آف وائٹ سکارف،خاکی ڈریس،سفید جاگرزمیں ملبوس ڈاکٹرعافیہ چھوٹےسے کمرے میں پارٹیشن کرکےشیشہ لگاکرٹیلیفون پر3 گھنٹے ملاقات/گفتگو،جو مکمل ریکارڈ ہورہی تھی،عافیہ کی صحت کمزور،بارباران کےآنکھوں میں آنسو،جیل اذیت سےدکھی اور خوفزدہ تھی،سامنے کےاوپرکے4 دانت ٹوٹے ہوئے تھے،ان کے سر پرچوٹ کی وجہ سےسماعت میں مشکل پیش آرہی ہے،وہ بار بار کہہ رہی تھی مجھے اس جہنم سےنکالو،3گھنٹے ملاقات میں ڈاکٹرفوزیہ اوروکیل کلائیوسمتھ بھی موجود،ملاقات کے اختتام پرزنجیروں میں لےجایا گیا،ان کا دھیان بدلنے،ان کو جیل میں کتابوں میں مصروف رکھنے کی خاطرمیں انکو ادب،شعروشاعری کے موضوعات پر لاتی توغالب،اقبال اورحفیظ جالندھری اورفلسفیانہ،علمی گفتگوپرغیرمعمولی قادرالکلامی کامظاہرہ کرتی لیکن اچانک بچے،امی،اور جیل۔کی اذیت اور جیل کی یہ خوفناک مستقبل یاد آتی تو اداس ہوکرکہتی مجھے اس جہنم سےنکالو۔
حکمرانوں،مظلوم ڈاکٹر عافیہ رہا کراو۔
ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آبادمیں پڑی ہے۔