@AsaadFakhar ادارے کی ریلیز بلا شبہ بے وقت کی راگنی ہے تاہم یہ بات بھی سمجھنی ہوگی اداروں کی اپنی حدود و قیود ہوتی ہیں اور انہوں نے اس مخصوص دائرہ کار میں رہ کر ہی کام کرنا ہوتا ہے۔ جماعت لیے بھی ضروری ہے کہ اداروں پر انحصار چھوڑ دے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کا باقاعدہ جنگ کی طرف بڑھنا انتہائی تشویش ناک ہے۔ دو ہمسایہ اسلامی ممالک کے درمیان یہ صورتحال دونوں طرف کے عوام کے لیے نہایت تکلیف دہ ہے۔
پاکستان کی سلامتی اور دفاع 25 کروڑ پاکستانیوں کی ترجیح اول ہے۔ پاک افغان کشیدگی ایک ایسے وقت شدت اختیار کررہی ہے جب تل ابیب میں بھارت اور اسرائیل اکٹھا ہیں اور یہ اتحاد پورے عالم اسلام کے لیے مہلک ہے۔ طالبان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بھارت ان کا دوست نہیں ہوسکتا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ کشیدگی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے
امریکہ اس وقت ایران پر لشکر کشی کے بہانے تلاش کررہا ہے اور غزہ میں کیے گئے جنگی جرائم سے توجہ ہٹانے کے لیے جنگ کا مرکز تبدیل کیا جارہا ہے۔ افغان قیادت کوئی ایسا راستہ اختیار نہ کرے جس سے وہ عالم اسلام سے کٹ جائیں اور اسلام دشمن قوتوں کو اس کا فائدہ ہو
حکومت پاکستان کی جانب سے اس اہم اور نازک موقع پر قومی مشاورت سے گریز ناقابل فہم ہے،
فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے۔
اس صورت حال میں ضروری ہے کہ عالم اسلام کے جید علما ماضی کی طرح سامنے آئیں اور پاکستان و افغانستان کے درمیان جنگ کی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں
چین ، ترکی ، قطر اور سعودی عرب گزشتہ عرصہ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کو ترک نہ کریں اور اس موقع پر از سر نو اپنا کردار ادا کریں
پاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ اسرائیل کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ عالم اسلام کے درمیان اتحاد و اتفاق کی ہر کوشش کو زائل کرنا یہود و ہنود کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔
سقوط ڈھاکہ کے تین مرکزی کردار ہیں
1۔ جنرل یحییٰ خان 2۔ ذوالفقار علی بھٹو اور 3۔ شیخ مجیب۔
سچ یہ ہے کہ پاکستان کروڑوں انسانوں کی جس تمنا اور قیادت کے جس وعدے پر بنا تھا وہ نظام قائم نہیں ہوا اور انگریز کا بنایا ہوا نظام چلتا رہا جس نے ناانصافیوں کو فروغ دیا اور فائدہ دشمن نے اٹھایا نتیجتاً ملک دو ٹکڑے ہوگیا۔ جب تک اس نظام کو تبدیل کرکے عدل و انصاف کا اسلامی نظام قائم نہیں ہوگا سانحات کو روکنا کار محال ہے۔ ظلم و جبر کے گلے سڑے نظام سے چھٹکارا حاصل کرنا سانحہ سقوط ڈھاکہ کا سب سے بڑا سبق ہے۔
اجتماع عام میں شرکت کے لیے مینار پاکستان کیطرف عازم سفر۔
یہ صرف سفر نہیں عہد ہے۔
اپنے حصے کی زمہ داری اٹھانے کا عہد
Badal Do Nizam
#اجتماع_عام_مینار_پاکستان
آزاد جموں و کشمیر کی سیاست کی تلخ حقیقتیں — تاریخی جائزہ
1975–1977: خان عبدالحمید خان
PPP
آزاد جموں کشمیر کے پہلے وزیر اعظم منتخب ہوئے مگر دو سال بعد خود ہی قانون ساز اسمبلی نے اپنے آپ کو بوجوہ تحلیل کر دیا ۔
1977 تا 1985 آزاد جموں کشمیر میں جمہوری دور نہیں رہا ۔
1985–1990: سردار سکندر حیات خان
MC
مسلم کانفرنس کے سردار سکندر حیات نے پہلی بار پانچ سالہ آئینی مدت پوری کی۔
1990–1991: راجہ ممتاز حسین راٹھور
PPP
نو ماہ بعد اپنی پارٹی کی اندرونی سازشوں کا شکار ہوئے اور اسمبلی تحلیل کر دی۔
⸻
1991–1996: سردار محمد عبدالقیوم خان
MC
اندرونی اختلافات کے باوجود اپنی آئینی مدت مکمل کی۔
⸻
1996–2001: بیرسٹر سلطان محمود چوہدری (پیپلز پارٹی)
1996 میں پیپلز پارٹی کے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ اپنی ہی جماعت کے اندر شدید سازشوں، دھڑے بندی اور مسلسل سیاسی دباؤ کے باوجود انہوں نے پورے پانچ سال کی مدت باوقار طریقے سے پوری کی۔
⸻
2001–2006: سردار سکندر حیات خان (مسلم کانفرنس)
دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوئے اوراندرونی بیرونی سازشوں کے باوجود پانچ سال مکمل کیے۔
⸻
2006–2009: سردار عتیق احمد خان
MC
ڈھائی سال بعد آزاد کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار اپنی پارٹی کےممبرانُ اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے ممبران اسمبلی کی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی اور انہیں اقتدار چھوڑنا پڑا۔
⸻
2009: سردار محمد یعقوب خان
MC
عدم اعتماد کے نتیجے میں وزیر اعظم بنے لیکن نو ماہ بعد مسلم کانفرنس کے ارکان نے ان کی حکومت بھی ختم کر دی۔
⸻
2009–2010: راجہ فاروق حیدر خان
MC
مسلم کانفرنس کے وزیر اعظم منتخب ہوئے، مگر 2010 میں انہی کی جماعت نے مقتدرہ کے تعاون سے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔
تحریک پیش ہوتے ہی انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔
ان کے استعفیٰ کے بعد سردار عتیق احمد خان دوبارہ بقیہ نو ماہ کے لیے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔
⸻
2011–2016: چوہدری عبدالمجید (پیپلز پارٹی)
اندرونی مخالفتوں کے باوجود پانچ سالہ آئینی مدت پوری کی۔
⸻
2016–2021: راجہ فاروق حیدر خان (PML-N)
اپنی دوسری مدت میں پانچ سال کی آئینی حکومت مکمل کی—جو آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں کم یاب مثال ہے۔
⸻
2021–2022: عبدالقَيوم نیازی (PTI)
اپنی ہی جماعت کی تحریک عدم اعتماد کے دباؤ پر تقریباً ایک سال بعد مستعفی ہوگئے۔
⸻
2022–2023: سردار تنویر الیاس (PTI)
تقریباً ایک سال وزیر اعظم رہے؛ توہین عدالت کے فیصلے کے باعث نااہل قرار پائے۔
⸻
2023–2025: چوہدری انوار الحق (مشترکہ امیدوار)
مقتدرہ ، پی ٹی آئی فارورڈ بلاک، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ووٹوں سے آدھی رات کو منتخب ہوئے۔
ڈھائی سال حکومت کرنے کے بعد، مقتدرہ ، اپنی ہی کابینہ ، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے رخصت ہوئے۔
⸻
2025–2026: راجہ فیصل ممتاز راتھور
نومبر 2025 میں وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ ان کی آئینی مدت جولائی 2026 تک ہے۔
⸻
حاصلِ کلام
آزاد کشمیر کے سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک ہی حقیقت نمایاں ہوتی ہے—یہاں حکومتیں اندرونی سازشوں، جماعتی تقسیم، طاقتور حلقوں کی مداخلت، اور پارلیمانی بے ثباتی کا شکار رہیں۔ چند استثنائی دور کے علاوہ آئینی مدت پوری کرنا ہمیشہ ایک کٹھن امتحان رہا ہے۔
منقول AI
Free IT education for youth, employment and provision of interest-free loans for startups are the agenda of Jamaat-e-Islami Badal Do Nizam movement
#BadalDoNizam
Establishing a Judicial System that ensures affordable and easy Justice for 250 million people of Pakistan is the agenda of Jamaat-e-Islami Badal Do Nizam movement.
#BadalDoNizam
Eliminating the outdated system that has exploited the people of Pakistan for 78 years is the top agenda of Jamaat-e-Islami Badal Do Nizam movement.
#BadalDoNizam
تعمیر کا یہ جذبہ ہی پاکستان کو بدل سکتا ہے، نوجوانوں کے لیے بنوقابل آئی ٹی پروگرام تعمیری جذبے اور امید کی ناقابل یقین کہانی ہے۔ یہ تصاویر آج راولپنڈی میں ہونے والے داخلہ ٹیسٹ کی ہیں۔ کراچی سے مالاکنڈ تک لاکھوں نوجوان بنوقابل کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ نوجوان پاکستان کی آئی ٹی برامدات میں اپنا حصہ ڈالیں گے اور آئی ٹی کی عالمی لہر سے پاکستان کا شیئر حاصل کریں گے، ان شاء اللہ
#بنوقابل_راولپنڈی
Many social media accounts hinted that the cloud formation was the result of a missile test or a new technology tested by the military.
https://t.co/UzIjO1SYGR
A Milestone Towards a Digital Gujrat. 🇵🇰
Tens of thousands of aspiring IT youth appeared in aptitude test of Alkhidmat Bano Qabil, held at Airport Runway Gujrat.
#BanoqabilGujrat
نوجوانوں کو وسائل ا ور مواقع دیئے جائیں تو یہی نوجوان ملک کی تقدیر بدلنے اور اگلے 10 سالوں میں پاکستان کےقرضے اتارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
#BanoqabilGujrat
"بدل دو نظام"ــــ اجتماع عام، جماعت اسلامی پاکستان
23 ,22, 21,نومبر
📍مینارِ پاکستان، لاہور
ظلم کے ہر اقدام کو بدلو۔۔۔چہرے نہیں نظام کو بدلو
گزشتہ 78 سالوں سے وطن عزیز پر قابض کرپٹ حکمرانوں کے خلاف ریفرنڈم ہو گا یہ اجتماع۔
#بدل_دو_نظام_اجتماع_عام
تحریک لبیک کے کارکنان پر فائرنگ اور تشدد کی پرزورمذمت کرتے ہیں،حکومت نے انتہائی ظالمانہ اقدام اٹھایا، یہ ریاستی جبر اور تشدد کی بدترین مثال ہے۔ حکمرانوں نے مظاہرین سے بات چیت کیوں نہیں کی؟ اظہار رائے اور احتجاج کو روکنے کے لیے حکومت جس ڈگر پر چل پڑی ہے وہ انتہائی خطرناک ہے۔ ٹی ایل پی کی گرفتار قیادت اور کارکنان کو فوری رہا کیا جائے۔ واقعہ کی شفاف و غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔
غزہ جیسے حساس موضوع پر امیر جماعت کے خلاف منفی سیاسی مہم چلانا افسوس ناک ہے۔ کراچی جلسے میں، اس سے پہلے اور اس کے بعد، کئی بار حافظ صاحب نے مشتاق صاحب سمیت تمام فلوٹیلا اسیران کیلئے آواز اٹھائی۔امیر جماعت اور دیگر ذمہ داران پہلے دن سے معاملے پر مجھ سے رابطے میں ہیں اور پوری کوشش کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی اگر غزہ کے ساتھ مخلص ہے تو اسے امیر جماعت کے خلاف اس جھوٹ پر مبنی مہم پر معافی مانگنی چاہئے۔
@humairatayyaba
#ٹویٹ_کیوں_نہیں_کرتے