بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رَّبِّ ارۡحَمۡہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا
(ﷲ کے حضور) عرض کرتے رہو:
"اے میرے رب! (میرے) ان دونوں (والدین ) پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔"
کبھی مَرَے بلوچ، کبھی مَرَے پٹھان کبھی مَرَے کشمیری، کبھی مَرَے پنجابی کبھی مَرَے ہیں سندھی
جب تک نکلو گے تم اکیلے یوں ہی رہے گا ظلم رواں مل کے جس دن نکلو گے بن جاؤ گے اُس دن تم
آزاد! آزاد!
پاکستان!
#سر_بکف_میدان_میں#AzadPakistan
سہیل آفریدی کہہ چکے ہیں مجھے وقت دیں میری پالیسی پر چلیں میں امن بحال کر سکتا ہوں پھر مسئلہ کس کو ہے؟ جب فارم 47 حکومت کے ہاتھوں معیشت تباہ کرنے کا وقت دےدیا گیا تو سہیل آفریدی کو امن کی خطرہ وقت کیوں نہیں دیا جاسکتا؟
علی امین کے ساتھ آۓ کارکنان علی امین گنڈاپور سے لڑ پڑے، یہ لوگ نہ تو علی امین کے ہیں نہ ہی سہیل آفریدی کے یہ عمران خان کے چاہنے والے ہیں جب کوئی عمران خان کو دغا دینے کی کوشش کرے گا یہ کھڑے ہو جائیں گے
علی امین کا قافلہ گھنٹوں سے ایک جگہ پر کھڑا ہے کارکنان رکاوٹیں ہٹانے کا مطالبہ کر کے آگے بڑھنا چاہتے ہیں
آج تین لوگوں نے ہوائی سفر کیا
ایک لاہور سے عمان
دوسرا لاہور سے پشاور
تیسرا پشاور سے لکی مروت
تینوں کے پاس سرکاری جہاز یا ہیلی کاپٹر تھا لیکن ایشو صرف پشاور لکی مروت والا ہے
"ہم سر بھی واریں اور اپنے گلے میں لٹکی بغاوت کی دفعات بھی گنیں۔ہم بے موت مرنے سے انکار کریں تو دہشت گرد ہیں۔امن کا سوال کریں تو غدار ہیں۔ تو پھر وفادار کون ہے؟ تم؟یا تمہارے قدم بوس یہ زباں دراز؟"۔ مراد سعید
@MuradSaeedPTI
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
احتجاج ایسے بھی ہوتا ہے !
پنجاب کے نوجوانوں کا جعلی حکومت اور مریم نواز کو آئینہ دکھانے کا جدید طریقہ ۔
ستھرا پنجاب کی دھلائی میں سب شہری حصہ ڈالیں
#اکتوبر4_آغاز_مزاحمت .
رجیم چینج کے بعد پی ڈی ایم حکومت کے سامنے افغانستان سے طالبان کو واپس لانے کے منصوبے کو ڈی جی آئی اور آرمی چیف نے رکھا اور انہوں نے بغیر کسے چوں چرا کے لبیک کہا۔ وہی پلان جس پر عمران خان اور ہم نے ابسولوٹلی ناٹ کہا تھا۔ اگلے ہفتے افغانستان ایک وفد بھیجا گیا جس کو عوامی نمائندہ وفد کہا گیا۔ میں نے پریس کانفرنس میں سوال اٹھائے کہ منتخب اراکین میں سے کوئی نہیں گیا کس کو ہمارے فیصلے کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے؟
جولائی ۲۰۲۲ کے آخری دن افغانستان سے طالبان کی پہلے تشکیل ہوئی۔اگست کے پہلے ہفتے میں جب سوات اور دیر کے پہاڑوں تک پہنچے تو ہم نے مجبوراً عوامی طاقت سے ان کو واپس دھکیلا۔ پہلے آئ ایس آئی اور فوج نے دھمکیاں دیں کہ سٹے آوٹ اف اٹ، پھر جب عوامی طاقت کے سامنے بے بس ہوئے تو مجھے الیونتھ کور،آئی ایس پی آر اور آیی ایس آیی سے فون کروایا کہ ”دیکھیں مراد صاحب وعدے کے مطابق آپ کا سوات کلییر ہوگیا ہے آپ نے باقیوں کو ٹھیکہ تو نہیں لے رکھا”۔ٹھیکا تو ہم نے لے رکھا تھا، کہا جب تک یہ واپس نہیں جائیں گے مظاہرے جاری رہیں گے۔ اور ۱۶ اگست ۲۰۲۲ کو آخری بندہ بھی سرحد پار چلا گیا۔ آئ ایس پی آر نے اس کا کریڈٹ لیا۔ پریس ریلیز جاری کی۔
اس کے بعد تو امن ہونا چاہئے تھا ناں؟
سرحد پر باڑ لگی ہوئی تھی، سیکورٹی یقینی بنانی چاہئے تھی ناں؟
لیکن ستمبر ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پھر سے ان کو لانے کا انتظام کیا گیا۔ اس دفعہ دونوں جانب سے کالز موصول ہوئیں کہ سٹے آوٹ اف اٹ۔ ہم کیسے رُک سکتے تھے؟ ہماری تو زندگیوں کا سوال تھا۔ عوام کو موبلائز کیا پھر بھی سنوائی نہیں ہوئی۔ پنڈی میں مظاہرہ کیا اور اگلے دن پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔ فوج کی گاڑیاں آئیں، پولیس کو ہٹایا اور ان کو واپس افغانستان کی سرحد پر چھوڑ آئے۔ مجھے وارن کیا کہ یو ہیو کراسڈ دی لائن۔۔ کون سی لائن؟ امن قائم کرنا بھی فوج کی ریڈ لائن ہوگئی؟
پھر فیصلہ ہوا کہ مالاکنڈ والے تو آنے نہیں دے رہے لہذا جنوبی اضلاع سے ان کو لایا جائے۔ یہ اطلاع ملتے ہی میں نے اسلام آباد میریٹ میں دہشت گردی کی واپسی اور نئی لہر کے عنوان سے میڈیا، تجزیہ نگاروں، سفارت کاروں، سابق پولیس افسران اور سیکورٹی ایکسپرٹس کے لیے سیمینار رکھا کہ پالیسی بدلیں ورنہ پھر جنازے اٹھیں گے۔ جنوبی اضلاع سے تحریک اٹھانے کا اعلان بھی کیا۔ پھر یوں ہوا کہ بغاوت، غداری، دہشت گردی کے مقدموں کے بعد سر کی قیمت بھی لگا دی اور یہ سب نو مئی سے پہلے ہوا۔ پھر اپنے مضموم مقاصد کی تکمیل کے لیے نو مئی کا سہارا لیا گیا۔
اب بجائے اس کے کہ اپنی غلط پالیسی پر معافی مانگ کر پختونخواہ اسمبلی میں تمام سیاسی جماعتوں، علماء، طلباء، وکلاء، سول سوسائٹی، میڈیا ودیگر کے جرگے میں بنی پالیسی اپنا کر دنوں میں امن حاصل کیا جائے اپنی اسی ڈالری جنگ کا ایندھن اپنے جوانوں اور شہریوں کو بنایا جا رہا ہے۔
عمران خان کی رہائی کے لیے شروع ہونے والا مارچ اب صرف عمران خان کی رہائی تک محدود نہیں رہا۔ واضح ہوا کہ جو میڈ اپ دہشت گردی لائی گئی اب ایک مرتبہ پھر آپ کو اس کا ایندھن بنانے کے لیے عمران خان کی حکومت صوبے میں ختم کرکے وہی کھیل شروع کرنا ہے۔
پورے پختونخواہ کو پیغام دو اگر بے گھری سے بچنا ہے۔ آئی ڈی پی کیمپس کی زندگی نہیں چاہئے، مارٹر گولوں، لڑاکا طیاروں اور توپ کی گولیوں کا نشانہ نہیں بننا چاہتے۔ اپنے ہی گھر میں گلے میں شناختی پٹے ڈال کر چیک پوسٹوں پر ذلیل ہونے کے بعد، ان گھس بیٹھیوں کے اس سوال کا سامنا نہیں چاہتے کہ ”تم کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ کہاں کو جارہے ہو؟“ تو پوچھو کہ تم ہو کون ہمارے فیصلے کرنے والے؟ للکارو کہ ہم اپنے گھروں سے بے گھر نہیں ہوں گے۔ نکلو۔ کہ یہ لڑائ آج سے پہلے بھی صرف عمران خان کی نہیں تھی۔ اور آج تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ داؤ پر لگی یہ زندگیاں تمہاری ہیں۔ جیل میں بیٹھا عمران خان، تمہارے ووٹوں سے بنی اس کی یہ حکومت تو محض ان خون آشام درندوں کے مقابلے میں تمہاری آخری ڈھال ہیں۔
#HappyBirthdayImranKhan#اکتوبر5_یوم_عمران_خان
IMRAN KHAN IS A DIFFERENT CODE IN A HUMAN SOUL
Driven by conviction,
shaped by adversity,
and defined by an extraordinary refusal to live an ordinary life.
From the cricket field to philanthropy,
from building institutions to leading a nation,
from triumphs to trials
His journey has carried him through chapters
few human lives ever contain.
What an Era.
What a Legacy.
What a Story still being written.
We were truly living in an era of the great Imran Khan and we are proud of it!
آپ کے بقول اگر وزیراعلیٰ “ناسمجھ” اور “امیچور” بھی ہے، تو بھی کم از کم عوام کے ووٹ سے منتخب تو ہوا ہے۔ ایسے “ناسمجھ” منتخب وزیراعلیٰ بھی اُن “انتہائی سمجھدار” غیر منتخب اور مسلط کردہ لوگوں سے کہیں بہتر ہیں جنہیں عوام نے کبھی ووٹ دیا ہی نہیں۔ آخر آئین بھی یہی کہتا ہے کہ ملک عوام کے مینڈیٹ سے چلے، کسی کی مرضی سے مسلط کیے گئے “ذہینوں” سے نہیں
ونس فار آل بلوچستان میں ایس ایچ او کی مدد سے دہشتگردی ختم کر دیں ۔۔۔ونس فار آل کرکٹ کی تباہی ختم کر دیں ۔۔ ونس فار امن و امان قائم کریں
ونس فار آل اپنا مذاق مت بنائیں
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا ہیلی کاپٹر نظر آگیا تو فوراً اسلام آباد ہائی کورٹ کی توہینِ عدالت یاد آ گئی؟
ذرا یہ بھی بتا دیں:
الیکشن بروقت نہ کروانا کیا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی نہیں تھی؟
مخصوص نشستوں کا معاملہ کیا عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق حل ہوا؟
عمران خان کی بہنوں کو ملاقات سے روکنے کے معاملات پر عدالتی احکامات کیا کہتے تھے؟
اور عمران خان کو عدالت کے حکم کے باوجود ہسپتال منتقل نہ کرنے پر تو خود سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی کارروائی کا معاملہ سامنے آیا تھا۔
تو پھر سوال سیدھا ہے:
کیا عدالت کا احترام صرف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ہیلی کاپٹر تک محدود ہے، یا عدالتی احکامات سب کے لیے یکساں ہیں؟