سنا ہے کہ کل اسپین اور ارجنٹینا فٹبال ورلڈ کپ کا فائنل کھیلنے جا رہے ہیں۔ اسپین کا نام سنتے ہی علامہ اقبال کی نظم "ہسپانیہ" یاد آ گئی۔
#ArgentinaVsEspaña
احمد فراز
بزبان شاعر
دل سے ہوئی ہے پھر تیرے بارے گفتگو
تَر آنسوؤں سے دیدہ و داماں کیے ہوئے
اے عشق ہم سے اور بھی ہونگے زمانے میں
اچھے بھلے گھروں کو بیاباں کیے ہوئے
وعدہ کیا تھا اُس نے کسی شام کا کبھی
ہم آج تک ہیں گھر میں چراغاں کیے ہوئے
ترکِ وفا کہ بعد ہوس اختیار کی
اس کاروبار میں وی ہیں نقصاں کیے ہوئے
جانِ فراز مرگِ تمنا کے باوجود
دل بھولتا نہیں ترے احساں کیے ہوئے
فرض کرو ہم اہل وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں
فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں
فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو
فرض کرو ابھی اور ہو اتنی آدھی ہم نے چھپائی ہو
فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ڈھونڈھے ہم نے بہانے ہوں
فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے مے خانے ہوں
فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا جھوٹی پیت ہماری ہو
فرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پر بھاری ہو
فرض کرو یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈھونگ رچایا ہو
فرض کرو بس یہی حقیقت باقی سب کچھ مایا ہو
دیکھ مری جاں کہہ گئے باہو کون دلوں کی جانے 'ہو'
بستی بستی صحرا صحرا لاکھوں کریں دوانے 'ہو'
جوگی بھی جو نگر نگر میں مارے مارے پھرتے ہیں
کاسہ لیے بھبوت رمائے سب کے دوارے پھرتے ہیں
شاعر بھی جو میٹھی بانی بول کے من کو ہرتے ہیں
بنجارے جو اونچے داموں جی کے سودے کرتے ہیں
ان میں سچے موتی بھی ہیں، ان میں کنکر پتھر بھی
ان میں اتھلے پانی بھی ہیں، ان میں گہرے ساگر بھی
گوری دیکھ کے آگے بڑھنا سب کا جھوٹا سچا 'ہو'
ڈوبنے والی ڈوب گئی وہ گھڑا تھا جس کا کچا 'ہو'
ابنِ انشاء
جھوٹ کہتے ہیں کہ آواز لگا سکتا ہے
ڈوبنے والا فقط ہاتھ ہلا سکتا ہے
اور پھر چھوڑ گیا وہ جو کہا کرتا تھا
کون بدبخت تجھے چھوڑ کے جا سکتا ہے
راستہ بھولنا عادت ہے پرانی اس کی
یعنی اک روز وہ گھر بھول کے آ سکتا ہے
شرط اتنی ہے کہ تو اس میں فقط میرا ہو
پھر تو اک خواب کئی بار دکھا سکتا ہے
آنکھ بنتی ہے کسی خواب کا تانا بانا
خواب بھی وہ جو مری نیند اڑا سکتا ہے
اس نے کیا سوچ کے سونپا ہے کہانی میں مجھے
ایسا کردار جو پرده بھی گرا سکتا ہے
میرے رزاق سے کرتی ہے مری بھوک سوال
کیا یہیں رزق کے وعدے کو نبھا سکتا ہے
تم نہ مانو گے مگر میرے چلے جانے پر
اک نہ اک روز تمہیں صبر بھی آ سکتا ہے
ڈاکٹر ساجد رحیم