چل جھوٹی "
آج جس وقت سپریم کورٹ میں مریم نواز شریف اپنے جیل میں قید ہونے کے دکھ سنا رہی تھیں کہ "میری تیرہ سالہ بیٹی جب ملنے آتی تھی ' روتے ہویے جاتی تھی" تو عین اس وقت پنجاب کی جیل میں قید ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سے لڑ رہی تھی ' صنم جاوید اور فلک جاوید محض سیاسی بغض میں مہینوں سے جیل میں قید تھیں اور ایمان زینب مزاری محض ایک ٹویٹ پر جیل میں قید چیف منسٹر کی منافقت کو منہ چڑھا رہی تھی -
جس وقت مریم نواز جیلوں میں اصلاحات جیسے کہ قیدیوں کیلئے وڈیو کالز ' خاندان سے ملاقات کیلئے الگ کمروں کا ذکر کر رہی تھیں ؛ اس وقت پنجاب کی ہی ایک اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے سات ماہ سے اپنے گھر والوں سے نہیں ملا تھا - اس کے بچوں سے اسکی بات اور اس کی بہنوں سے اسکی ملاقات پر پابندی چیخ چیخ کر اس اداکاری کا پردہ فاش کر رہی تھی -
جس وقت مریم نواز یہ کہ رہی تھیں کہ جیل میں قید چاہے کوئی میرا مخالف ہی کیوں نہ ہو ' بنیادی انسانی حقوق پر اس کا حق ہے ' اس وقت جیل میں قید بشری بیبی اپنی بیمار آنکھ پر ہاتھ رکھے اپنے بنیادی انسانی حقوق چھن جانے پر اس جھوٹ اور مکاری پر مسکرا رہی تھیں -
اس تقریر کو سننے والے سامنے بیٹھے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحیی آفریدی کو بھی خوب معلوم تھا کہ یہ سب جھوٹ ' بکواس ' کوڑ اور کذب ہے ' پر وہ بھی اپنی تنخواہ والی ڈیوٹی پوری کر رہے تھے یعنی سر ہلا رہے تھے - اور اس ہال میں موجود ہر چیز ہر در و دیوار ہر کرسی و محراب سمیت ہرشخص تقریر کے دوران جس طرح مسکرا رہا تھا مجھے لگ رہا تھا کہ زبان حال سے جیسے کہ رہا ہو
"چل جھوٹی "
--------------------------------------