امیدوار پاکستان پیپلزپارٹی آزاد جموں کشمیر اسمبلی ایل اے 40 ویلی 01 عامر عبدالغفار لون 152 ووٹ ملیر سے کامیاب۔
#مظفرآباد_کا_فیصلہ_تیر
#فارم47_نوازلیگ
I have received JKJAAC’s response to my letter proposing the establishment of a Truth and Reconciliation Commission, together with their accompanying proposal.
Every loss of life is a national tragedy. My immediate priority is to help end the present crisis, bring relief and restore normal life for the people of Azad Jammu and Kashmir as quickly as possible.
I welcome their willingness to engage with the proposed Commission as a possible institutional path forward, one now endorsed by the AJK Legislative Assembly, and will study their proposal carefully.
I will also now consult the Prime Minister of AJK, who will approach the Federal Government and other relevant stakeholders to seek their initial views and assess whether sufficient common ground exists to take a consensus proposal forward. - BBZ
سیاست اور رئیل اسٹیٹ سے وابستہ لوگوں نے پرتگال میں کاروبار بنائے ھیں۔ پاکستان سے منی لانڈرنگ کی سروس اس کاروبا ر کے ذریعے مہیا کی جا رہی ھے۔ اور شہریت کی سہولت کے لئے کاغذات بھی مہیا کیے جاتے ہیں۔
پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ سردارانہ نظام ہے جسے کچلے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا، سرداروں نے اپنی فورسز بنا رکھی ہیں جو عوام اور ریاست کو دھمکاتی بھی ہیں۔
باپ کے بعد بیٹ کرسی سبھال لیتا ہے جب کے عوام کو بنیادی سہولت تک میسر نہیں ہوتی،
یہ سلسلہ تم کیئے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔
#سرداری_نظام_نہیں_چلے_گا
#حق_سے_پہلے_فرض
جنت نظیر ہوتا ہے جنت بینظیر نہیں
کوئی بھی انسان کسی جگہ کو ایسی جنت نہیں بنا سکتا جو خدا کی بنائی جنت سے بہتر ہو
شداد جادوگر سے منصوب جنت کا تو سنا تھا مگر ۰۰۰۰
میں کشمیر کے عوام کو وہی حقوق دلوانا چاہتا ہوں، جو ہر پاکستانی شہری کو حاصل ہیں
اور ان حقوق میں سب سے پہلا حق ہے حقِ حاکمیت
حقِ حاکمیت کا مطلب ہے کہ آپ کا ووٹ، آپ کا فیصلہ
آپ جس کے حق میں ووٹ ڈالیں، نتیجہ بھی اس کے حق میں نکلے۔
کشمیر کی حکومت اور کشمیر کے مستقبل کے فیصلے کشمیر کے عوام خود کریں
اور
پاکستان کے جن اداروں میں کشمیر کے پانی، بجلی اور بجٹ کے فیصلے ہوتے ہیں، وہاں کشمیر کی اپنی کرسی اور اپنی آواز ہو۔
دو اگست کو حقِ حاکمیت کے لئے تیر پر مہر لگائیں کیونکہ کشمیر کا فیصلہ کشمیر کرے گا۔
2016 میں ملک ترقی کررھا تھا ،پھر پانامہ کا ڈرامہ کرکے ملک کو تباھی کی کھائی میں پھینکا گیا ،اب دوبارہ مسلم لیگ نواز کی حکومت ھے اور پھر ملک میں ایسے حالات پیدا کئے جارھے ھیں۔ان کو ایک بار پھر تجربات کر لینے دیں اور ملک کی تباھی نکال لینے دیں۔
کشمیر کی سرحد پر کھڑا ہمارا سپاہی صرف سرحد کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ وہ اپنا گھر، ماں باپ اور اپنے بچے چھوڑ کر اپنی جان خطرے میں ڈال کر پاکستان کی حفاظت کرتا ہے۔
میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ پاکستان کی فوج ہماری ریڈلائن ہے۔
ہمارے سپاہی کسی سیاسی بحث کا نشانہ نہیں بننے چاہییں، وہ قوم کا فخر ہیں۔
ہمارے شہید فوجیوں اور پولیس کے جوانوں کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھلایا جاسکتا۔
ہر قربانی کا احترام اور شہداء کے لواحقین کو انصاف ملے گا۔
جو اپنا آج ہمارے کل کے لئے قربان کررہے ہیں، ان کی عزت ہماری ذمہ داری ہے۔