دل کے غم نے درد جہاں سے مل کے بڑا بے چین کیا
پہلے پلکیں پر نم تھیں اب عارض بھی نمناک ہوئے
کتنے الھڑ سپنے تھے جو دور سحر میں ٹوٹ گئے
کتنے ہنس مکھ چہرے فصل بہاراں میں غم ناک ہوئے
برق زمانہ دور تھی لیکن مشعل خانہ دور نہ تھی
ہم تو ظہیرؔ اپنے ہی گھر کی آگ میں جل کر خاک ہوئے
موسم بدلا رت گدرائی اہل جنوں بے باک ہوئے
فصل بہار کے آتے آتے کتنے گریباں چاک ہوئے
گل بوٹوں کے رنگ اور نقشے اب تو یوں ہی مٹ جائیں گے
ہم کہ فروغ صبح چمن تھے پابند فتراک ہوئے
مہر تغیر اس دھج سے آفاق کے ماتھے پر چمکا
صدیوں کے افتادہ ذرے ہم دوش افلاک ہوئے
ہزار دل میں سوال رکھنا اسے نہ کہنا
اور اس ہنر میں کمال رکھنا اسے نہ کہنا
تمہاری ساری اداسیوں کا سبب وہی ہے
یہ ٹھیک ہے پر خیال رکھنا اسے نہ کہنا
وہ اس بہانے پلٹ کے آئے گا دیکھ لینا
کتاب اس کی سنبھال رکھنا اسے نہ کہنا
۔۔۔۔۔
وہ ترک الفت کی بات چھیڑے تو مان جانا
پھر اپنا جیسا بھی حال رکھنا اسے نہ کہنا
یہ رکھ رکھاؤ ہی شاعری ہے سو میرے شاعر
غزل میں اس کا جمال رکھنا اسے نہ کہنا
وہ ترک الفت کی بات چھیڑے تو مان جانا
پھر اپنا جیسا بھی حال رکھنا اسے نہ کہنا
یہ رکھ رکھاؤ ہی شاعری ہے سو میرے شاعر
غزل میں اس کا جمال رکھنا اسے نہ کہنا
ہزار دل میں سوال رکھنا اسے نہ کہنا
اور اس ہنر میں کمال رکھنا اسے نہ کہنا
تمہاری ساری اداسیوں کا سبب وہی ہے
یہ ٹھیک ہے پر خیال رکھنا اسے نہ کہنا
وہ اس بہانے پلٹ کے آئے گا دیکھ لینا
کتاب اس کی سنبھال رکھنا اسے نہ کہنا
۔۔۔۔۔
@MuftiMufta میں آپ سے متفق ہوں اگر شہریوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ یورپ کے شہریوں کی طرح فرائض ادا کریں تو شہریوں کو سہولیات بھی یورپ کی شہریوں کی طرح دینے چاہیے
*ملکہ برطانیہ* نے اپنی 96 سالہ زندگی میں دنیا کے لگ بھگ تمام اہم واقعات دیکھے جو یقینا بہت کم لوگوں نے اپنی زندگی میں دیکھے ہوں گے :
2 جنگ عظیم. پاکستان کا بننا۔انسان کا چاند پر جانا۔ امریکی صدر جان کینڈی کا قتل۔ بھٹو کی پھانسی۔ ڈیانا ایکسیڈنٹ۔ فاک لینڈ جنگ۔
I bore a shadow in my mind,
A glowing pride that made me blind:
That I, of all who knelt to pray,
Stood nearest to her holy ray—
Her chosen servant, bright and true,
The closest priest she ever knew.
But when the time of journey came,
To climb the peak and chant her name,
.....
A Futile Pilgrimage
Love alone is my sacred creed,
And high where snows and heavens bleed,
Upon the highest peak of snow,
Where arctic winds of silence blow,
The temple of the Goddess stands,
Exalted over mortal lands.
.........
Divided by a thousand miles
From where her quiet sanctuary smiles.
Without a step toward the shrine,
I left the pilgrimage divine;
With silent heart and broken grace,
I turned away and left the place.
A Futile Pilgrimage
Love alone is my sacred creed,
And high where snows and heavens bleed,
Upon the highest peak of snow,
Where arctic winds of silence blow,
The temple of the Goddess stands,
Exalted over mortal lands.
.........
The mountain path grew dark and dense
With swirling crowds of pretense—
A sea of priests in spiraling rings,
Entangled in earthly things.
And far beyond that boundless tide,
Where selfish passions multiplied,
I stood afar, unmatched, unblessed,
A stranger to her sacred breast,
..