*عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف کا پیغام*
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پوری قوم، بالخصوص اہلِ ایمان کو رحمتِ عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے عظیم اور بابرکت موقع پر دلی مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔
حضور اکرم ﷺ کی تشریف آوری پوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور رحمت ہے۔ آپ ﷺ نے انسانیت کو محبت، اخوت، عدل، مساوات، برداشت، رحم اور حق و انصاف کا ایسا جامع نظام عطا فرمایا جس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔
بانیٔ پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کا بنیادی نظریہ بھی ایک ایسے پاکستان کی تعمیر ہے جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، کمزور کو طاقتور کے مقابلے میں انصاف ملے، ریاست عوام کی خدمت کرے اور ہر شہری کو بلاامتیاز عزت، آزادی اور بنیادی حقوق حاصل ہوں۔ یہ وہی اصول ہیں جن کی عملی تصویر ہمیں ریاستِ مدینہ کے نظام میں نظر آتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے اپنے عمل اور کردار سے واضح فرمایا کہ کسی معاشرے کی حقیقی طاقت اس کے کمزور، غریب اور بے سہارا افراد کے تحفظ میں ہے۔ آپ ﷺ نے عدل کو معاشرے کی بنیاد بنایا اور انسانوں کے درمیان رنگ، نسل، زبان، ��بیلے اور حیثیت کی بنیاد پر تفریق کی نفی فرمائی۔
آج عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر ہمیں صرف چراغاں اور تقریبات تک محدود رہنے کے بجائے سیرتِ طیبہ ﷺ کے حقیقی پیغام کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانے کا عہد کرنا ہوگا۔
ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ،
ملک میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کو یقینی بنائیں گے۔
کمزور، غریب اور محروم طبقات کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔
ظلم، ناانصافی، جھوٹ، کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کریں گے۔
ایک دوسرے کے مذہبی، انسانی اور شہری حقوق کا احترام کریں گے۔
ریاستِ مدینہ کے اصولوں کی روشنی میں فلاحی اور انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کے لیے کردار ادا کریں گے۔
پاکستان تحریک انصاف اس بابرکت موقع پر ملک میں امن، اتحاد، اخوت اور بھائی چارے کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ موجودہ حالات میں قوم کو تقسیم اور نفرت کے بجائے رسول اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ سے رہنمائی لیتے ہوئے اتحاد، برداشت اور باہمی احترام کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
پی ٹی آئی اس امر پر بھی زور دیتی ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں سمیت ہر شہری کے بنیادی، آئینی اور انسانی حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مدینہ کی ریاست میں مختلف مذاہب اور طبقات کے حقوق کا تحفظ کرکے ایک ایسا مثالی معاشرہ قائم کیا جو آج بھی پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
آج ہم اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں درود و سلام پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کو امن، استحکام، خوشحالی اور حقیقی آزادی عطا فرمائے، ملک کو بحرانوں سے نجات دے، عوام کی مشکلات آسان فرمائے اور ہمیں سیرتِ رسول ﷺ پر حقیقی معنوں میں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
پاکستان تحریک انصاف اس بابرکت دن کے موقع پر پوری قوم سے اپیل کرتی ہے کہ عید میلاد النبی ﷺ کی خوشیوں کو امن، محبت، خدمتِ خلق اور مستحق افراد کی مدد کے ساتھ منایا جائے اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں عملی طور پر نافذ کرنے کا عہد کیاجائے۔
خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہی انسانیت کےلیے کامل رہنمائی اور کامیابی کا راستہ ہے۔
منجانب:مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ
Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
"مجھے پمز میں کہا گیا ڈاکٹر صاحبہ آجائیں میں اوپر گئی تو عمران خان بیٹھے تھے، وہ اتنے شاک میں تھے، وہ مجھے ملے پیار کیا۔ وہ مجھے دیکھ کر جذباتی ہو گئے اور کہا میری بہن میں نے 10 ماہ بعد آپ کو دیکھا ہے۔" ڈاکٹر عظمیٰ کی پریس کانفرنس
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔