ایک تھانے کی خفیہ بنائی گئی ویڈیو یہ پولیس والا ہے یا فرعون ہے کیا اس پولیس والے کو پاکستان کا قانون اس چیز کی اجازت دیتا ہے کہ وہ عام انسان پر تشدد کرے جس کے ٹیکس کے پیسے سے وہ سیلری لیتا ہے اس عام انسان کو مارتے ہوئے شرم نہیں اتی ان لوگوں کو
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے شیعوں کو ہی نفرت یے ۔۔۔!!
ایسے لوگ مسلمان کہلانےکےلائق ہیں
یہ متعہ زنا سے پیدا ہونے والوں کوصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا نام تک برداشت نہیں
کیسے نطفہ حرام ناصر عباس دم دبا کر بھاگ گیا
یہ انکی اصلیت ہے صحابہ کرام کے خلاف فرقہ یے
شہباز سرکار نے پیٹرول 3روپے 34پیسے فی لیٹر مزید مہنگا کردیا ،ڈیزل کی قیمت میں 5روپے 27پیسے اضافہ ۔۔۔۔یہ حکومت نفرت کی آگ پر خود پیٹرول چھڑک رہی ہے اور ایک دن یہ آگ انہیں جلا کر خاکستر کردے گی۔
نواز شریف صاحب جو کہہ رہے وہ بالکل درست کہہ رہے ان کے دور میں ڈالر بھی نہی بڑھا اور پیٹرول کی قیمت سو روپے سے 66 روپے پر گئی لوگ خوشحال ہوئے مگر ان کے بغل میں جو ان کا بھائی بیٹھا اس کے دور میں 150 والا پیٹرول 330کا ہو چکا بجلی گیس کے بل عذاب بن چکے ہیں
اللہ لاہور کو پاکستان کو اور امت مسلمہ کو ان شر پسندوں سے محفوظ رکھے آمین
کہیں سیدنا علی تمام انبیاء سے افضل اور کہیں خمینیی اور اسکا وصی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم و سیدنا علی سے افضل
عجیب و غریب عقائد کا مجموعہ ہیں ر ا ف ضی
سیدنا ابوبکر انکے نزدیک فدک کے باغ کے معاملہ میں نا انصافی کرنے والے سیدنا عمر سیدہ فاطمہ کو مارنے والے سیدنا عمر و عثمان کے قاتل انکے ہیروز
اللہ ہی ہدایت دے ادارے پتہ نہیں ان جیسوں کو کب تک ڈھیل دیتے رہیں گے جو پاکستان کی خارجہ داخلہ کسی پالیسی کو نہیں مانتے ایران کو ہی فقط اپنا وطن سمجھتے ہیں
اسکی خاطر اپنے وطن کے فوجیوں کو زندہ جلانے کے لئے تیار ہیں ہر وقت ملک میں انتشار اور فرقہ واریت کو ہوا دینے والے ہیں
اتنا قرض کہاں خرچ ہو رہا ہے ؟
شہباز شریف نے 2022میں جب سے اقتدار سنبھالا ہے اس وقت سے آج تک کے چار سال میں پاکستان کے قرضے میں تقریباً 74.87% اضافہ ��و چکا ہے بجلی کی قیمت دگنی کر کے بلوں پر ہزار طرح کے ٹیکس لگا کر گیس مہنگی کر کے بلوں پر فکسڈ ٹیکس لگا کر 150 روپے لیٹر والا پیٹرول 330روپے لیٹر بیچ کر بھی قرضہ 75 فیصد بڑھ چکا ہے
جبکہ دعوی یہ کہ ہم نے معیشت بحال کر دی سیاست قربان کر کے ریاست بحال کی ہے جبکہ حالات آپ کے سامنے ہیں
تل ابیب / اسرائیل
اسرائیل کے وزیراعظم نے کہا ھے دیکھو میں یہاں ساحل سمندر پر اپنی عوام میں بیٹھا ھوں
ایران کی جرات نہیں کہ وہ اسرائیل پر حملہ کرے، کیونکہ وہ اسرائیل کے نام پر عربوں کےخلاف جنگ شروع ھو گیا ھے
جبکہ امریکا اسرائیل سے ایران پر حملے کرتا ھے
دو دن بعد یہ بزرگ جوڑا 199 یونٹ کی بندش والی قید سے آزاد ہوکر جشن آزادی منائے گا ❤️
کل صدر زرداری کے پچاس گاڑیوں کا قافلہ دیکھا ہے
کل دفاعی معاہدہ بھی دیکھا ہے
کل امن سلامتی استحکام پر پرائم منسٹر کا کابینہ میں بھاشن بھی سنا ہے
سپریم کورٹ کے ججوں کی تنہواہ پانچ لاکھ بڑھا دی ہے
سوال چھوٹا سا ہے قوم سے قربانی مانگنا کب چھوڑیں گے؟
یہ تصویر اس پورے نظام پر طمانچہ ہے اس تصویر پر بہت سے لوگوں نے لکھا ہے اچھا لکھا ہے اس تصویر پر چیخنا چلانا بنتا ہے اشرافیہ کا گلا دبوچ کر سسکیاں دیکھنا بنتا ہے
اس اس بزرگ جوڑے کو احسن اقبال کہتا ہے یہ ٹیک�� نہیں دیتے اس لیے 80 روپے لیوی ہم پیٹرول پر لیتے ہیں
نیتن یاہو بہت فخر سے اسرائیلی کابینہ کو بتا رہے ہیں کہ ایران خطے کے ہر ملک پر حملہ کر رہا مگر اسرائیل پر ایک حملہ نہی کیا کوئی ڈرون کوئی میزائل نہی مارا کیونکہ ایران اسرائیل سے ڈرتا ہے اسے پتہ اسرائیل جواب میں بجا دے گا
ایران صرف مسلم ملکوں پر حملہ کرتا
پاکستان سعودیہ ترکیا کا معاہدہ فرقہ وارانہ ہے، امریکی غلامی ہے، غلط ہے. اسکی مذمت ہونی چاہئے اور اسکے خلاف مہم چلنی چاہئے.
اب نظر ڈالیں حلال معاہدوں پر جن پر پاکستان میں مکمل خاموشی تھی:
2001 میں ایرانی نظام اور پاسداران انقلاب نے افغانستان میں ریجیم چینچ اور قبضہ کرنے کیلئے امریکہ کے ساتھ طاجيكستان میں خفیہ معاہدہ کیا تھا، جسکے مطابق ایران نے افغانستان میں ریجیم چینج اور قبضہ کرنے میں امریکی اور نیٹو افواج کی مکمل عسکری اور انٹیلیجنس مدد کی، ایرانی افسران باقاعدہ افغانستان کے اندر امریکیوں کے ساتھ تھے. پاکستانی مدد صرف ائیر سپیس تک محدود تھی.
2003 میں ایرانی نظام نے خفیہ معاہدے کے تحت امریکی برطانوی افواج کو بغیر لڑے عراق پر قبضہ کروایا. پاسداران کے مجاہد، امریکی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے تھے. اسوقت سعودیہ نے امریکی اڈوں کو خالی کروا دیا تھا کہ سعودی سرزمین سے عراق پر قبضہ نہیں ہونے دے سکتے. امریکی افواج نے قطر میں بیس بنایا اور ایران کی مدد لی.
2003 میں ایرانی نظام نے اپنے نیوکلیئر پروگرام بچانے کیلئے امریکہ اور عالمی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ معاہدہ کیا، جسکے مطابق مراعاتوں کے بدلے پاکستانی ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بے نقاب کردیا اور پاکستانی ایٹمی پروگرام کو داؤ پر لگانے کی کوشش کی.
2004 میں ایرانی نظام نے بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا جو "کسی ملک کے خلاف نہیں تھا!" (سمجھ گئے ہوں گے!)
2011 میں ایرانی نظام نے روس کے ساتھ شام کی عوام کو کچلنے کا معاہدہ کیا ایک ظالم حکمران کو بچانے کیلئے. دس لاکھ سے زیادہ شامی مارے گئے تھے.
2011/2012 کے ل�� بھگ ایرانی نظام نے بھارتی خفیہ ایجنسی کے ساتھ چابہار میں اڈہ قائم کرنے کا خفیہ معاہدہ کیا. پاسداران انقلاب اسلامی فورس کے اڈوں کے درمیان کمانڈر کلبھوشن یادیو کا سیاحتی دفتر کھولا تھا جو "کسی کے خلاف نہیں تھا!"
2015 میں یمن جنگ پر پاکستان میں افراتفری پھیلانے کی کوششیں کی تاکہ پاکستان یمنی اور سعودی حکومتوں کا ساتھ نہ دے، ایرانی وزیر خارجہ اسلام آباد آ گئے ہمارے حکام کو ریاض جانے سے روکنے اور پیچھے سے بھارتی حکام کو سعودیہ بھیج دیا پاکستان کی پوزیشن خراب کرنے.
2015 میں ایرانی نظام نے امریکہ اور بڑی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کئے جن سے بے تحاشا مالی فوائد کے ساتھ ساتھ ی�� معاہدہ بھی کہیں ہوا کہ مغرب اور ایران ملکر کام کریں گے مشرق وسطی میں اور "عرب بہار" مظاہروں کے ذریعے عرب بادشاہتوں کو گرائیں گے.
2016 میں ایرانی نظام نے مودی جی اور افغان صدر کو چابہار معاہدے کیلئے مدعو کیا، گوادر کی توڑ میں، لیکن یہ اقدام بھی "کسی کے خلاف نہیں تھا!"
یہ سب حلال معاہدے تھے. اصل غلط معاہدہ وہ ہے جو پاکستان نے مکہ میں سعودیہ اور ترکیا کے ساتھ کیا ہے.
بھارت کے لئے چابہار ایشیا و یورپ تک رسائی گولڈن گیٹ ثابت ہو سکتی ہے اس بات پر جواد نقویوں کی Toeyan پٹاخے نہیں مارتی لیکن جیسے ہی 3 مُلک اکھٹے ہوئے جو ایران کے خلاف بھی نہیں ہے اس کے باوجود ان کی نفرت سام��ے آ گئی
کبھی تو پاکستان کے سگے بن جایا کرو لعنتیوں
ایران کے بارے میں میں اپنے خیالات کا گاہے بگاہے اظہار کرتے رہتی ھوں۔لیکن جو میرے نظریات تھے وہ سچ ثابت ہوئے۔۔۔۔ایران ایک منافق اور احسان فراموش ملک ہے پاکستان سعودیہ معاہدے کا صدمہ انڈیا اسرائیل سے زیادہ اس منافق کو پہنچا۔۔۔۔پاکستان کو اب اپنے آپ کو ایران کے معاملات سے ہٹا لینا چاہیے۔۔۔۔۔شعر ذہن میں آ رہا ہے
تو لاکھ پڑھے پیار کے منتر اے محسن۔۔۔۔
جن کی فطرت میں ہو ڈسنا ،وہ ڈسا کرتے ہیں۔۔