بیرسٹر افتخار گیلانی کو ٹیکنوکریٹ وزیراعظم بنائے جانے پر حکومت کی طرف سے کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماء عمر نزیر کشمیری کا دھرنےکے سامنے خطاب میں موقف سامنے آ گیا ۔!!!!!
جبری گمشدگی کوئی معمولی امر نہیں بلکہ ایک اذیت ناک کرب اور ناقابل بیان احساس ہے جس کی شدت کا ادراک کوئی شخص اس وقت تک نہیں کر سکتا جب تک وہ خود اس صبر آزما آزمائش سے نہ گزرے شفقت بھائی کے اہل خانہ اس وقت جس کرب اور اضطراب سے گزر رہے ہوں گے اس کا اندازہ بھی ہم نہیں کر سکتے اللہ تعالیٰ شفقت بھائی کو جلد از جلد اپنے اہلِ خانہ کے درمیان صحیح سلامت واپس لوٹائے اور ان کے پیاروں کے انتظار کی یہ گھڑیاں ختم فرمائے
@shafqatmm1
پنجاب میں 2026 کے دوران ملک بھر میں رپورٹ ہونے والے 1914 کیسز میں سے تقریباً 80 فیصد یعنی لگ بھگ 1500 کیسز صرف پنجاب سے رپورٹ ہوئے
سرگودھا میں منتہا زہرہ کے قتل سے لے کر رحیم یار خان میں چھ سالہ نازیہ بی بی کے اغوا زیادتی اور قتل تک کئی دل خراش واقعات سامنے آئے
لیکن ان سنگین واقعات پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ایسی عملی ہمدردی دکھائی نہیں دی
اس کے برعکس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پانچ سالہ آیت نور کے والد کو گلے لگایا تو خود بھی آبدیدہ ہوگئے
والد بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور رو پڑے
یہ منظر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکمران صرف اقتدار کے ایوانوں میں نہیں بلکہ مظلوم کے دکھ میں بھی نظر آنے چاہئیں
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا یہ طرز عمل قابل تحسین ہے
رپورٹ کے مطابق 6 بج کر 38 منٹ پر آگ لگی چار لوگ نرسری میں موجود تھے تاہم ریسکیو کو پہلی کال 6 بجکر 54 منٹ پر کی گئی پہلی ریسکیو 7 بج کر ایک منٹ پر پہنچی
سانحہ پمز کی مبینہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہسپتال میں موجود عملہ کس قدر غفلت اور بے حسی کا مظاہرہ کر رہا تھا اگر تھوڑی سی کوشش بھی کی جاتی تو بچوں کو بچایا جا سکتا تھا
سانحہ پمز کی رپورٹ کے مطابق شام 6 بج کر 38 منٹ پر آگ لگی اس وقت نرسری میں چار افراد موجود تھے
کس قدر بے حسی اور درندگی ہے
جب بھی بظاہر یہ لگتا ہے یا تاثر بنایا جاتا ہے عمران خان ایک قدم پیچھے ہٹے ہیں reposition ہوتے ہی عمران دو قدم آگے نظر آتے ہیں۔
یہ خان کا اسٹائل ہے، چاہے کرکٹ ہو یا سیاست
کپتان ایک ڈروانا خواب تھا کرکٹ حریفوں کے لئے
اور
ایک ڈروانا خواب ہے سیاسی حریفوں کے لئے۔
کیا سمجھے ؟✌️
اہم ترین:
ایک معروف اینکر پرسن اور سینئر صحافی کے بارے میں ایک ٹی وی چینل کے مالک جو انتہائی نفیس اور بھلے مانس انسان ہیں، کبھی جھوٹ نہیں بول سکتے۔انھوں نے بتایا کہ جب وہ اینکر اور سنیئر صحافی دوسری دفعہ ان کے چینل میں نوکری چاہتے تھے تو وہ مسلسل دباؤ اور سفارشیں کروارہے تھے۔
انھوں نے نوکری کے لئے آرمی چیف جنرل کیانی کی سفارش کروائی، انھوں نے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا کی سفارش کروائی، انھوں نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی سفارش کروائی، وزیراعلی شہباز شریف کی سفارش کروائی اور صدر آصف زرداری کی سفارش کروائی۔
جب مذکورہ مالک نے صدر زرداری کا نام لیا تو میں چونکا کہ وہ اینکرتو پی پی اور آصف زرداری کے شدید مخالف ہیں، دن رات گالیاں دیتے ہیں تو ٹی وی مالک نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہاں انھوں نے آصف زرداری کی بھی سفارش کروائی تھی۔
پھر ان کو نوکری دے دی گئی۔
کچھ لوگوں کو نوکری ضمیر تو درکنار اپنی عزت نفس سے بھی بڑھکر ہوتی ہے۔
یہ اپنی نوکری جانے کا ملبہ عمران خان پربھی ڈالتے رہے ہیں اور پھر جنرل باجوہ سے نوکری لینے پہنچ گئے تھے اور بالآخر دور عمران میں ہی جنرل باجوہ نے انھیں نوکری دلوادی تھی۔
مائیکل اتھرٹن نےدراصل 60 ارب روپے کی فائر وال اور میڈیا پر خرچ کیے گئے 100 ارب روپےسے زیادہ رقم،میڈیا ہاوسز اور بیسیوں دانشوروں کے ہزاروں ٹاک شوز کو غرق کردیا
ہمارے ہم وطن دانشوروں کی ساڑھے چار سال کی محنت غارت ہو گئی
اتھرٹن کو کوسنے کے بجائے اپنی اصلاح کریں
کرکٹ میں سیاست
فیاض راجہ
یہ 4 اکتوبر 1987 کا دن تھا۔ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے درمیان وارم اپ میچ شروع ہونے کو تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری شاہد رفیع، کپتان عمران خان کے پاس آئے اور بتایا کہ میاں نواز شریف آج کے میچ کی قیادت کرینگے
عمران خان good gesture میں کپتانی سے دستبردار ہوگئے کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ نواز شریف بطور کھلاڑی ٹیم میں شامل نہیں ہونگے اور صرف ڈریسنگ روم میں بیٹھ کر میچ دیکھیں گے لیکن جب نواز شریف ٹاس کے لئے بھی میدان میں اتر آئے تو عمران خان حیران رہ گئے۔ یہی نہیں بلکہ نواز شریف پیڈ پہن کر، مدثر نذر کے ساتھ اوپننگ کرنے بھی پہنچ گئے۔ اور پھر زیرو پر آوٹ بھی ہوگئے۔
نواز شریف اس وقت وزیراعلی پنجاب تھے اور یہ کرکٹ کی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ تھا
اخے کرکٹ میں سیاست نہیں ہونی چاہیئے۔ آخ تھو