23 مارچ 1940 گزشتہ صدی کا تاریخ ساز، عظیم دن تھا جب دور اندیش اکابرینِ اہلِ حق نے یہ حتمی فیصلہ کیا کہ "لا الہ الا اللّٰہ" کی بنیاد پر برصغیر میں مسلمانوں کی بقا کے لیے ایک ایسی ریاست کا وجود ناگزیر ہے جس میں محمد الرسول اللّٰہ ﷺ کا دین دستور کی صورت میں رائج ہو گا، آزادی کی طویل کوششوں کا ثمر پاکستان کی صورت میں ظاہر ہوا مگر دیکھتے ہی دیکھتے تختِ پاکستان پر یہود و ہنود کے غلاموں کا تصرف ہوتا گیا، ہم بانیانِ پاکستان کے روحانی وارث اس تاریخی دن کے موقع پر اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ پاکستان کو اسکی بنیاد "لا الہ الا اللّٰہ" کی طرف لوٹانے کے لیے شبانہ روز محنت کرتے ہوئے دینِ محمدی ﷺ کو دستورِ ریاست بنانے کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کریں گے۔
امیرِ محترم
آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10 اور 14 کے تحت امیر تحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی صاحب٫ رکن شوری حافظ انس حسین رضوی صاحب اور رکن شوری غلام عباس فیضی صاحب کی جبری حراست کو ختم کرکے فلفور عدالت میں پیش کیا جائے٫ ترجمان تحریک لبیک پاکستان
معرکہ حق میں رضاکارانہ طور پر جس جماعت کی سوشل میڈیا ٹیم نے ہر لمحہ اس دشمن کے پروپیگنڈے کا دفاع کیا اور جو افواج پاکستان کے شانہ شبانہ بینان مرصوص بن کر لڑی وہ “ لبیک “ بھی ہے۔
جو سب سے پہلے گودی میڈیا کے خلاف متحرک ہوئے
ایسے گمنام دوستوں کو سلام
سعدحسین رضوی نوجوان ہیں اپنے باپ کی وفات کے بعد جس طرح پورے ملک میں کرین پارٹی کی کمپین چلاکر جماعت کو متحرک کیا ایسی مثال کہیں نہیں ملتی، کہاجاتا تھا علامہ خادم حسین رضوی کےبعد کرین پارٹی ختم ہوجائےگی مگر سعدحسین رضوی نے ملک بھرمیں جس طرح محنت کرکے کمپین چلائی یہ حیرت انگیز تھا