فوج بلوچستان میں چھاونیوں تک محدود ہے ، فوجی افسران کے اہلخانہ پنجاب اور سندھ کی چھاونیوں میں رہتے ہیں ، علیحدگی پسند کھلے عام شہروں میں پھرتے ہیں ، عوام ان کے ہاتھ چومتے ہیں ، فوج اپنے مرنے والے سپاہیوں کی خبر اور تعداد چھپاتی ہے۔
یہ ہارڈ سٹیٹ ہے۔ اس ملک کے پاس سات لاکھ فوج ہے۔ یہ اسی فیصد بجٹ کھاتے ہیں۔ یہ 800 ارب پنشن کھا جاتے ہیں۔ یہ چار مارشل لاء لگا چکے ۔ یہ انکی حالت بھی ہے اور اوقات بھی۔
چھی چھی چھی چھی
گستاخی معاف ، ایک بار پھر معاف ۔ طاقتور سے جنگ تو نبی کا نواسہ نہیں جیتا تھا عمران خان تو شے ای کوئی نہیں اتنی جلدی کیسے جیت جائے گا۔ آپ کو سر جھکا کر لڑنا ہے اور لڑتے چلے جانا ہے۔ گیارہ مہینوں سے عمران خان سے کسی کی ملاقات نہیں آگے وہ کونسا معجزہ ہوگا کہ رہائی تو بہت دور ملاقاتیں ہی ہوجائیں گی۔
آپ نے ابھی بہت سفر طے کرنا ہے۔ بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ ابھی پچھلے سال آپ جنگ کے نام پر غاصب فوج کے ساتھ تھے۔ ابھی چھ مہینے پہلے آپ ثالثی اور عالمی پذیرائی پر پھڑک رہے تھے ، تین مہینے پہلے آپ سعودی دفاعی معاہدے کی سعادت پر قربان تھے۔ ابھی آپ کو بہت ساری دیر بہت زیادہ وقت لڑنا ہے۔
ایک بار پھر گستاخی معاف کہ طاقت کے سامنے طاقت ہی چلتی ہے جیسے بنگالیوں کی چلی جیسے بلوچ چلا رہے ہیں۔ گستاخی معاف طاقت کے سامنے کمزور حسین بھی بے بس تھے۔ پھر جب حسین کا کوئی نام لیوا غالب آیا تو طاقت ہی والا مختار تقفی آیا۔ گستاخی معاف۔
محمود اچکزئی کی جانب سے عمران خان پر تشدد کے خدشات اور پھر تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کی جانب سے عمران خان سے صلاح و مشورے اور اس سے ملاقات کی شرط کی بجائے خود ہی آئینی ترمیم کو ووٹ دینے کا فیصلہ مائنس عمران خان کے دو مختلف اسباب ہیں۔اس پر انصافیوں کا کمزور ردعمل مایوس کن ہے۔ آپ کو بہت زیادہ اِدھر اُدھر الجھا دیا گیا ہے۔ آپ کو پلٹنے کی ضرورت ہے۔
میں نے عمران خان صاحب سے بہت ساری باتیں سیکھیں - ایک بات جس پر ارشد شریف شہید اور عمران خان صاحب دونوں یقین رکھتے ہیں وہ ہے کہ اگر آپ سچے ہیں تو اپنا پورا سچ سب کے سامنے رکھیں۔اور اس چیز سے مت گھبرائیں کہ اپنے اور پرائے کیا کہتے ہیں۔ پوری دنیا بھی دشمن ہو جائے سچ کو مت چھوڑیں۔ دونوں کو بولنے سے بند کروانے کی پوری کوشش کی گئی۔ ایک نے جان دیدی۔ دوسرا مشکل ترین جیل قید وبند کاٹ رہے ہیں۔ لیکن سچ سے پیچھے نہیں ہٹے۔
ہم شائید عمران خان اور ارشد شریف تو نہیں بن سکتے۔ لیکن سیکھ تو سکتے ہیں۔ اپنے جیسی کوشش تو کر سکتے ہیں۔
اندر کے شیطان کو اگر نہیں پہچانوں گے تو باہر کے شیطان سے نہیں لڑ سکو گے۔
پاکستان میں امن کے لیے افغانستان کیساتھ مذاکرات کرنا شرک ، گناہ اور ملک دشمنی ہے لیکن سعودی عرب اور امریکہ کے لیے ایران کیساتھ بیٹھنا اور مذاکرات کا نمائندہ بننا حلال ہے؟
میرے پاس ایک پڑیا ہے جو آپ کے کئی مسائل حل کرسکتی ہے۔ اگر آپ دو گلاس پانی پی کر لمبے لمبے سانس لیکر اس پڑیا کو کھول کر پڑھیں گے تو آپ کے بہت سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔ جی نہیں یہ پڑیا بادی و خونی بواسیر ، دائمی قبض ، خاندانی شوگر ، بڑھے ہوئے پیٹ یا گنجے پن کا علاج ہرگز نہیں ہے۔ البتہ یہ پڑیا آپ کی مایوسی ، دل شکستگی اور ناکامی کے احساس کو ختم کرنے کے لیے اکسیر ہے۔ تو پھر کھولیں پڑیا اور پڑھیں۔
آپکی جس فوج سے لڑائی ہے
وہ کشمیر حاصل کرنے میں ناکام
مشرقی پاکستان میں ناکام
کارگل میں ناکام
سندھ طاس معاہدہ بحال کرنے میں ناکام
بلوچستان میں ناکام
پختونخواہ میں ناکام
ایس آئی ایف سی میں ناکام
سرمایہ کاری لانےمیں ناکام
کیا ناکام ناکام کی گردان کرنی اب پڑیا کی سائیڈ کو پلٹیں وہاں بھی کچھ لکھا ہے۔
یہ آپ سے الیکشن ہارے
یہ آپ کو کنٹرول کرنے میں ہارے
یہ آپ کے سامنے بیانیہ بنانے میں ہارے
یہ آپ پر ریڈ لائن لگانے میں ہارے
یہ آپکے لیڈر کو توڑنے میں ہارے
یہ آپ کو بہکانے میں ہارے
یہ آپ کے سامنے اپنی عزت ہارے
وقتی مایوسی ہے ، بہت ہے ، ہوتی ہے ، ہم سب کو ہے ۔ عمران خان کی قید تنہائی ، بہنوں کی نظر بندی ، پارٹی کی کمزوری ، گروپنگ و لڑائی یہ ہمیں اندر ہی اندر توڑ رہی ہے۔ ماننے میں کیا ہرج ہے۔ مان لیتے ہیں۔ ہم کوئی عمران خان تھوڑی ہیں؟ جو مانیں نہیں۔ نہ معافی کا مطالبہ مانیں ، نہ خاموشی کا مطالبہ مانیں ، نہ ہی جلاوطنی کا۔ عمران خان نہیں مان رہا ؟ اگر وہ مشکل میں ، قید میں ، اذیت میں نہیں مان رہا تو ہم کیسے مان جائیں؟
تھوڑا حوصلہ ہوا ؟ مزید ہوگا ، رکھ تقویٰ رکھ محبوباں والا ، آج شام تک ، کل شام تک پرسوں شام تک ، ہفتے تک پاک فوج کسی مزید گہرےگڑھے میں پھنسی ہوگی ، اسکے ٹاوٹ چیخ رہے ہوں گے ، آپ کے جذبے جوان ہوں گے ، یہاں ایکس پر پاؤں رکھنے کی جگہ نہ ہوگی۔ یہی ہوتا ہے۔ ہر مایوسی کے بعد ، ہر ناکامی کے بعد نئی امید ایک اور امید ، اب بھی یہی ہوگا۔
رکھ تقویٰ رکھ محبوباں والا
ایک لڑکا ہے اس کا نام ہے حسنین رفیق ، صحافی ہے۔ آپ سب اسے جانتے ہیں۔ جو عوام دیکھنا چاہتے ہیں وہ دکھاتا تھا۔ وہ کسی کالج بیکری فارمیسی والے سیٹھ کا نوکر نہیں۔ ساری زندگی کرائے کے گھر میں رہا ، اپنا گھر بنایا جو فوج نے تڑوا دیا۔ لاپتہ ہے۔ اس پر بدترین تشدد کی بھی اطلاعات ہیں۔
لیکن مشکل میں عاصمہ شیرازی اور حامد میر ہیں؟ جنکے گھروں کی مالیت کھلا کھلا بیس تیس کروڑ ہے؟ یعنی پریشانیاں وہ جھیل رہے ہیں جو بیس تیس لاکھ ماہانہ تنخواہ لیتے ہیں؟ جو چینل مالک کا پریشر گروپ ہیں؟ یعنی یہ جو کررہے ہیں وہ مشکل ہے تو جو حسنین رفیق کررہا تھا وہ آسان ہے؟
سٹے سٹرانگ حسنین رفیق ۔ سٹے سٹرانگ آزاد صحافت ، سٹے سٹرانگ مزاحمت ، سٹے سٹرانگ انکار ۔ چاپلوسی مردہ باد ۔ منافقت مردہ باد۔ حرام خوری مردہ باد۔ سیٹھ کے نوکر مردہ باد۔
ارشد شریف کی شہا��ت کے بعد روف کلاسرا نے لکھا ایک شخص جوانی میں چلا گیا۔ بھگتے گا کون؟ اسکی بوڑھی ماں ، اسکے چھوٹے چھوٹے بچے۔ درست لکھا۔ ہماری ہمدردی ، ہمارے خراج تحسین یا ہمارے الفاظ اسکے کس کام؟ اسکے بچوں کے کس کام؟
جنید جہانگیر کے بوڑھے والدین سلمان رضا کی اہلیہ ان کے دن رات کیا ہی ہوں گے۔
میں ابوبکر کو دیکھتا ہوں، دو بھائی شہید ، ایک اغواء اور خود پاسپورٹ منسوخ۔ اسکے والدین پر کیا گزر رہی ہوگی؟ اسکی ماں ، اسکے والد کے شب و روز کیسے کٹتے ہوں گے؟ ابوبکر کو نہیں پتہ ، صائم جٹ فرانس کو نہیں پتہ کہ موقع ملتے ہی انہیں مار دیا جائے گا۔ شاید یہ زندگی بھر پاکستان نہ جا پائیں۔ یہ ابھی نوجوان ہیں ، گرم خون ہیں۔ اللہ نہ کرے یہ دس بیس سال بعد رضائیوں میں منہ دے دے کر نہ روئیں۔ انکی حد سے گزری ہوئی بہادری کا ان کو کیا فائدہ؟ یہاں تو کچھ نہیں بدلہ ، کچھ نہیں بدلے گا۔ سب ایسے ہی چلے گا۔ طاقتور بہت زیادہ طاقتور اور بے بس بہت زیادہ مجبور۔
لیکن پھر دماغ ابل جاتا ہے ، کسی مظلوم کو دیکھ کر ، کسی لٹے ہوئے کو دیکھ کر ، کسی کی نوچی ہوئی لاش دیکھ کر ، ہمارے دروازے پر بندھے ہوئے چوکیدار نما کتوں کو ہمی پر بھونکتے دیکھ کر ، باہر کی دنیا میں امن سکون اور خوشحالی دیکھ کر کہ ہم کب تک یونہی کڑھتے رہیں گے بستروں سے لگ لگ مرتے رہیں گے۔ کب تک بیماروں لاچاروں مریضوں والی موت کی خواہش دل میں پالے ہوئے بچتے رہیں گے۔ ہم کیوں نہ دلاوروں کی طرح مارے جائیں۔
دماغ کچوکے بھی لگاتا ہے ، ایک بے نامی اکاونٹ کے پیچھے سے ، ایک محفوظ جگہ سے محض کی بورڈ سے تیر چلانا اور باتیں بہادری اور دلاوری کی؟ چھی چھی چھی۔ یوکرین کی روس سے جنگ شروع ہوئی تو پورے یورپ سے نوجوان یوکرین کا ساتھ دینے پہنچ گئے۔ اس وقت انکی تعداد دس ہزار سے زیادہ ہے اور ان میں سے تین ہزار برطانوی شہری ہیں۔ انکو حور یا جنت کا وعدہ نہیں ، ان پر یہ جنگ فرض بھی نہیں لیکن لڑتے ہیں اور مرتے ہیں مردانگی کے لیے ، دلاوری کے لیے اور جسٹ کاز کے لیے۔
پتہ نہیں خود پر وقت آنے پر اسکی تاب آئے گی یا نہیں آئے گی۔ لیکن موت وہی ہے جسٹ کاز والی۔ موت وہی ہے جو بندوق کی نوک پر آتی ہے۔ موت وہی ہے جو لڑتے ہوئے آتی ہے۔ ورنہ ہسپتالوں میں روزانہ لاکھوں بوڑھے مرتے ہیں۔ زندگی بھی وہی ہے جس میں ��وئی جسٹ کاز ہے ، جس میں طاقت ور کا خوف بھی ہو لڑنے کا عزم بھی اور جیتنے کی امید بھی۔ ورنہ ہسپتالوں میں لاکھوں وینٹی لینٹرز پر بھی زندہ ہیں۔
مواصلات کے سابق وفاقی وزیر دوبارہ پڑھیں مواصلات کے سابق وفاقی وزیر مراد سعید کا بھائی گریڈ 9 میں نوکری کرتا ہے اور دفتر کی جانب سے ملے کوارٹر میں مفلوج ماں کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔
پی ڈی ایم سرکار بنی تو مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیٹے کے لیے جو وزارت مانگی وہ بھلا کونسی وزارت تھی؟ جی ہاں یہی مواصلات کی وزارت۔ کیوں؟ وجہ سب جانتے ہیں۔
عاصم منیر آرمی چیف بنا تو سکول ٹیچر بھائی کو ڈائریکٹر لگادیا۔ بیٹیوں کو ناجائز سفارتی پاسپورٹ تھما دیے۔ داماد بھتیجے کو سول سروس میں لے آیا۔ اسسٹنٹ مینجر کزن کو ادارے کا سربراہ لگا دیا۔
ان لٹیروں کی مراد سعید سے نفرت کرنا ہی بنتی ہے !