24 سال کا اندھیرا: تاریخ کا خوفناک ترین سچا واقعہ
اگست 1984ء – ایمسٹیٹن (آسٹریا):
18 سالہ الزبتھ فرٹزل اچانک پراسرار طور پر لاپتہ ہو جاتی ہیں۔ ان کے والد جوزف فرٹزل نے پولیس اور اپنی اہلیہ کو بتایا کہ الزبتھ گھر چھوڑ کر ایک مذہبی فرقے میں شامل ہونے چلی گئی ہیں۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ خوفناک اور ہولناک تھی جس نے بعد میں پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
سچائی جو روح کانپنے پر مجبور کر دے:
الزبتھ کہیں گئی ہی نہیں تھیں! ان کے اپنے ہی والد جوزف فرٹزل نے انہیں گھر کے نیچے بنائے گئے ایک خفیہ اور محفوظ زیرِ زمین تہہ خانے (Cellar) میں قید کر رکھا تھا۔ جوزف نے الزبتھ کو مجبور کیا کہ وہ اپنے گھر والوں کو خطوط لکھے، جن میں یہ ظاہر کیا گیا کہ وہ اپنی مرضی سے گئی ہیں۔ جوزف ان خطوط کو پولیس اور معاشرے کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے استعمال کرتا رہا۔ اگلے 24 سال تک الزبتھ اس تاریک اور دم گھٹنے والی جگہ میں قید رہیں۔ المیہ یہ تھا کہ ان کے خاندان کے باقی افراد اسی گھر میں ان کے بالکل اوپر اپنی عام زندگی گزار رہے تھے اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔ اس قید کے دوران جوزف اپنی ہی بیٹی پر مسلسل ظلم اور شديد جنسی زیادتی کرتا رہا۔ الزبتھ نے اس تہہ خانے میں 7 بچوں کو جنم دیا۔
* ایک بچہ پیدائش کے کچھ ہی عرصے بعد علاج نہ ملنے کے باعث فوت ہو گیا۔ 3 بچے اپنی زندگی کے ابتدائی سال اسی اندھیرے میں گزارتے رہے اور انہوں نے کبھی کھلی ہوا اور سورج کی روشنی نہیں دیکھی۔ باقی 3 بچوں کو جوزف اوپر اپنے گھر لے آیا اور بیوی کو یہ کہانی سنائی کہ الزبتھ ان بچوں کو گھر کے دروازے پر چھوڑ گئی ہے۔ اس کی بیوی اس ہولناک حقیقت سے بالکل بے خبر رہی۔ اپریل 2008ء میں تہہ خانے میں قید بچوں میں سے ایک بچی کی طبیعت شدید ناساز ہو گئی اور اسے ہنگامی بنیادوں پر اسپتال لے جانا پڑا۔ ڈاکٹروں کو بچے کے طبی ریکارڈ، پراسرار بیماریاں اور ماں کی عدم موجودگی پر شدید شک ہوا۔ بالآخر جوزف الزبتھ کو بھی اسپتال لانے پر مجبور ہوا، جہاں پولیس نے موقع ملتے ہی دونوں کو الگ کر دیا۔
جب پولیس نے الزبتھ کو مکمل تحفظ اور آزادی کی یقین دہانی کرائی، تو ان کے صبر کا بندھن ٹوٹ گیا اور انہوں نے اپنے اوپر ہونے والے 24 سالہ مظالم کی پوری داستان بیان کر دی۔
عدالت کا فیصلہ: مارچ 2009ء میں جوزف فرٹزل نے قتلِ عمد، قیدِ بے جا، زنا بالجبر، اور انسانوں کی اسمگلنگ جیسے تمام سنگین جرائم کا اعتراف کر لیا، جس پر عدالت نے اسے عمر قید کی سزا سنا کر جیل منتقل کر دیا۔ يہ واقعہ صرف ایک جرم کی داستان نہیں، بلکہ انسان کے اندر چھپے درندے اور معاشرتی بے حسی کا ایک ایسا آئینہ ہے جو ہر باضمیر انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ مظلوم کا صبر اور سچائی بالآخر رنگ لاتی ہے، اور ظالم کا انجام ہمیشہ رسوائی اور ذلت پر ہوتا ہے۔
آخر کب تک بلوچ کی زمین کو بلوچ کے لئے ہی تنگ کر کے میدان جنگ بنا کر خوف کے سائے میں جینے پر مجبور کیا جائے گا؟
سامی سے واحد بخش بلوچ کو فورسز کا دن دھاڑے سرے عام اغواہ کرنا ان ان گننت واقعات میں سے ایک ہے جو روزانہ کی بنیاد پر بلوچوں کے ساتھ ہو رہے ہیں
#EndEnforcedDisappearances #Balochistan