آپ ﷺنے فرمایا:
کوئی شخص نماز کی وجہ سےجب تک کہیں ٹھہرارہے گا اس کایہ سارا وقت نماز میں شمار ہو گااور ملائکہ اس کےلیے یہ دعا کرتےرہیں گے کہ اے اللہ! اس کی مغفرت فرمااور اس پر اپنی رحمت نازل کر(اس وقت تک)جب تک وہ نماز سےفارغ ہوکر اپنی جگہ سے اٹھ نہ جائےیابات نہ کرے۔
(بخاری،۳۲۲۹)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ بدر والوں کی طرف متوجہ ہوا اور انہیں نظر رحمت و مغفرت سے دیکھا تو فرمایا: جو عمل چاہو کرو میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے ۔
(سنن ابی داؤد،۴۶۵۴)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کہ کچھ کھا نہ لیتے نہیں نکلتے اور عید الاضحی کے دن نہیں کھاتے جب تک کہ ( عید گاہ سے ) واپس نہ آ جاتے۔
(سنن ابن ماجہ،۱۷۵۶)
نبی کریم ﷺنے فرمایا:
ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا جب کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے نوکر��ں سے کہہ دیتا کہ اس سے درگزر کر جاؤ۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے ( آخرت میں ) درگزر فرمائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ( اس کے مرنے کے بعد ) اس کو بخش دیا۔
(بخاری،۲۰۷۸)
ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ!
میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟
فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔
پوچھااس کے بعد کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔
پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ آپ ﷺنے فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔
++