صُوبہ اسلام آباد کے رہائشی ۔۔۔
صدر
وزیر اعظم
نائب وزیر اعظم
سینیٹ چیئرمین
سپیکر قومی اسمبلی
چیف جسٹس پاکستان اور ججز
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت اور ججز
چیف جسٹس اسلام آباد اور ججز
وزیر صحت
وزیر داخلہ
وزیر خارجہ
وزیر دفاع
وزیر تعلیم
فیلڈ مارشل/چیف آف ڈیفنس فورسز/آرمی چیف
ائیر چیف مارشل
نیول چیف
ڈی جی آئی ایس آئی
چیف الیکشن کمشنر
100 سینیٹرز
336 ممبران قومی اسمبلی
کمشنر
ڈپٹی کمشنر
سی ڈی اے چیئرمین
آئی جی پولیس
درجنوں وزیر/مشیر
دسیوں درجن سینئیر بیوروکریٹس
جس دن ان سب کے بچے اسلام آباد کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنا شروع کر دیں اور ان کا علاج اسلام آباد کے دونوں سرکاری ہسپتالوں میں ہونا شروع ہو جائے تو سارے پاکستان میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ پھر جتنے چاہے صوبے بنا لیں۔
جو شعور اچھے دنوں میں بات نہ سمجھ سکا ، اب گھبرا کر کیا کرے گا اس کو دیکھ لیں گے لیکن اتنا ضرور یاد رہے کہ مقابلہ کس سے ہے، تیاری کچھ تو رہے۔
خوشامدی نوکروں سے فرصت مل جائے تو جان لیں کہ یہ 2024 والا عمران خان نہیں، اس سے کئی گنا طاقتور دیومالائی کردار بن چکا ہے۔
پہلے وہ جیل نہیں گیا تھا، سختی نہیں جھیلی تھی، مار نہیں کھائی تھی، ہم صدق دل سے سمجھتے رہے کہ وہ جیل نہیں بھگت پائے گا لیکن آج وہ سب کو غلط ثابت کر چکا ہے، اس کے لوگوں پر وہ نہیں گزری تھی جو گزر چکی ہے۔
اس سختی کے بعد وہ کیا بن چکا ہو گا اور باہر آ کر کیا کرے گا، کوئی نہیں جانتا۔
ممکن ہے وہ ولی بن چکا ہو اور سب کو معاف کر دے اور یہ بھی کہ دنیا چنگیز خان کو بھول جائے۔ جو کچھ بھی ہو گا وہ معمول نہیں ہو گا، جیسے پہلے ہوتا تھا۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ وزیر اعظم کا عہدہ اس وقت اس کے سامنے کوئی چیز نہیں، وہ تو معین قریشی بھی بن گیا تھا، بلخ شیر مزاری بھی، میر ظفراللہ جمالی بھی اور شہباز شریف بھی۔
اس وقت وہ لوگوں کا خواب بن چکا ہے۔ اس خواب کو سوائے اس کے اور کوئی نہیں توڑ سکتا۔ وہ تب ہی ہو گا اگر لوگ اسے نکالیں۔ وہ کب ہو گا یا نہیں ہو گا ، کچھ نہیں پتہ۔
جو کچھ ہوا ہے بہت ابنارمل تھا اس کا ردعمل بھی نارمل نہیں ہو گا۔
معمول کی سیاست اب وہ نہیں رہی، دہکتا آتش فشاں بن چکا ہے۔ ہوش کریں، ہوش۔
لڑائی جذبات سے نہیں، وسائل، حیثیت اور سیاسی طاقت سے لڑی جاتی ہے، جو باقی بچی نہیں۔
ہر مرتبہ قسمت بچا کر لے جائے گی یہ کہاں لکھا ہے ؟
گزشتہ چار روز سے گاؤں میں ہوں۔ پورے علاقے میں ڈنگہ گرڈ سٹیشن میں فیڈرز کے اضافہ کروانے پر ایئر چیف بھائی اور تحفتاً ہدیتن ایم این اے نصیر سندھ کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے جبکہ غیر اعلانیہ اور اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے سلسلہ اتنا طویل ہے کہ خراج تحسین پیش کرنے کے لیے جن لوگوں کی تصاویر کا استعمال کیا گیا ہے وہ بھی شرمندہ شرمندہ دکھائی دیتے ہیں۔۔ مقامی سوشل میڈیا پر بھی چیخ و پکار جاری ہے اور کوئی سننے والا نہیں ہے۔۔ں
پنجاب کے دور دراز علاقوں میں پانی کی خاطر تپتی دھوپ اور کٹھن راستوں کی صعوبتیں برداشت کرتی ماؤں اور بہنوں کا طویل اور تکلیف دہ انتظار بالآخر اختتام پذیر ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی بدولت مختصر ترین مدت میں پینے کے صاف پانی کا جدید ترین نظام قائم کر کے گھر گھر تک مفت فراہمی ممکن بنا دی گئی ہے۔ اس منصوبے کے تحت روزانہ لاکھوں لیٹر صاف پانی کی عزت و احترام کے ساتھ دہلیز پر رسائی صرف ایک سہولت نہیں بلکہ اپنے عوام کی صحت، سکون اور وقار کی پختہ ضمانت ہے۔ الحمدللہ دہائیوں پر محیط پیاس اور مسافت کا یہ باب اب ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔
ویسے اندازہ کریں بڑے بڑے جگادڑی گالیاں دے رہے ہیں کہ اسد عمر کے ٹوئٹ کے جواب میں اسد کو کیوں کہا کہ آپ کو عمران خان کے وزیراعظم کے طور پر فیصلوں اور achievements کا بھی ذکر کرنا چاہیے تاکہ لوگوں کو پتہ چلے ان کا دور کیسا اچھا اور شاندار تھا۔یہ پڑھے لکھوں کی پارٹی کا حال ہے جن کا لیڈر بقول اسد عمر ایچسن کالج لاہور اور اکسفورڈ یونیورسٹی کا گریجویٹ ہے۔
بھائی آپ مریم وٹو صاحبہ کو مشورہ دیں وہ پی ٹی ائی کے کسی سمجھدار پڑھے لکھے بندے کو کہیں وہ خان صاحب کے وزیراعظم دور کے بڑے بڑے فیصلوں اور کارناموں کی تفصیل گوگل کر کے انہیں بھیجے جسے وہ کاپی پیسٹ کر کے ٹوئٹ کر دیں۔خود تو شاید وہ عثمان بزدار کے علاوہ بڑا فیصلہ کارنامہ نہ ڈھونڈ پائیں گی۔
آجکل پنجاب میان شدید ترین لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔ ہمیں یاد ہے راجہ پرویز اشرف جب وزیر بجلی تھا تو اسوقت پوری ن لیگ ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتی تھی۔ اب تو آدھا سے زیادہ بجلی کی مانگ سولر پوری کر رہا ہے لیکن اسکے باوجود یہ لوڈ شیڈنگ۔اویس لغاری مکمل ناکام ہوچکا ہے۔کیا وزیراعظم ان سے استعفی مانگیں گے؟
*🫣 رکارڈ کی درستگی کے لیے 🧠*
کیا آپ کو یاد ہے کہ یہ شخص 64 ووٹوں کے ساتھ 36 ووٹ والے سے ہروایا گیا تھا تب عمرانی دور تھا۔
تب شعور باجوہ اور فیض کے بوٹ پالش کر رہا تھا۔
*روندے فارم 47 نوں 😎*I just
رووف کلاسرا کا معید پیرزادہ سے دلچسپ مکالمہ-
"ویسے حیرانی مجھے بھی ہے کہ ساری عمر آپ انہی فوجیوں کی چھتری تلے پلتے رہے، انہی کا شہد ملا دودھ پیتے رہے، انہی فوجیوں سے لاکھوں کروڑں روپوں کے فائدے لیے، ٹی وی چینلز پر نوکریاں انہی فوجیوں نے آپ کو دلوائیں، آپ کے تھرڈ کلاس میگزین کو کروڑوں کا بزنس ملا جس کی آپ سب کو فری کاپیاں بھیجتے تھے، اس میگزین کا کام ہی فوجی اسٹبلشمنٹ کے پراپگنڈہ کو انگریزی کا رنگ دے کر پروموٹ کر کے سفارت خانوں میں پوسٹ کرنا تھا اور اس کے عوض آپ نے لمبے نوٹ کمائے لیکن آج مجھے طعنے دینے آگئے ہیں کہ تھپڑ والی ویڈیو کیوں لگائی۔ واہ۔
کسی دن انہی فوجی جرنیلوں کی مسلسل چاپ لوسی سے بھرے اپنے پرانے ٹی وی شوز ہی دوبارہ سن لیں جو آپ ہمیں ریجنل سیکورٹی والے ڈرامے روز سناتے تھے تو شاید شرم کے مارے کبھی گھر سے نہ نکلیں آپ۔
جتنے آپ بہادر صحافی تھے وہ میں ذاتی طور پر خوب جانتا ہوں اور 92 چینلز پر پروگرام سے پہلے جو رٹے لگا لگا کر انٹرو پڑھتے تھے اور پورا دفتر سنتا اور ہنستا تھا اس کا بھی گواہ ہوں۔ آپ کی تو چینل کے ڈائریکٹر نیوز کے آگے گھگی بندھ جاتی تھی چینل مالک تو دور کی بات ہے کہ میں آپ کی کونسلنگ کرتا تھا تو آپ کی گھگی ختم ہوتی تھی۔ "
وزیراعلی مریم نواز صاحبہ کی کچھ پالیسوں کے ہم بھی ناقد رہے ہیں لیکن ان دو سالوں میں انہوں نے جو ای ٹینڈرنگ کے زریعے ترقیاتی ٹھیکوں میں اربوں روپوں کا کمشن ختم کیا، ڈی پی او، ڈی سی سفارش پر نہیں لگائے،ٹرانسفر پوسٹنگ میں سیاستدانوں کا کردار کیا اس سے تو اسمبلی ارکان خفا ہوں گے لیکن عوام کو تو ریلیف ملا ہے۔ ؟
لاہور سے سینئر اینکر نصراللہ ملک کا جواب سنیں
مکمل پروگرام لنک
👇
https://t.co/HE0ScxBFpF via @YouTube@NeoNewsUR@fawadnb@MaryamNSharif@GovtofPunjabPK@NasrullahMalik1@amnahussain96@CMShehbaz@AzmaBokhariPMLN@Marriyum_A
محرم الحرام کے مقدس ایام میں جھلسا دینے والی گرمی کے باوجود پنجاب پولیس کے جوان سڑکوں پر متحرک رہے اور موسم کی سختی کی پروا کیے بغیر عزاداروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا۔ ان کی فرض شناسی اور دن رات کی محنت کی بدولت عاشورہ انتہائی پرامن اور خیر و عافیت سے گزرا۔ اس تپتے موسم میں عوام کی خدمت کو ترجیح دینے والے اپنے ان تمام بہادر جوانوں کو شاباش دیتی ہوں۔ آپ ہمارا فخر ہیں۔ جیتے رہیں 👏🏻
ایران جنگ سے قبل تیل کی عالمی قیمت 76 ڈالر تھی۔ معاہدہ ہونے کے اعلان کیساتھ ہی اب تک یہ عالمی قیمت کم ہو کر 75 ڈالر پر آ چکی ہے۔ محترم وزیراعظم صاحب، "خاطر خواہ کمی" وہی ہو گی کہ پٹرول کی ملکی قیمت وہی کی جائے جو جنگ سے قبل تھی۔ دس بیس پچاس روپے وغیرہ کی کمی سے حکوت عوام کو نہ ٹرخائے اور اپنے ریونیو کے خسارے کو غریب عوام کی جیب سے مزید پورا نہ کرے۔
اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر کسی کو نوکری سے نکالنے والا زیادہ قابل اعتبار ہے یا اسٹیبلشمنٹ کی بات نہ مان کر اپنی نوکری قربان کرنے والا؟ فوجیوں کی فائیلیں دیکھ کر وی لاگ کرنے والا زیادہ قابل اعتبار ہے یا اپنے ضمیر کی آواز پر چینل چھوڑ دینے والا؟
خواجہ صاحب آپ حکومت ہیں۔ وزیر اعظم صاحب سے کہیں کہ ان محکموں کو راہ راست پر لائیں اور ناقص کارکردگی والے افسران ہوں یا وزرا ان کی چھٹی کرائی جائے۔ کیا مافیاز اتنے طاقتور ہیں کہ آپ بھی بے بس ہو چکے ہیں ؟
آج صرف خواجہ آصف ہی نہیں خواجہ سعد بھی بولے ہیں،
انہوں نے اسلام آباد ائیرپورٹ اور اسکردو جانے کے معاملے کی ہینڈلنگ کو بے حسی اور نالائقی سے تعبیر کیا ھے جبکہ خواجہ آصف نظام کی جڑوں میں سرایت کردہ کرپشن پر آواز بلند کر رہے ہیں۔
حیرت ھے کہ خواجگان کی جماعت بر سر اقتدار ھے تو پھر یہ شکوہ کس سے کر رہے ہیں؟ لیسکو اگر دو نمبری کر رہا ھے تو ذمہ دار کون ھے؟ ائیرپورٹ پر نالائقی ہوئی تو کس سے جواب طلبی کرنا ھے۔۔؟
خواجگان لگے ہاتھوں ان سوالات کا بھی جواب عنائیت فرمائیں تو خوب ہو۔۔
فقط؛
آپ کی بے باکی کا ایک عدد ادنی مداح