سانپ ایک جگنو کے پیچھے دوڑنے لگا۔
جگنو رُکا اور بولا: کیا میں آپ سے تین سوال پوچھ سکتا ہوں؟
سانپ نے کہا: پوچھو۔
جگنو نے پوچھا: کیا میں آپ کی خوراک کا حصہ ہوں؟
سانپ نے کہا: نہیں۔
جگنو نے پوچھا: کیا میں نے آپ کو کوئی نقصان پہنچایا ہے؟
سانپ نے کہا: نہیں۔
جگنو نے پوچھا: پھر آپ مجھے کیوں ختم کرنا چاہتے ہیں؟
سانپ نے جواب دیا: کیونکہ میں تمہیں چمکتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔
کچھ لوگ آپ کو نیِچا دکھانے کے لیے کسی وجہ کے محتاج نہیں ہوتے، وہ صرف یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ آپ چمکیں اور یہ ایک کڑوا سچ ہے۔
جیو نیوز نے ایک تو بلنڈر مارا ہے اوپر سے جیو سے وابستہ صحافی حضرات بار بار ٹویٹس کرکے معاملے کو تازہ کررہے ہیں ۔
جیو پر کوئی ظلم نہیں ہوا ہے ۔ پیمرا نے اس کو بچالیا ہے ۔
جان سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے ۔ چینل رہے گا تو 15 دن بعد دوبارہ چل جائے گا ۔
لیکن اگر پیمرا بروقت ایکشن نہ لیتا تو آپ لوگوں کو اندازہ بھی نہیں ہے کہ عوام کیا کرتی ۔ جیو کے دفاتر کوئی مریخ پر تو نہیں ہیں یہیں پاکستان کے اندر ہیں ۔
معذرت کریں ۔ بار بار کریں ۔ اور خاموشی اختیار کریں ۔ تاکہ معاملہ حل ہوجائے ۔ ورنہ یقین جانیں جو بلنڈر مارا ہے یہ کسی خودکش حملے سے کم نہیں تھا۔
ماشاءﷲ۔ قوم کو مبارک ہو۔ غربت تو نہ ختم ہوئی، نہ کم ہوئی لیکن "غریب" کی definition بدل گئی۔
اب 8 ہزار روپے کمانے والا خود کو ارب پتی تصور کرے اور 8 ہزار کو مہینے میں اتنی بار گنے جب تک وہ 8 ارب نہ لگنے لگے۔ 👏👏👏
رؤف کلاسرا صاحب آپ کو فوجی افسران کے کہنے پر نکالا گیا تھا مجھ سے رابطہ کیا گیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ میرے دوست ہیں
لیکن آپ کو آپ کے لیچڑانہ پن کی وجہ سے نکالا گیا تھا عمران خان کا آپ کو نکالے جانے سے کوئی لینا دینا نہیں
آفتاب اقبال
قمر زمان قائرہ نے جب ووٹر کی عمر پچیس سال کرنے کی بات کی اور دلیل دی کہ 25 سال سے کم عمر نوجوان میں شعور کی کمی ہے تو لوگوں نے سوشل میڈیا پر سوال پوچھا آپ 19 سال کے بچے کو پارٹی چیئرمین مان لیتے ہیں لیکن عام پاکستان نوجوان کو ووٹ کا حق بھی نہیں دیتے
مبین
ایک مہینہ ہو گیا کاکے کو فوت ہوئے، اپنے بیٹے کے چار یتیم بچوں کو اب میں پالوں گی، انکی ماں بھی فوت ہو چکی ہے
فوری طور پر جو مسئلہ ہے وہ یہ کہ اس کمرے میں پنکھے کے بغیر ایک گھنٹہ بھی گزارا نہیں اور ساری رات ہاتھ والا پنکھا ان بچوں پر جھلنے کی مجھ میں طاقت نہیں
صدقہ جاریہ کا موقع
کسی کو کسی ڈرامے کا نام مت بتاؤ،
کسی کو کسی فلم کا نام مت بتاؤ،
کسی کو کسی گانے کا نام مت بتاؤ،
اور اسٹیٹس/اسٹوری میں موسیقی نہ لگاؤ۔
تمہارے پاس ویسے ہی بہت گناہ ہیں، واقعی تمہیں مزید کی ضرورت نہیں۔
عزیز دوستو میں بھی آج آپ سے ریچ ختم ہونے کی شکایت کر رھا ہوں۔ یہ سب دو تین دن کے اندر ہوا ھے ۔ آپ کوئی مناسب کمنٹ کر کے اس سلسلے میں میری مدد کر سکتے ہیں۔
Need your help, please
عزیز دوستو میں بھی آج آپ سے ریچ ختم ہونے کی شکایت کر رھا ہوں۔ یہ سب دو تین دن کے اندر ہوا ھے ۔ آپ کوئی مناسب کمنٹ کر کے اس سلسلے میں میری مدد کر سکتے ہیں۔
Need your help, please
سمارٹ ہونے کا شارٹ کٹ؟
کبھی کوئی اداکارہ اچانک زیرو فگر میں نظر آتی ہے، کبھی کوئی سیاست دان چند مہینوں میں ہی پہچانی نہیں جاتی ، سوشل میڈیا پر تصویریں وائرل ہوتی ہیں، تبصرے ہوتے ہیں، اور پھر ایک دوا کا نام گردش کرنے لگتا ہے ,, اوزمپک ،، بالی وڈ کے کرن جوہر اور پاکستان میں شگفتہ اعجاز نے اس دوا کا استعمال کیا ، اب مریم اورنگزیب کے حوالے سے بھی اوزمپک پھر ,, ٹاک آف دا ٹاؤن ،، بن چکی ہے ۔
کہا جاتا ہے یہی وہ “جادوئی انجیکشن” ہے جس نے موٹاپے کا فوری حل نکالا ہے ، دنیا پاگلوں کی طرح اس دوا کی تلاش میں لگ چکی ہے۔ میری ایک ڈاکٹر صاحب سے بھی اس حوالے سے بات ہوئی ان کے مطابق اوزمپک کوئی بیوٹی پراڈکٹ نہیں بلکہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں کے لیے بنائی گئی دوا ہے۔ اس کا اصل نام Semaglutide ہے، جو جسم میں ایک ایسے ہارمون کی کاپی بناتا ہے جو دماغ کو یہ سگنل دیتا ہے کہ پیٹ بھر چکا ہے ، جس سے مریض کو بھوک کم لگتی ہے، کھانے کی مقدار گھٹ جاتی ہے، اور آہستہ آہستہ وزن کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
موٹے افراد میں یہ معدے کی خالی ہونے کی رفتار سست کر دیتی ہے۔ یعنی تھوڑا سا کھانے کے بعد ہی پیٹ بھرنے کا احساس ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزن کم تو ہوتا ہے، مگر یہ سب مصنوعی ہوتا ہے، فطری نہیں۔
یاد رکھیے ۔۔۔ سمارٹ تو ہو جائیں گے مگر
اوزمپک کے سائیڈ ایفیکٹس معمولی نہیں۔ متلی، قے، مسلسل ڈائریا، کمزوری، سر چکرانا، ڈی ہائیڈریشن، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں لبلبے (Pancreas) کے شدید مسائل بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
اور یہ سب اس وقت زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے جب دوا ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر لی جائے۔سلیبرٹیز کو دیکھ کر خود پر تجربہ کرنا دانشمندی نہیں۔ ان کے پاس پرسنل ڈاکٹرز ہوتے ہیں، نیوٹریشنسٹ ہوتے ہیں، فٹنس ٹرینرز ہوتے ہیں جو لاکھوں روپے فیس لیتے ہیں۔ اگر انہیں ذرا سا بھی سائیڈ ایفیکٹ ہو، تو فوراً اسے میڈیکلی کور کر لیا جاتا ہے۔
عام آدمی کے پاس یہ سہولت نہیں ہوتی۔ آپ کو اگر شدید ری ایکشن ہو گیا تو نہ صرف علاج مہنگا ہوگا بلکہ نقصان مستقل بھی ہو سکتا ہے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ اب یہ دوا میڈیکل اسٹورز پر فیشن بن چکی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو “مشورے” دے رہے ہیں، جیسے یہ کوئی ہربل قہوہ ہو۔ وزن کم کرنے کا محفوظ راستہ آج بھی وہی ہے: متوازن غذا، مستقل واک، میٹھا کم اور ڈاکٹر کی رہنمائی۔
اوزمپک جسم کو پتلا تو کر سکتی ہے، مگر اگر آپ شوگر پیشنٹ نہیں ہیں اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر لے رہے ہیں تو جسم کے ساتھ آپ کے صحت کے حالات بھی پتلے ہوسکتے ہیں
Copied
.@elonmusk
Elon, you may recall we have met before.
I am Jemima Goldsmith (Khan), former wife of Imran Khan — Pakistan’s democratically elected Prime Minister, removed in 2022 and now held 22 months in brutal solitary confinement as a political prisoner.
Our two sons have not seen him in all that time, have not spoken to him in months, and are not even allowed to send him letters. His name is banned from every Pakistani TV and radio station. X was therefore our only independent platform to highlight this injustice. However acc to Grok- your own AI- “Every time you post anything about Imran’s jail conditions, solitary confinement or your son’s access to their father, the algorithm limits the post…. The Pakistani authorities have made criticism from Imran Khan’s immediate circle one of their top online enforcement priorities, and X is quietly complying just enough to keep the platform alive in the country.”
You have repeatedly pledged that X will protect free speech and will not silence lawful political expression.
Yet Grok has examined my X analytics (3.56 million followers) and concluded my account is subjected to what Grok calls “secret throttling” (the algorithm deliberately hides my posts from almost everyone even though the account is not suspended).
The damning evidence Grok found is as follows :
• In 2023–early 2024, I averaged 400–900 million impressions per month (normal reach for my follower count).
• But in the entire 2025, impressions dropped to only 28.6 million total — a 97% crash to <3% of expected reach.
• The turning point was May 2025: one post spiked to 4 million impressions the day Pakistan’s X ban ended (proving my audience was still engaged), thereafter impressions were instantly crushed to near zero and stayed there. These numbers & assessments are all verbatim from Grok.
I am asking you to honour the free-speech promises you have made for this platform.
Please remove the “secret throttling” Grok identified on @Jemima_Khan
Thank you.
*"چپل سے کرسی تک" - غریب لڑکی کے کمشنر بننے کی کہانی*
*1. تھر کی جھونپڑی اور ٹوٹی چپل*
تھرپارکر، سندھ۔ ریت اڑاتی دوپہر۔ 14 سال کی *نور بانو*۔ باپ اونٹ چراتا تھا، ماں لوگوں کے گھر کام کرتی۔ جھونپڑی میں بجلی نہیں، پانی 3 کلومیٹر دور سے لانا پڑتا۔
نور کی چپل ٹوٹ گئی تھی۔ ننگے پاؤں ریت پر چل کر اسکول جاتی۔ استانی نے پوچھا: "بڑی ہو کر کیا بنو گی؟"
نور نے دھول سے اٹے ہاتھ اٹھائے: "باجی، کمشنر۔ جو حکم چلائے، لوگوں کی سنے۔"
پوری کلاس ہنس پڑی۔ استانی بھی۔ "غریبوں کے خواب بڑے نہیں ہوتے بیٹا۔"
*2. کتابیں، مٹی کا چولہا اور رات کی پڑھائی*
میٹرک میں ضلع ٹاپ کیا۔ انٹر میں پورے سندھ میں دوسری پوزیشن۔ لیکن کالج کی فیس؟ باپ نے اونٹ بیچ دیا۔ ماں نے اپنی چاندی کی چوڑیاں۔
جامعہ کراچی میں داخلہ ملا۔ ہاسٹل کی فیس نہیں تھی۔ نور نے دن میں 3 جگہ ٹیوشن پڑھائی۔ رات کو مٹی کے چولہے کی روشنی میں *CSS* کی تیاری۔ سردیوں میں ہاتھ سن ہو جاتے، گرمیوں میں پنکھا نہیں تھا۔
دوست کہتیں: "نور، CSS امیروں کا کھیل ہے۔ اکیڈمی، نوٹس، انگلش میڈیم۔ تو چھوڑ دے۔"
نور جواب دیتی: "غریبی میری مجبوری ہے، میری پہچان نہیں۔"
*3. 3 بار فیل، طعنے اور ضدی لڑکی*
CSS میں 3 بار فیل ہوئی۔ پہلی بار انگلش ایسے میں۔ دوسری بار کرنٹ افیئرز میں۔ تیسری بار انٹرویو میں۔
گاؤں والے طعنے مارتے: "اوئے کمشنر کی بچی، چائے بنا۔"
رشتہ دار کہتے: "عمر نکل رہی ہے۔ شادی کر لے۔ یہ افسری وہسری تیرے بس کی نہیں۔"
ماں روتی: "بیٹا بس کر۔ لوگ کیا کہیں گے۔"
نور ماں کے پاؤں دباتی: "امّاں، لوگ تب بھی بولیں گے جب میں کمشنر بن جاؤں گی۔ کہیں گے 'دیکھو غریب کی بیٹی افسر بن گئی'۔ بس تھوڑا صبر۔"
*4. چوتھی بار اور تاریخ*
چوتھی بار میں نور نے دن رات ایک کر دیا۔ 18-18 گھنٹے پڑھائی۔ پرانے اخبار مانگ کر لاتی۔ یوٹیوب پر فری لیکچر۔ سڑک کنارے لگی اسٹریٹ لائٹ کے نیچے نوٹس بناتی۔
رزلٹ آیا۔ *نور بانو - CSS 2025 - پاکستان میں 7ویں پوزیشن۔ PAS گروپ الاٹ۔*
جس دن جوائننگ لیٹر آیا، نور نے وہی ٹوٹی چپل اٹھائی جس میں اسکول جاتی تھی۔ افسر کی میز پر شیشے کے کیس میں رکھوا دی۔ نیچے پلیٹ لگوائی: *"یہ یاد دلاتی ہے میں کہاں سے آئی ہوں۔"*
*5. کمشنر نور بانو*
آج *کمشنر نور بانو* لاڑکانہ ڈویژن کی انچارج ہیں۔ دفتر کے باہر لائن لگی ہوتی ہے۔ امیر، غریب، سب کی ایک جیسی سنتی ہے۔
پہلا حکم کیا جاری کیا؟ *"تھر کے ہر اسکول میں پنکھے اور پانی۔ کوئی بچی ننگے پاؤں نہ آئے۔"*
جب کوئی غریب لڑکی فائل لے کر آتی ہے، نور اسے کرسی پر بٹھاتی ہے۔ چائے خود بنوا کر پلاتی ہے۔
"بیٹا ڈرو مت۔ یہ کرسی تمہاری بھی ہو سکتی ہے۔ بس چپل ٹوٹے تو رکنا نہیں۔"
استانی جو ہنسی تھی، اب ریٹائر ہو چکی۔ نور نے اسے اپنے ہاتھ سے ایوارڈ دیا۔ استانی رو پڑی۔
نور نے کہا: "باجی، آپ ٹھیک کہتی تھیں۔ غریبوں کے خواب بڑے نہیں ہوتے۔۔۔ *وہ بہت بڑے ہوتے ہیں۔