موجودہ دہشتگردی کی لہر نے پاکستان میں ہر گھر کو غم زدہ کر دیا ہے۔لیکن تحریک انصاف اپنا سیاسی سکور پورا کرنے کے چکر میں ہے۔بد قسمتی سے اسٹیبلشمنٹ نے ایسا سانپ پالا ہے جو اب نگلا نہیں جا رہا چاہے۔تحریک طالبان اور تحریک انصاف اسٹیبلشمنٹ کی بڑی غلطی
اج کے دن اٹھ ستمبر کو پاکستان میں ایک قانون پاس کیا گیا جس میں قادیانیوں کو کافر قرار دیا گیا۔لیکن قادیانی اج تک اسلام میں نقب لگاتے ا رہے ہیں اور ہم اسلام کا دفاع کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے یہ اثاثہ ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے جس کو میری انے والی نسل تحفظ دے گی۔
پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے اب یہ طے کر لیا ہے کہ پاکستان میں چھوٹے صوبے بنیں گے انتظامی طور پر اور بعد میں حکومت کو فارغ کر دیا جائے۔نیا سیٹ اپ لایا جائے گا۔لیکن اسٹیبلشمنٹ اپنی سسٹم میں ویسے ہی کام کرے گی اور اپنی طاقت کو ویسے ہی برقرار رکھے گی۔اور پھر کوئی نیا محسن نقوی ائے گا
وڈی بیٹھک کے لوگوں سے گزارش ہے مہربانی کر کے بلال غوری پر ہاتھ ہولا کریں۔بلال غوری اچھے صحافی ہیں تحریک انصاف روز فوج کے خلاف گالم گلوچ کرتے ہیں لیکن کبھی بھی ان کے خلاف اتنی تیزی سے ایکشن نہیں لیا ایک عام ادمی غلطی سے ایک جملہ ادا کر دیں تو اس پر ایف ائی ار کر دی جاتی ہے
پاکستان اور ایران نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ افغانستان کے باشندوں کو افغانستان میں واپس بھیجنا ہے جن کی ابھی تک کی تعداد چھ ملین یعنی کہ 60 لاکھ کے قریب ہے جو کسی بھی چھوٹے ملک کی ابادی کے برابر ہیں افغانستان کے لوگ کئی دہائیوں سے پاکستان میں غیر قانونی طور پر رہ رہے تھے۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کا کل رقبہ تقریباً 906.5 مربع کلو میٹر ہے جس میں صدر۔وزیراعظم ۔ارمی چیف
سپریم کورٹ
وفاقی سیکرٹری قومی اسمبلی۔ سینٹ اور پورے پاکستان کی بیوروکریسی وفاقی کابینہ ان کے گھر ہیں ۔اور اس میں ایک ہاسپٹل جس میں 15 بچے جھلس کر مر گئے😡
پاکستان کی وفاقی دارالحکومت اسلام اباد کے پمز ہاسپٹل کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں اگ لگنے سے 15 نامولود بچے جان بحق ہو گئے۔دنیا کے کسی دارالحکومت میں یہ پہلا واقع۔ہے۔ساری دنیا میں ہسپتال جان بچانے کے لیے کھولے جاتے ہیں پاکستان واحد ملک ہے جہاں ہاسپٹل میں بھی جان محفوظ نہیں
بڑے بڑے تجزیہ نگار اور صحافی اور پکوڑے بیچنے والے سب یہ بتا رہے ہیں کہ حکومت کو فارغ کیا جا رہا ہے۔لیکن حقیقت یہ نہیں ہے یہ حکومت پہلے دن سے ہی ایسے چل رہی تھی اور اگے بھی چلتی رہے گی فی الحال حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک ہی پیج پر ہیں۔
اسلام اباد پولیس کی حیران کن کارکردگی۔
لطیف اللہ سدوئ تلہ گنگ کا شہری ہے ۔پولیس نے اس کے خلاف ایف ائی ار درج کر لی ہے۔اور الزام یہ لگایا ہے کہ اس نے پولیس پر پتھراؤ کیا ہے۔کمال بات یہ ہے کہ لطیف اللہ سدوئی معذور ہے اور اس کے دونوں بازو ہی نہیں ہے۔ازادی مبارک۔
سمجھنا اپ کو خود ہے
جنگل میں قحط پڑ گیا شیر نے بکری سے کہا ایک بار چارہ کھاؤ اور تین بار دودھ دو۔بکری نے کہا بادشاہ سلامت ہمیشہ غریب ہی کیوں قربانی دے۔اس بار طاقتور قربانی دے۔شیر نے کہا قربانی حلال کی ہوتی ہے اور ہم سب حرام کے ہیں۔
مکالمہ عوام اور حکمرانوں کے درمیان
پاکستان کی بد قسمتی دیکھیں جس کو بھی پاکستان نے اپنا خون دیا اس نے اگے سے حرام زدگی کا مظاہرہ کیا۔پھر وہ چاہے افغانی ہو کشمیری ہو۔کشمیری جو پچھلے دو ماہ سے مسلسل مظاہرے کر رہے ہیں اور جھوٹ پر جھوٹ بولتے جا رہے ہیں جن لوگوں کو یہ ووٹ دیتے ہیں ان کے اگے ان کی زبان نہیں کھلتی۔
حضرات حکومت کے جانے کا وقت ہوا چاہتا ہے
محسن نقوی جو وزیر داخلہ ہیں اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ترجمان کی حیثیت رکھتے ہیں ان کا تازہ بیان حکومت کے خطرے کی گھنٹی ہے۔انہوں نے ایک سیمینار میں بڑا واضح بتایا ہے کہ فیلڈ مارشل کے علاوہ کوئی کام نہیں کر رہا۔باقی اپ ترجمہ خود کر لیں
اور باقی ہم عوام کیڑے مکوڑوں کے لیے گرین پاسپورٹ کے لیے بھی ذلالت بھرنی پڑتی ہے اور کسی کو اف لوڈ کر دیا جاتا ہے کسی کا پاسپورٹ بلاک کر دیا جاتا ہے۔کسی کو بلیک لسٹ کر دیا جاتا ہے کسی کا پاسپورٹ ریاست کو خطرہ ہے کہہ کر چھین لیا جاتا ہے۔قانون صرف عام عوام کے لیے ہے
Blue passport ❓
حرام زدگی دیکھو ہمارے سیاست دانوں کی جس میں تمام جماعت کے لوگ شامل ہیں سینٹ نے بل پاس کیا ہے تمام ایم این اے اور ایم پی ایز جو حاضر سروس ہیں اور ریٹائرڈ ہیں اور تمام بیوروکریٹس اور ان کے بچوں کو بلو پاسپورٹ دیے جائیں گے ان کی تعداد تقریبا 60 ہزار سے بھی زیادہ ہے