شازیہ ذیشان کو آج کروڑوں عوام کے دلوں کی ترجمانی کرنے پر خراج تحسین 👏 خاص طور پہ شہلا رضا کو سامنے بٹھا کر پی پی کو ایسا آئینہ دکھایا کہ مزہ آگیا
یہ کلپ لازمی سنیں اور باقیوں کو بھی سنائیں
مریم نواز نے دعوٰی کیا کہ پنجاب میں جرائم %70 کم ہو گئے ہیں کیونکہ مجرموں کو پکڑا جا رہا ہے، سزائیں مل رہی ہیں۔
اگر ایسا ہے تو اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار کو غیرملكی خواتین کو ریاستی وسائل اور پروٹوکول استعمال کرتے ہوئے اغوا کرنے کے جرم میں سزا کیوں نہیں ملی؟
یہ ویڈیو ہر پاکستانی دیکھے اور اچھی طرح سمجھ لے کہ حکومت اب جس کو دل چاہے "دہشتگرد" بنا کر اس کے ساتھ جو مرضی سلوک کر دے۔
پنجاب میں یہ جو کالا قانون لے آئے ہیں، اس کا دفاع عظمیٰ بخاری بھیلاکھ کوشش کے باوجود نہ کر سکیں۔
افسوس۔ یہ اس حکومت کا اصل سفاک چہرہ ہے۔
انصاف کا دہرا معیار؟لاہور کےپسماندہ علاقے میں ایک خاتون اپنے گزر بسر کے لئے چند سو روپےلےکر ٹیویشن پڑھاتی تھی گھر کی چھت گر گئی،خود بھی زخمی ہوئی،اس پرحکمران شرمندہ نہیں ہوئےبلکہ مقدمۂ درجہ کروایا گرفتاریاں ہوئیں۔پمز میں 14 بچے زندہ جل گئےافسران ابھی بھی اپنے عہدوں پر بیٹھے ہیں
عمران خان کی پاکستان ہی کے اندر اسپتال منتقلی کو فریاد قرار دے کر تمسخر اڑانے والے خواجہ آصف آج سے سات سال پہلے پارلیمنٹ ہاؤس میں کھڑے اسپیکر قومی اسمبلی کو اپنے 25 ایم این ایز کی ضمانت دے کر فریادیں کر رہے تھے کہ خدارا میرے لیڈر کو پاکستان سے باہر جانے دو ، وہ واپس آ جائے گا۔ بس ایک بار اسے جانے دو۔ وہ زندگی موت کی کشمکش میں ہے ۔دیکھو اب تو ڈاکٹر بھی کہہ رہے ہیں اس کا علاج پاکستان میں نہیں ہوسکتا، پلیز اس کو جانے دو ۔۔
نوٹ؛ (اور لیڈر باہر جا کر چار سال کے لئے روپوش ہو گیا)
جانے لوگ ماضی کیوں بھول جاتے ہیں؟
اعظم نذیر تارڑ اور خواجہ آصف کے بیانات پر انتہائی دکھ اور افسوس ہوا۔ کیا اعظم نذیر بھول گئے ہیں کہ نواز شریف جب تقریباً ایک سال جیل میں تھے تو انہوں نے کتنی دفعہ میڈیکل ٹریٹمنٹ کے لیے درخواست دی اور کتنی دفعہ علاج کروایا؟ اگر نہیں پتا تو میں بتا دیتا ہوں۔
22 جنوری 2019: پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، لاہور ایک دن۔
2 سے 7 فروری 2019: سروسز ہسپتال، لاہور پانچ دن۔
15 سے 25 فروری 2019: جناح ہسپتال، لاہور دس دن۔
26 مارچ سے 7 مئی 2019: جاتی عمرہ، ذاتی رہائش گاہ، لاہور بیالیس دن۔
21 اکتوبر سے 6 نومبر 2019: سروسز ہسپتال، لاہور سولہ دن۔
6 نومبر سے 19 نومبر 2019: جاتی عمرہ، ذاتی گھر تیرہ دن، جہاں آئی سی یو کی سہولت بھی موجود تھی۔
19 نومبر 2019 کو اعلیٰ عدلیہ نے علاج کی غرض سے چار ہفتوں کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی، اور موصوف بڑے میاں چار سال بعد واپس آئے۔ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ اعلیٰ عدلیہ سے محاذ آرائی کی اور ان کے فیصلوں پر ہمیشہ تنقید کی۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے ہمیشہ عدلیہ کے فیصلوں کو تسلیم کیا اور ان پر عمل بھی کیا، اور ساتھ ہی انسانی حقوق کی ہمیشہ بات کی اور ان پر عمل بھی کیا۔
تحریکِ انصاف کے دور میں جتنے بھی اپوزیشن کے رہنما جیل گئے، ان میں سے ایک کیس بھی ان پر تحریکِ انصاف کے دور میں نہیں بنایا گیا، سارے کیسز پرانے تھے۔ تمام سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں کو عمران خان کی صحت پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، بلکہ ان کو ہسپتال منتقل کرنے کی حمایت کرنی چاہیے، جو عمران خان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔
ڈاکٹر عاصم کی اپیل 🚨
عمران خان کو فوری ریٹینا اسپیشلسٹ کے علاوہ اپنے دیگر طبی مسائل کے مکمل جائزے کے لیے کسی اعلیٰ اسپتال جیسے شفا انٹرنیشنل اسلام آباد، میں فوری اور مکمل طبی معائنے کی ضرورت ہے۔
جہاں حکمران عوامی پیسے سے اربوں روپے خرچ کر کے کہیں بھائی ہم نے خرچ کیے ہیں تمہیں کیا ہے۔وہاں عام بندے کے لئے کفن خریدنا اگر مشکل ہوجائے تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ منصور علی خان سے گفتگو۔
عمران خان نے توشہ خانہ سے گھڑی پیسے دے کے خریدی تھی۔ آپ کی لیڈر مریم نواز نے تو توشہ خانہ سے بی ایم ڈبلیو کار لے لی تھی اور بعد میں مانی بھی نہیں کہ میں نے بی ایم ڈبلیو کار لی ہے، حافظ فرحت عباس
یہ جرنلسٹ بتارہی ہے اسرائیل نے دس بچوں کی گردنیں کاٹ کر سائیڈ پر رکھیں ہیں جن کی عمر 5 سال سے کم تھی
میں نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ،میں اس چیز کی گواہ ہوں💔