ایسی کتی نسل پیدا کر گئے ہیں فیض و نیازی کے یہ حرام کے نطفے اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں
وہاڑی گرین بس پر یوتھیا نسل کا حملہ
وزیر اعلیٰ پنجاب سے گزارش ہے انکی نشاندھی کر کے انکے گھروں کے فرنٹ پر بلڈوزر چلوا دیں تاکہ یہ کتے گھر کے رہیں نہ گھاٹ کے۔
چنیوٹ کاواقعہ ہے ۔۔
گھر کی دہلیز پر ایک سپیشل خاتون بیٹھی ہیں جو گونگی بہری بھی ہیں اور آٹزم کی شکار ہیں ۔۔
یہ نوجوان کئی روز سے موقع کی تاک میں تھا۔۔ اس نے سپیشل خاتون کے کان میں سونے کی بالیاں دیکھ لی تھیں ۔۔
موقع ملتے ہی اس نے پہلے خاتون کو نازیبا انداز میں چھو کر اپنے شیطانی خیالات کا پرچار کیا اور پھر اچک کر سونے کی بالی نوچ کر یہ بھی بتا دیا کہ وہ درندگی کے اعلیٰ معیار پر پہنچا ہوا ہے ۔۔
پولیس فی الحال اس ملزم کو گرفتار نہیں کر پائی ۔۔ شاید سی ٹی ڈی کے پاس بھی کام کا لوڈ کچھ زیادہ ہے ۔۔
بہرحال کسی کی نظر نہیں پڑی ۔۔
شئیر کریں تاکہ اس جیسے درندوں کا وجود بروقت ختم ہو سکے۔
ہیروشیما سے 6 گنا زیادہ؟
یہ خبر سن کر بھی اگر آپ کا ضمیر نہیں جاگتا تو سمجھ لیں کہ ہم سب اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ ایک طرف امن کے بھاشن، دوسری طرف جنگ کا سامان۔ یہ دوہرا معیار نہیں تو اور کیا ہے؟
🚨 مسلم دنیا کے حکمران کب تک بیانات کی چادر اوڑھے سوتے رہیں گے؟
بی ایل اے کے نام نہاد "مجید برگیڈ" کی ہولناک حقیقت آخر کار دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہے! بلوچ روایات اور نام نہاد "قوم پرستی" کی آڑ میں معصوم خواتین کو اغوا کرنا، ان کا جنسی استحصال کرنا اور پھر بلیک میل کر کے انہیں خودکش بمبار بنانا اس فاشسٹ اور غدار گروہ کی درندگی کا ثبوت ہے۔
یہ را (RAW) کے ٹکڑوں پر پلنے والے وہ بے غیرت درندے ہیں جن کا نہ کوئی دین ہے، نہ ہی بلوچ روایات سے کوئی تعلق! بلوچ قوم کے غیرت مند غیور عوام کو اب جاگنا ہوگا اور اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو ان بھارتی ایجنٹوں کے شر سے بچانے کے لیے ان کے خلاف کھل کر آواز اٹھانی ہوگی۔
اب بہت ہو چکا! بلوچ نام کو بدنام کرنے والے اور ہماری عورتوں کی عزتوں سے کھیلنے والے ان بی ایل اے کے کتوں کا مکمل خاتمہ ہی اس فتنے کا واحد حل ہے!
یہ عبرت کی جاء ہے تماشا نہیں ہے :
کراچی کے ایک معروف وکیل کی موت ،
گھر قبیلہ کی بے اعتنائی اور پھر کراچی والوں نے دیکھا حیران کن منظر ۔۔۔۔۔۔
منظور کلہوڑو ایڈووکیٹ جب زندہ تھے تو انکے رشتہ دار بھی تھے خاندان بھی اور کلہوڑو قبیلہ بھی ان پر فخر کرتا تھا
مگر افسوس یہ نامور وکیل زندگی کے آخری دنوں ،
بڑھاپے اور علالت میں اپنوں کی بے اعتنائی کی وجہ سے مر گیا ، وہ ایک کمرے کے فلیٹ میں قیام پذیر تھے ،
شاید منتظر رہے ہونگے کہ کوئی آئے گا انکی تیمار داری کرے گا انہیں ہسپتال لے جائے گا مگر ایسا کچھ نہ ہوا ۔
سننے میں آیا ہے کہ انکے بیٹے بیرون ملک مقیم ہیں ،
اہلیہ انتقال کر چکیں ، رہ گئے رشتہ دار تو انہوں نے وکیل صاحب کی بیماری اور علاج و نگہداشت کا خرچہ اپنے گلے ڈالنے کی ضرورت محسوس نہ کی ،
یعنی کہا گیا ہمارا کیا ہے ۔۔۔
اور پھر ایک روز منظور احمد کلہوڑو نے تنہائی میں اپنے کمرے میں جان جان آفرین کے سپرد کردی اس وقت انکے پاس انکا کوئی اپنا یا پرایا موجود نہ تھا ،
دوسرے روز ہمسایوں کو پتہ چلا تو چھیپا والوں کو فون کیا گیا ، کلہوڑو صاحب کی ڈیڈ باڈی سرد خانے لے جائی گئی
جہاں یہ ایک ہفتہ اپنوں کی منتظر رہی مگر کوئی انہیں وصول کرنے نہ آیا اس دوران وکلاء برادری کو پتہ چلا تو سندھ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کے لوگ سامنے آئے وہ منظور احمد کلہوڑو کی میت کے وارث بن گئے قانونی تقاضے پورے کرکے میت وصول کی گئی ۔
چھپیا کے مغسل میں انہیں غسل دیا گیا ،
ہزاروں وکلاء کو نماز جنازہ کے وقت کی اطلاع دی گئی یوں انتقال کے ایک ہفتے بعد منظور احمد کلہوڑو کا کراچی کے وکلاء نے جنازہ پڑھا۔
صفوں میں ہر طرف کالے کوٹ والے ہی نظر آرہے تھے ۔
پھر انہیں انہیں عیسیٰ نگری گلشن اقبال کے قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
دعا ہے اللہ کریم ایڈووکیٹ منظور احمد کلہوڑو کے درجات بلند فرمائے آمین ثم آمین
اسرائیلی مسافروں تل ابیب پہنچایا جا سکے-
سعودی عرب نے پہلے انسانی جانیں بچانے کے لیے جہاز کو لینڈ کرنے دیا- بہترین
پھر اسرائیلی ہیلی کارپٹرز اپنی سرزمین پہ نہیں اترنے دیئے- آفرین 👍🏻
اس پہ محمد بن سلمان کے 100 میں سے 100 نمبر 👏🏻👏🏻👏🏻
"متاثرین میں سے زیادہ تر بچے تھے"
غزہ کے ’التاج‘ رہائشی کمپلیکس کے ملبے تلے سے برآمد ہونے والی باقیات میں ان بچوں کی باقیات بھی شامل ہیں جو اکتوبر 2023 میں اسرائیلی قتلِ عام کا نشانہ بنے تھے۔