برطانیہ میں میرپور (آزاد کشمیر) سے تعلق رکھنے والے تقریباً دس لاکھ کشمیری آباد ہیں۔یہ آزاد کشمیر میں ووٹ ہی نہیں نمائندگی کا حق بھی مانگتے ہیں مگر وہ کشمیری مہاجرین جو راولپنڈی ،سیالکوٹ اورلاہور سمیت پاکستان کے دیگر حصوں میں آباد ہیں ان کے لیئے مختص نشستیں قبول نہیں۔یہ کیسا تضاد ہے؟
NEW: Colombian private military contractors, apparently hired by a United Arab Emirates (UAE)-based company, transited through UAE military bases before being deployed to Sudan to support the abusive Rapid Support Forces (RSF).
This is further evidence indicating that the UAE is assisting or otherwise substantially contributing to the Rapid Support Forces’ capacity to commit war crimes.
Read HRW’s full investigation. ⤵️
https://t.co/1QDRRLWMNa
ووٹ ڈالنے کے لیئے کم از کم عمر کی حد 18سال سے بڑھا کر 25 برس کرنے سے کیا ہوگا؟ اگر آپ کو توقع ہے کہ اس سے شعور پختہ ہوگا اور لوگ درست فیصلہ کریں گے تو تکلف برطرف،میں نے 50اور 60سال کے ذومبی بھی دیکھے ہیں۔
سوشل میڈیا کے اپنے منہ سی ای اوز، لینڈ لارڈز، مل اونرز، پرنس وغیرہ جو سارا دن آپکے ساتھ ٹویٹر پر ہی جھک مارتے ہیں اور آخر پہ چُونا لگانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو سمجھ لیں کہ وہ آپ کے ساتھ عین وہی کرتے ہیں جس کے آپ مستحق ہوتے ہیں۔
اپ اس قدر چغد واقع ہوئے ہوتے ہیں کہ یہ تک نہین سمجھتے کہ جو حقیقی امیر وغیرہ ہوتے ہیں وہ اسی لئیے امیر ہوتے ہیں کہ وہ سارا سارا دن ٹویٹر پہ جھک نہیں مارتے۔ انکے پاس اتنا وقت ہی کب ہوتا ہے؟ دنیا میں کوئی ایک امیر ترین ایسا نہیں ہے جو کاروبار مینیجرز کو سونپ کر سارا سارا دن ساجھوں ماجھوں کو کہانیاں سنانے بیٹھا رہے۔ کبھی بِل گیٹس، وارن بفے، جیف بیزو یا ایلون مسک کو دیکھا ہے کہ ٹویٹر کھول کر چغدوں کو اپنی فرضی پراپرٹی، غیر موجود فیکٹریوں اور کاغذی بزنس ایمپائر وغیرہ کی کہانیاں سنا رہے ہوں؟
دنیا کیوں ہمارا اعتبار نہیں کرتی؟
دو ہزار بائیس میں استنبول میں مقیم چوہدری سجاد حسین نامی ایک پاکستانی، جن سے ٹوئیٹر کے ذریعے شناسائی تھی، نے رابطہ کیا کہ فن لینڈ کا سکول سسٹم دنیا کے بہترین سسٹمز میں شمار ہوتا ہے اس لئے وہ استنبول میں فنش سکول کھولنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں میری مدد کے طلبگار ہیں۔ موصوف کے مطابق انکا استنبول میں بہت بڑا کنسٹرکشن کا کاروبار تھا اور وہ اکثر مختلف بلڈنگز کو اپنے پراجیکٹ بتا کر انکی تصاویر شئیر کیا کرتے تھے۔ فن لینڈ میں بہت سی کمپنیز ہیں جو مختلف ممالک میں فنش طرز کے سکول مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر چلا رہی ہیں۔ میں نے ایسی ہی ایک کمپنی سے موصوف کا رابطہ کروا دیا۔ حضرت ایک سال کے اندر اندر سکول شروع کرنا چاہتے تھے جبکہ فنش کمپنی کے لئے یہ ٹائم لائین کافی سخت تھی، بہرحال انہوں نے اس پراجیکٹ کے لئے ایک علیحدہ ٹیم بھرتی کی تاکہ پراجیکٹ کو کسٹمر کی خواہش کے مطابق مکمل کیا جسکے۔ پراجیکٹ ایگریمنٹ سائن کرنے کے لئے ہیلسنکی میں تقریب رکھی گئی جس میں ترکی سے موصوف نے اپنے بیٹے سمیت شرکت کی جبکہ انگلینڈ سے انکا کوئی ڈاکٹر پارٹنر ہسپتال سے چھٹی نہ ملنے کے باعث شریک نہ ہوسکا۔ تقریب میں مجھے بھی بلایا گیا۔ بھائی صاحب نے ضد کرکے کہا ہوا تھا کہ رہائش کا انتظام نہ کروں کیونکہ ان کی سیکرٹری نے سارا بندوبست کر دیا ہے۔ خیر شرکت کے لئے پہنچا تو بُکنگ وغیرہ نہیں تھی حضرت نے فرمایا آپ اپنا کمرہ بُک کروا لیں۔ مجھے بہت عجیب لگا کہ ۔۔۔۔خیر
اگلے دن معاہدے پر دستخط ہوئے اور شام میں بھائی صاحب نے مجھے کہا کہ کہ میں انکی دو دن کے لئے جرمنی کی ٹکٹس خرید دوں کیونکہ انہیں واپس ترکی جانے سے قبل جرمنی میں ایک بزنس ڈیل فائنل کرنی ہے اور انکے پاس کریڈٹ کارڈ یا کوئی بنک کارڈ نہیں۔ میرے لئے حیران کن تھا کہ ابھی اس بندے نے کئی ملینز یوروز کا پراجیکٹ سائن کیا ہے، ترکی میں اسکا اتنا بڑا کاروبار ہے اور اسکے پاس بنک کارڈ تک نہیں ( ٹکٹس، بورڈنگ پاسز اور ادائیگی کی رسیدیں محفوظ ہیں)۔ اوپر سے باپ بیٹے نے کپڑے وغیرہ بھی کسی مناسب سوٹ کیس کی بجائے بچوں کے سکول بیگز میں ڈالے ہوئے تھے۔ مجھے کچھ کچھ شک ہو چکا تھا کہ یہ کاروباری معاہدے کی آڑ میں یورپ کی ڈنکی لگا رہے ہیں۔ خیر موصوف اپنے بیٹے سمیت جرمنی چلے گئے جہاں جا کر اسائلم لے لی۔ معاہدے کی شق کے مطابق دستخط ہونے کے بعد فن لینڈ کی کمپنی نے ابنتدائی پیمنٹ کی انوائس بھیجی، جس پر کچھ ہفتے تو حضرت نے جواب تک نہ دیا اور پھر کمپنی کے اصرار پر صاف جواب دے دیا کہ میرا پراجیکٹ کے بارے میں ارادہ بدل گیا ہے۔ چونک باہمی رابطہ میرے ذریعے ہوا تھا تو اس کمپنی نے مجھے فون کر کے ساری تفصیلات بتائیں کہ موصوف کے پراجیکٹ کے لئے علیحدہ ٹیم ہائر کی گئی تھی جسکو کمپنی کئی ماہ سے ادائیگیاں کر رہی تھی۔ اب جب معاہدے کے بعد انوائس بھیجی گئی تو موصوف پراجیکٹ سے ہی بھاگ گئے۔ ساتھ ہی اس نمائندے نے یہ تک کہا دیا کہ انکی توبہ اگر آئیندہ کسی پاکستانی کمپنی یا فرد سے کسی قسم کی کوئی بزنس ڈیل کریں کیونکہ جو لوگ لکھے ہوئے معاہدوں سے بھاگ جائیں ان سے دوری ہی بھلی۔ مارے شرمندگی کے میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا، البتہ ہم وطن پر جی بہت افسوس ہوا کہ کیسے اپنی اسائلم کے چکر میں بدبخت نے پاکستان کا نام ڈبویا۔ ایک ڈیڑھ سال بعد موصوف نے ایک اور معاملے میں مجھ سے پانچ ہزار یوروز کا فراڈ کرنیکی کوشش کی تو میری ہنسی ہی نکل گئی، خدا کے بندے اگر میں تمہارے پچھلے فراڈ پر خاموش ہو گیا ہوں تو تم نے مجھے بیوقوف ہی سمجھ لیا ہے؟
آجکل انھی صاحب کے بارے میں ٹوئیٹر پر شور ہے کہ حضرت کی روٹی روزی ہی فراڈ اور دھوکہ بازی سے چلتی ہے۔ پاکستان سے سٹڈی ویزے، کاروبار وغیرہ کے نام پر کئی غریبوں کی جمع پُونجی لُوٹ کر جرمنی میں اسائلم انجوائے کر رہے ہیں جبکہ غریب گھرانوں کے کئی نوجوان لُٹنے کے بعد خود کٌشیوں تک پہنچے ہوئے ہیں۔
جواد احمد کو طعنہ کس بات کا؟ وہ میوزک میں تھا تو اس نے عروج کی انتہا دیکھی، لاہور میں جیوپیٹرز کے ساتھ تھا اس سے زیادہ پروگرامز کسی کے پاس نہیں ہوتے تھے، پاکستان میں فلم میوزک ترتیب دیا، انڈیا نے منتیں کر کے اس سے گیت لئیے۔ پچھلی بسنت میں میڈیا چارٹس کے مطابق آج بھی اسی کا گیت نمبر ون رہا۔۔
سیاسی پارٹی کی بنیاد اس نے 2017 میں رکھی، یوں آٹھ نو سال ہوئے۔ پی ٹی آئی کی بنیاد رکھنے کے بعد چودہ سال تک تو خان صاحب بھی اینکرز کے پیچھے لُور لُور پھرا کرتے تھے کہ مجھے شو میں بُلاؤ۔ کبھی طاہر القادری کے چیلے بن جاتے۔ کبھی نوازشریف کا دُم چھلا تو کبھی قاضی حسین احمد کی مونچھ کا بال بننے کو بےقرار۔۔یہ تھی کُل اوقات چودہ سال سیاست کرنے کے بعد۔2011 میں جنرل پاشا نے جلسہ تخلیق کر کے نہ تھمایا ہوتا تو آج بھی ٹی وی چینلز کے پہانڈے دھو رہے ہوتے۔
جواد احمد کا حق ہے کہ بطور شہری رائے رکھے اور سیاست میں حصہ لے، کامیاب ہونا نہ ہونا الگ بات ہے اور اس میں برسوں کی جدجہد درکار ہوتی ہے جواد احمد اپنے اصولوں کے ساتھ آج بھی جُڑا ہوا ہے، اس نے خان جی کی طرح کوئی کمپرومائز نہیں کیا۔ نہ کسی جنرل میں ٹھہراؤ تلاشتا پھر رہا ہے۔۔اقرار کا بھی یہی ہے کہ بطور شہری جیسے چاہے سیاست میں حصہ لے۔
لہذا آپ سرکاری ملازم ہوتے ہوئے اپنی سیاست کی چھابڑی اٹھائیں اور دوڑ جائیں۔۔
وطن عزیز میں مخالفین کے لئے غداری کے فتوے اور کفر کے فتوے بہت استعمال ہوتی ہے۔
جیسا کہ آپ نے مبارک قاضی کے کیس میں قاضی فائز عیسی کے خلاف احمدی فتوے کا استعمال کیا تھا۔۔اور پہلے سے ایک پرسیکیوٹڈ اقلیت کے لئے عدالتی دروازہ بھی بند کروا دیا۔۔
بس سب کی اپنی اپنی دکان ہے، ایک مذہب بیچتا ہے ایک محب وطنی۔
کیا میں غلط کہہ رہی ہوں @maryamnawazkhan .
کیا دن ہے۔
اقرار الحسن جو خود یوتھیاپے کے سب سے موذی مریض ہیں دوسروں کو بھاشن دے رہے ہیں کہ اپنا یوتھیاپا گھر چھوڑ کر آئیں۔
اقرار ایک نوٹنکی ہے راکھی ساونت کی طرح جسے relevant رہنے کے لیے یہ سارے تماشے کرنے پڑتے ہیں۔
جو کیمرے دیکھ کر اوقات میں آجاتا ہے۔ اصلی اوقات میں۔
Exclusive: After conveying Iran’s framework for ending the war to Pakistani officials, FM Araghchi headed to Muscat.
He is set to return to Islamabad before his Russia trip.
Meanwhile, part of his team is in Tehran for consultations, rejoining him tomorrow