ایک منٹ اس منسلکہ تصویر میں لکھی پوسٹ کو پڑھئے اور یاداشت پر زور ڈالئے اور یاد کیجئے یہی الفاظ الطاف حسین نے بائیس اگست و ہزار سولہ کو ادا کئے تھے
اب دیکھتے ہیں @OfficialDGISPR کی غیر جانبداری جو ایکشن الطاف حسین کی جماعت اور اس کی قوم کے خلاف کیا ویسا آپریشن اچکزئی کی جماعت اور قوم کے خلاف لیتے ہیں یا نہیں۔
اور اس کی جماعت پر پاکستانی سیاست میں حصہ لینے پر غیر اعلانیہ پابندی لگاتے ہیں یا نہیں ۔
میرے شہر کراچی کا المیہ ۔۔۔۔
ڈان انویسٹی گیشن: “سیاسی افراد، فوجی اہلکار، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور واٹر بورڈ کے اہلکار سبھی شہر کے پانی کے مسائل پر منافع خوری میں شریک ہیں” - Opinions - Dawn News https://t.co/JrOKhKPz4l
عمرانی پیرا شوٹ لگا کر سیاست میں انٹرسٹ لینے والوں کو ملکی تاریخ کی الف ب کا نہیں پتا۔
الطاف حسین کی تحریک میں ایسی فرشی نشستوں والی پریس کانفرنسز اور جلسوں میں ترتیب سے بیٹھے حاضرین کو پنجاب کا عمران نیازی زندہ لاشیں اور نوز شریف مکھیوں سے تشبیہ دیتا تھا۔
8،فروری2024ءکومنعقد کئے جانےوالےملک گیر عام انتخابات کے نتائج کےاعلان میں جتنی تاخیرکی گئی ہےاس طرح کی تاخیر ماضی میں ہونےوالےتمام ملک گیر انتخابات کے نتائج کےاعلان میں دیکھنے میں نہیں آئی ۔
اب جبکہ پورےپاکستان کےعوام ،ملکی اور بین الاقوامی میڈیا سمیت تمام ممالک نے بھی 8، فروری 2024ء کےالیکشنز کے نتائج کےاعلان میں تاخیر کودھاندلی کا سب سےاہم نکتہ قراردیدیاہےاوران انتخابات کےآزادانہ اور منصفانہ ہونے پرسوال اٹھایاہے ۔
مسلم لیگ (ن) کےسربراہ میاں محمد نواز شریف جنہوں نےتمام نتائج کے اعلان سےپہلے ہی اپنی وکٹری اسپیچ بھی کرڈالی تھی ۔
لیکن میاں نوازشریف صاحب جنہوں نےنیچے دی گئی وڈیو میں خود بھی نتائج کے اعلان میں تاخیر کوووٹ چوری ہونے اورنتائج میں ردوبدل سےتعبیر کیاہےتو کیاوہ اب اپنے بیان کردہ اس اصول کے مطابق موجودہ الیکشنز میں بدترین دھاندلی کو تسلیم کرتے ہوئےالیکشن کے نتائج کوکالعدم قراردینے کاجرات مندانہ مطالبہ کریں گے؟
وڈیو ملاحظہ کیجئے👇
پہلے ہی کہا تھا جو جیتے اسے جیتنے دو جو ہارے اسے ہارنے دو، میری جیتی ہوئی سیٹ پر فارم 45 کے مطابق پی ٹی آئی جیتی ہے۔ لہذا اپنے ضمیر اور اپنی جماعت کی اخلاقی روایات کے مطابق اپنی صوبائی اسمبلی کی سیٹ چھوڑنے کا اعلان کرتاہوں اور مطالبہ کرتاہوں کہ ہمیں ہماری ساری جیتی ہوئی سیٹیں واپس کی جائیں۔
نصیرآباد کا رہائشی، ماں بیوہ، سسرال اور دادیال نے زندگی اجیرن کردی۔ اُس وقت ایک دوست اور لندن میں بیٹھے ایک لیڈر نے اُس فیملی کو لندن بلوایا، ماہانہ خرچہ باندھا، ہر طریقے سے خیال کیا، پرورش کی، جب وہ پڑھ لکھ گئے تو سر پر بیٹھ کر موتنے لگے ایسے کم ظرف کو تابش کہتے ہیں۔
بیٹا کم سے کم تو ایس ایم طارق کا خون نہیں کیوں کہ انکا خون حلالی تھا اور تجھ جیسا کسی حلالی کا ہو نہیں سکتا۔ سوچا تجھ جیسے نیچ زات کو اسکی اصلیت بتا دوں
جبریت،فرعونیت ،شدؔادیت،نمرودیت، ہامانیت،آمریت اوریزیدیت کی طرزپرقائم حکومتوں کےدور میں وہاں رہنےوالے غریبوں، مظلوموں اورمحکوموں کو”انصاف “وہاں پر قائم کردہ عدالتوں سےکبھی نہیں ملتا،تو پھر؟
جواب کےلئےسوچئے،غورو فکرکیجئے اور تاریخ کا مطالعہ کیجئے
شکریہ
الطاف حسین
12 فروری 2024