تو اس حوالے سے متعلقہ ہائیکورٹس میں رٹ کریں اور اس رٹ کی کاپی اپنے کاغذات کیساتھ لگا دیں اور ساتھ لکھنا ہے کہ میری تمام معلومات کے مطابق (Best of my knowledge) مجھ پر یہ فلاں فلاں کیسز ہیں۔
نوٹ: الیکشن کے طریقہ کار کے ماہرین اور اور حلقے کے اچھے اور تگڑے وکلأ کو اپنی ٹیمز میں کا لازمی جزو بنائیں-
نعیم حیدر پنجوتھہ،