زیادہ سے زیادہ ری پوسٹ کی درخواست ہے
کیک 🥮 ویک، پھول 🌹وول چھوڑیں ۔۔۔۔ تحفہ وہ دیں جو پائیدار ہو اور جسکا فائدہ ماحول اور عوام کو پہنچے
سالگرہ، شادی کی سالگرہ پر کیک اور پھولوں کے بجائے درختوں 🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳کا تحفہ دیں
اپنے وفات شدہ والدین اور پیاروں کی یاد منانے کے لیے درخت 🌳🌳🌳🌳🌳 لگوائیں
اپنی بیوی، شوہر، گرل فرینڈ، بوائے فرینٖڈ اور باس کو ٹری 🌳🌳🌳🌳🌳🌳 گفٹس بھیج کر حیران اور خوش کر ڈالیں
قومی ایام مثلا یوم آزادی پر درخت 🌳🌳🌳🌳🌳لگوائیں
کول دا ارتھ پروگرام تھرپارکر کے دیہاتوں میں مقامی کمیونیٹی کے ساتھ ملکر شجر کاری کررہا ہے، آپ درخت اسپانسر کرینگے، کمیونیٹی درخت لگائے گی، پراجیکٹ اسکی مانیٹرنگ کرے گا اور غریب لوگوں کو سبز روزگار ملے گا
[email protected] +923008277101
https://t.co/xnmSVK7wTC
#ClimateAction #Environment #ClimateCrisis
سندھ کے ایک 19 گریڈ کے طاقتور افسر کی کرپشن کی کہانی
جس کی وجہ سے سندھ حکومت کو ورلڈ بینک، کراچی کی عوام اور ایف ڈبلیو او (FWO) کے سامنے ندامت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ جب سندھ حکومت نے ضمیر عباسی کے خلاف کارروائی کرنا چاہی تو اینٹی کرپشن سندھ کے ماتحت عملے نے ضمیر عباسی کو خبر کردی، جس کے بعد وہ کراچی سے فرار ہوگیا۔
طاقتور افسرکو فرار کروانے کے پاداش میں ڈی جی اینٹی کرپشن امتیاز علی ابڑو کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ نیز اس نااہلی کے سبب اینٹی کرپشن کا قلمدان سنبھالنے والے منسٹر محمد بخش مہر سے بھی یہ قلمدان واپس لیا جا رہا ہے۔
بی آر ٹی کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی پر الزام ہے کہ اس نے یونیورسٹی روڈ پر بی آر ٹی منصوبے سے 17 ارب روپے کا غبن کیا اور کان سے کان ملا کر کسی کو خبر نہیں ہونے دی۔ تین ماہ پہلے جب پہلی بار سوشل میڈیا پر کراچی کے معروف صحافی ارباب چانڈیو نے یونیورسٹی روڈ کو پچھلے چار سال سے کدائی کر کے چھوڑ دینے کی خبر وائرل کی تو حکومتِ سندھ، عالمی بینک اور دیگر اداروں کو معاملے کی سنگینی کا ادراک ہوا۔ حکومتِ سندھ نے غیر جانبداری اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایف ڈبلیو او (FWO) کو معاہدہ دے دیا اور انہیں پابند کیا کہ پروجیکٹ کو 90 دنوں میں مکمل کیا جائے۔
اور جب FWO نے پروجیکٹ کا کام سنبھالا اور وزیرِ اعلیٰ سندھ اور سندھ کی اہم شخصیات کو بریفنگ دی گئی تو وہاں یہ راز فاش ہوا کہ سابقہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کرپٹ افسر ضمیر عباسی وزیرِ اعلیٰ سندھ اور دیگر اہم شخصیات کو پروجیکٹ کے متعلق جھوٹی بریفنگ دیتے رہے۔ جب ارباب چانڈیو کی خبر کے بعد چار سالوں سے کُنڈر (خستہ حال) کی صورت اختیار کرنے والے پروجیکٹ کے بارے وزیر اعلا سندھ نے ضمیر عباسی سے پوچھ گچھ کی تو ضمیر عباسی نے پھر جھوٹ بول کر پورا ملبہ ٹھیکیدار پر ڈال دیا اور ٹھیکیدار سے سندھ حکومت کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دِلوا دی۔
سندھ ہائی کورٹ میں جب یہ پٹیشن جسٹس سلیم جیسر اور جسٹس نثار بھمبرو کے سامنے پیش ہوئی تو دونوں جسٹس صاحبان بہت سمجھدار ہیں، انہوں نے ٹھیکیدار کی ایک نہ سنی اور حکومتِ سندھ کے خلاف کوئی آرڈر جاری نہ کیا۔
ورلڈ بینک، FWO کے بعد جب سندھ حکومت گہرائی میں گئی تو اسے معلوم ہوا کہ یہ ساری جگ ہنسائی ضمیر عباسی کے دھوکے (bluff) اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ سندھ حکومت نے پہلے تو FWO کو کنٹریکٹ دے کر اس غفلت اور غلطی کا ازالہ کرنے کی کوشش کی، اور دوسرا یہ کہ ضمیر عباسی کو اینٹی کرپشن کے کیس میں گرفتار کر کے 17 ارب روپے وصول (recover) کرانے کی کوشش کی جائے تاکہ عوام، ورلڈ بینک، FWO اور سوشل میڈیا کو تسلی دی جا سکے۔
مگر حکومتِ سندھ کی یہ منصوبہ بندی اینٹی کرپشن نے لیک کر دی اور ضمیر عباسی کراچی سے فرار ہو گیا۔ اینٹی کرپشن نے کراچی میں ضمیر عباسی کے گھر پر بھی چھاپہ مارا، لیکن ضمیر عباسی ہاتھ نہیں آیا۔
ضمیر عباسی کون ہے؟ اور کیسے اتنی بلندی پر پہنچا؟
ضمیر عباسی اصل میں گمبٹ شہر، ضلع خیرپور کا رہنے والا ہے۔ یہ پہلے نیب میں 2006 میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر مقرر ہوا تھا اور کچھ سال نوکری کرنے کے بعد سیاسی سفارش پر دسمبر 2008 میں ڈیپوٹیشن پر سندھ پولیس میں مساوی عہدے (گریڈ 17) پر ڈی ایس پی لگ گیا۔
جب ضمیر عباسی ڈی ایس پی سکھن تھا تو میری اس سے ملاقات اس وقت ہوئی جب یہ ہائی کورٹ کی طرف سے ایک انکوائری میں میرے پاس پیش ہوا۔ دیکھنے میں یہ اتنا معصوم اور بھولا (Innocent) لگتا ہے کہ اس پیارے کو دنیا کی کچھ خبر ہی نہیں، مگر بعد کے حالات اور اس کی اڑان دیکھ کر پتہ چلا کہ اس جیسا شارپ، شاطر، ہوشیار، چرب زبان اور چکر باز شخص آپ کو نہیں ملے گا۔ ضمیر عباسی ہمیشہ منفی سوچ رکھنے والا اور دوسروں کے نقصان کا سوچنے اور کرنے والا انسان ہے۔
سال 2013 میں سپریم کورٹ نے ایک درخواست پر دوسرے محکموں میں ڈیپوٹیشن پر مقرر افسروں کو ان کے اصل محکموں میں واپس بھیج دیا، اور اسی طرح عباسی اپنے اصل محکمے نیب میں واپس چلا گیا۔ وہاں جاتے ہی ڈاکٹر عاصم کا کیس ضمیر عباسی کو تفتیش کے لیے دے دیا گیا۔ تفتیش کے دوران ڈاکٹر عاصم کو ضمیر عباسی نے کوئی فائدہ دیا یا نہیں، مگر ضمیر عباسی کو فائدہ یہ ہوا کہ...
ضمیر عباسی نے بڑی ہوشیاری سے ایک درخواست سندھ حکومت کو دی کہ 2003 میں گریڈ 16 (سیکشن افسر) کی بھرتی کے لیے درخواست دی تھی۔ درخواست دینے کی آخری تاریخ 20 اگست 2003 تھی، مگر ضمیر عباسی نے جعلسازی سے 18 دسمبر 2003 کو اپنی درخواست جمع کروا دی۔ ڈاکٹر عاصم صاحب بہت اچھے آدمی ہیں، انہوں نے 2016 میں پرانی درخواست (2003) کی بنیاد پر ضمیر عباسی کو سندھ سیکرٹریٹ میں گریڈ 16 میں سیکشن افسر مقرر کروا دیا۔جاری ہے 👇
سلیم باجاری، مراد علی شاہ کی حویلی پر نوکر تھا، اب سندھ پبلک سروس کمیشن کا مالک ہے، اور اب اس کے بیٹے لندن میں مراد علی شاہ کے پیلس (محل) کا خیال رکھتے ہیں۔ اصل حقیقت کی خبر ہونی چاہیے۔
ہیں۔ پورا شہر کنکریٹ کا جنگل بنادیا گیا ہے ۔
اگر ہم سب چاہیں تو شہر کو دوبارہ ہرا بھرا کر سکتے ہیں
مرنے کے بعد کوئی میرے قبر پہ ا کے ایک پودا لگائیں اپنے ہاتھ سے اپنی زندگی میں ایک پودا لگائیں اور اس شہر کو سب کو شاداب بنائیں
World Environment Day 5june 2026 🌍🌱
🌿 عالمی یومِ ماحولیات 🌿
اس پورے منظر میں آپ کو سبز باکس کے اندر جو واحد ہرا بھرا علاقہ نظر آرہا ہے یہ کراچی کا ایک پرانا قبرستان ہے جس کا نام سخی حسن قبرستان ہے۔
یعنی جہاں مردے ہیں صرف وہیں ہریالی ہے۔ باقی جہاں جہاں انسان بس رہے ہیں وہاں درخت کاٹ ڈالے گئے…
جس نے treadmill ایجاد کی وہ 54 سال کی عمر میں مر گیا اور جس ب چ نے KFC ایجاد کیا وہ 94 سال زندہ رہا
مطلب زیادہ ٹینشن نہ لیا کرو، زندگی میں آگے کیا ھے کسی کے باپ کو بھی نہیں پتا
ڈسٹرکٹ ویسٹ کراچی اینٹی انکروچمنٹ کا سربراہ شان انجم چند سکوں کے لیےکراچی کے سب سے بڑے لینڈ مافیا ڈان اور زرداری کا سسٹم چلانے والے علی حسن بروھی کے پاؤں چھو رھا ھے۔
اس بدبودار نظام کا پچیس کروڑ عوام اور اس کے حقوق کے نام نہاد رکھوالوں کے منہ پر اس سے بڑا طمانچہ کیا ھو گا؟
ڈسٹرکٹ ویسٹ کراچی اینٹی انکروچمنٹ کا سربراہ شان انجم چند سکوں کے لیےکراچی کے سب سے بڑے لینڈ مافیا ڈان اور زرداری کا سسٹم چلانے والے علی حسن بروھی کے پاؤں چھو رھا ھے۔
اس بدبودار نظام کا پچیس کروڑ عوام اور اس کے حقوق کے نام نہاد رکھوالوں کے منہ پر اس سے بڑا طمانچہ کیا ھو گا؟
ہیں۔ پورا شہر کنکریٹ کا جنگل بنادیا گیا ہے ۔
اگر ہم سب چاہیں تو شہر کو دوبارہ ہرا بھرا کر سکتے ہیں
مرنے کے بعد کوئی میرے قبر پہ ا کے ایک پودا لگائیں اپنے ہاتھ سے اپنی زندگی میں ایک پودا لگائیں اور اس شہر کو سب کو شاداب بنائیں
World Environment Day 5june 2026 🌍🌱
🌿 عالمی یومِ ماحولیات 🌿
اس پورے منظر میں آپ کو سبز باکس کے اندر جو واحد ہرا بھرا علاقہ نظر آرہا ہے یہ کراچی کا ایک پرانا قبرستان ہے جس کا نام سخی حسن قبرستان ہے۔
یعنی جہاں مردے ہیں صرف وہیں ہریالی ہے۔ باقی جہاں جہاں انسان بس رہے ہیں وہاں درخت کاٹ ڈالے گئے…
ارب پتی کرپٹ جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید مافیا کی سازش سے اقتدار میں آنے والے اس ڈرامہ باز مافیا نے ایبٹ آباد میں درختوں سے بھرے قدرتی ندی نالوں پر کمرشل پلازے بنا کر علاقے کو کچرے کا ڈھیر اور شہر کے گھروں و سڑکوں کو سیلاب میں غرق کر کے رکھ دیا ہے ۔۔ پشاور سمیت پورے KP ...
بھری باقی ماندہ چوٹیوں کو اپنے قبضے میں لے لے ۔۔ اس سے بلند چوٹیوں پر بننے والے Ungovernable Slums اور بے ھنگم آبادیوں کی نظروں اور نشانوں سے ایبٹ آباد کینٹ کے سینٹرز بھی بڑی حد تک محفوظ ہو جائیں گے ۔۔
والسلام
محمود اسلم ایبٹ آباد
ارب پتی کرپٹ جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید مافیا کی سازش سے اقتدار میں آنے والے اس ڈرامہ باز مافیا نے ایبٹ آباد میں درختوں سے بھرے قدرتی ندی نالوں پر کمرشل پلازے بنا کر علاقے کو کچرے کا ڈھیر اور شہر کے گھروں و سڑکوں کو سیلاب میں غرق کر کے رکھ دیا ہے ۔۔ پشاور سمیت پورے KP ...
کہ Surveyor General کرنل Thuillier کے بنائے ایبٹ آباد کے فوجی نقشے میں سربن پہاڑ اور شملہ پہاڑی کو ایبٹ آباد چھاونی کا حصہ دکھائے گیا ہے لہذا آرمی کا یہ قومی فریضہ ہے کہ وہ ایبٹ آباد کو مزید ماحولیاتی تباہی سے بچانے کی خاطر سربن پہاڑ اور شملہ پہاڑی کی شاملاتوں اور درختوں سے....