Pakistan’s grid is doing something rare. Fossil has fallen from 66% to 44%. Nuclear is scaling. Solar is breaking out, wind is joining in & decentralised rooftop solar is scaling at an unprecedented pace. Meanwhile, hydro holds the system together as the generational shift begins.
For two decades, Pakistan’s power mix barely moved. Fossil sat around 60–70%, hydro carried ~30%, and everything else was marginal. Then the energy transition began, and it didn’t follow the usual script.
Nuclear moved first. From ~2% in 2000 to ~17% by 2025, it’s one of the few systems globally where nuclear share is clearly rising. That growth is deliberate, built, and running at high capacity, quietly strengthening the backbone of the grid.
Wind edged in gradually. But the real disruption came from solar. From effectively zero to ~8% in a short window, driven less by policy and more by economics. High tariffs, unreliable supply, and cheap panels triggered a massive surge in behind-the-meter installs.
That’s the key nuance. A large share of Pakistan’s solar boom sits off-grid and isn’t fully captured in official generation data. It makes the system look slower to change than it actually is, and makes building a clean dataset far more challenging than in most countries.
Two very different forces are now moving together. Nuclear is scaling from the top down, engineered and centralised. Solar is spreading from the bottom up, reactive and decentralised. They’re not competing. They’re stacking.
Hydro sits in the middle, doing what it has always done, balancing and stabilising the system. Fossil is still large and still necessary, but it’s no longer growing. From ~66% down to ~44%, it’s clearly losing ground.
Pakistan hasn’t followed a clean transition pathway. It’s been pushed into change by cost, constraints, and demand. The result isn’t one technology replacing another. It’s a system being reshaped from multiple directions at once.
Hydro anchors. Nuclear scales. Solar breaks out. Wind warms up. Fossil fills what’s left.
Not merely a transition. A system under pressure, starting to bend.
میرا کاروبار، میرا پیسہ، مگر مقامی نوجوان بیروزگار کیوں؟
پنجاب کے وسائل، پنجاب کی زمین اور پنجاب کے گاہکوں سے کروڑوں روپے کمانے والے جب سرِ عام یہ کہتے ہیں کہ انہیں "پنجابی لیبر" نہیں چاہیے، تو یہ صرف ایک پسند ناپسند کا معاملہ نہیں بلکہ معاشی دہشت گردی اور لسانی تعصب کی بدترین مثال ہے۔
پنجاب: ایک 'اوپن مارکیٹ' یا استحصال کی آماجگاہ؟
صحیفہ جبار خٹک جیسے لوگ، جو اسی صوبے کی دی ہوئی شہرت اور پیسے پر پ��تے ہیں، جب کھلے عام مقامی مزدور کی توہین کرتے ہیں تو وہ دراصل اس مٹی کے ساتھ غداری کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو پنجاب کی لیبر پسند نہیں، تو کیا آپ کا کاروبار پنجاب کے گاہکوں کے بغیر چل سکتا ہے؟
کوئٹہ ہوٹلز اور 'ایکسکلوسیو' بھرتیوں کا تماشہ
لاہور سے راولپنڈی تک پھیلے 'کوئٹہ ہوٹلز' کا ماڈل دیکھیں؛ ایک بھی مقامی پنجابی لڑکا وہاں ملازمت پر نہیں رکھا جاتا۔ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک یا صوبے میں یہ قانون ہوتا ہے کہ آپ جہاں کاروبار کریں گے، وہاں کی 70% سے 80% لیبر مقامی ہونی چاہیے۔
• کیا چائے بنانا یا کھانا پیش کرنا کوئی ایسی آسمانی مہارت ہے جو صرف ایک مخصوص علاقے کے لوگوں کے پاس ہے؟
• کیا پنجاب کا نوجوان اپنے ہی گلی محلوں میں کھلنے والے ہوٹلوں میں نوکری کا حق نہیں رکھتا؟
حکومتِ پنجاب سے مطالبہ: "لوکل لیبر فرسٹ" قانون لایا جائے
وقت آ گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں ایک ایسا سخت قانون پاس کیا جائے جو کسی بھی نجی کاروبار کے لیے درج ذیل شرائط لازمی قرار دے:
1. لازمی کوٹہ: پنجاب میں چلنے والے ہر چھوٹے بڑے کاروبار (ہوٹل، فیکٹری، دکان) میں کم از کم 75% عملہ مقامی (پنجاب کا ڈومیسائل رکھنے والا) ہونا چاہیے۔
2. لسانی امتیاز پر پابندی: جو بھی مالکان سرِ عام یہ کہیں کہ وہ کسی مخصوص لسانی گروہ کو بھرتی نہیں کریں گے، ان کا لائسنس فوری منسوخ کیا جائے۔
3. ٹیکس اور رجسٹریشن: جو کاروبار مقامی افراد کو روزگار نہیں دیتے، ان پر بھاری "نان-لوکل لیبر ٹیکس" عائد کیا جائے۔
خلاصہ:
ہم مہمان نواز ضرور ہیں، لیکن اپنے بچوں کا نوالہ چھین کر دوسروں کو کھلانا "مہمان نوازی" نہیں، بے وقوفی اور بزدلی ہے۔ اگر آپ کو ہمارا مزدور قبول نہیں، تو ہمیں آپ کا کاروبار قبول نہیں
21 ستمبر —•—
1857 دی جنگ ِ آزادی دے منے پر منے پنجابی مزاحمت کار
سردار راۓ احمد خان کھرل شھید دا یوم ِ شھادت
جھامرے دے عظیم سپوت نے پنجاب دی پگ نوں اُچا رکھیا ۔۔
اپنے بے خوف م��تراں دی قیادت کر کے انگریزی استعمار دے خلاف مزاحمت ، جرأت تے بے جگری دی نویں تاریخ مرتب کیتی
راۓ احمد خان کھرل ، مراد فتیانہ تے انہاں دے عظیم مجاھد ساتھیاں دی جدوجہد نوں سلام
اج ان شا اللّٰہ انہاں دے مزار تے باجماعت حاضری دے کے فاتحہ خوانی کراں گے ۔۔۔
1857 کی جنگ آزادی اور پنجاب میں انگریزوں کے مخبر و انعام یافتہ خاندان
ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺗﺮﺍﺏ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﮭﯿﺴﺲ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﭘﯽ ﺍﯾﭻ ﮈﯼ ﮐﯽ ﮈﮔﺮﯼ ﺣﺎﺻﻞ ۔۔۔
آج پاکپتن کا بہشتی دروازہ کھولا گیا،یہ پانچ دن عشاء اور فجر کے درمیان کھلا رہے گا۔
روزانہ اس دروازے سے ڈیڑھ لاکھ لوگ گزریں گے جن کا یہ ماننا ہے کہ جو شخص ایک بار اس دروازے سے گزرا اس کے سبھی گناہ معاف ہونگے،یہ جنتی دروازہ ہے ۔
عالم اسلام میں گناہ بخشوانے کی یہ خصوصی سہولت و رعایت پاکستانیوں کے ہاتھ اور حصے میں آئی ہے ۔
مسجد الحرام کے 243 دروازے،مسجد نبوی شریف کے 110 دروازے ،قبلہ اوّل بیت المقدس کے 11 دروازے مسلمانوں کے تینوں مقدسات کے مجموعی 364 دروازوں میں سے کسی دروازے کے حصے میں یہ “سعادت “ نہ آئی کہ بندہ صرف نیچے سے گزرے اور گناہوں سے دھل جائے۔
میں مگر سوچ رہا ہوں تیرہویں صدی سے پہلے اس خطے کے لوگ گناہ بخشوانے کے لئے کیا کرتے ہونگے ؟
جنت کے اس دروازے پر بھیڑ کی وجہ سے 2021 میں 27 افراد جاں بحق ہوئے تھے جب کہ 2010 میں ایک خودکش بمبار کو بھی باب جنت سے گزر کر چھ افراد کو ہمراہ لیکر بذعم خود جنت جانے کا “شرف” حاصل ہوا تھا ۔
یہ جنت کا واحد دروازہ ��ے جس پر پنجاب پولیس تعینات ہے۔
ماخوذ
كل يوم فائز مع سامسونج. 🎁💙
سجل إهتمامك الان لتحصل على فرصة الفوز بهاتف Galaxy S25 Ultra يوميًا.⬇️
https://t.co/kff23cARjG
للمشاركة في السحب:
رتويت للبوست.
شارك في هاشتاق #GalaxyAI أو #GalaxyUnpacked.
اعلان
آج سویرے سویرے حکیم اشفاق امرتسری دواخانہ پر ایک ٹرک ڈرائیور تشریف لایا نبض معائنہ کے بعد کہنے لگا میری ڈرائیوری کے چرچے دوسرے صوبوں تک تھے اور مشہور تھا کہ لوڈ جتنا مرضی ہو میں ٹرک کو الٹنے نہیں دیتا تھا لیکن کچھ دنوں سے سیٹ پر چڑھتے ہی گاڑی پہلے گئیر میں ڈالتے ہی تھوڑی سی ریس دینے پر موبلائل رُڑ جاتا ہے جس سے انجن چک بھر لیتا ہے اور جس سواری کو سامان لوڈ اٹھایا ہوتا ہے وہ گالیاں بھی دیتی ہے کیونکہ منزل مقصود ابھی دور تھی کیا میرے انجن کی کوئی سیل پاٹ تو نہیں گئی لہذا اس دُکھ بھری صورتحال میں عمران خان کو باہر نکالیں تاکہ رسم ٹرک الٹائی می�� دیری ہوسکے
@nahdihope i visited today Nahdi Pharmacy Prince Abdulaziz Ibn Musaid Ibn Jalawi St, Al Olaya.
I pick wrong Diaper was was not on promotion then i asked the cashier to cancel by total bill SR320. but the Egyptian cashier started bad words and threats me to hit. Here is video.
ایران نے 300 ڈ��ون اور میزائلوں کے ذریعے حملہ کیا اس میں سے 99 فیصد اسرائیل میں داخل ہونے سے پہلے ہی کیچ آؤٹ ہو گئے، سنتے تھے کہ 1965 کی جنگ میں سبز لباس پہنے روحانی شخصیات بھارتی بمب راستے میں ہی کیچ کر لیتی تھیں لگتا ہے اسرائیل کے پاس پاکستان سے بھی تگڑے بابے ہیں
Peaceful protestors, no matter the age, are being violently dragged. Shame on PMLN illegal government for such behaviour against Pakistan’s citizens! #ساڈا_حق_ایتھے_رکھ
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد جناب محمد نوازشریف نے وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عہدے کےلئے جناب محمد شہبازشریف کو نامزد کر دیا ہے جبکہ وزیراعلی پنجاب کے عہدے کےلئے محترمہ مریم نوازشریف کو نامزد کیا ہے۔ جناب محمد نوازشریف نے پاکستان کے عوام اور سیاسی تعاون فراہم کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں اوران کے قائدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے اس پختہ یقین کا اظہار کیا ہے کہ ان فیصلوں کے نتیجے میں پاکستان معاشی خطرات، عوام مہنگائی سے نجات پائیں گے۔
عمران خان کو ملٹیبلشمنٹ نے کس طرح جنم دیا؟
پولرائزیشن، مذہبی اور فوجی حمایت یافتہ پاپولزم کے ذریعے قوم کی تباہی کا بنیادی گائیڈ ، دیکھئے اس دستاویزی فلم میں