"سندھ میں رہنا، سندھ کا کھانا کھانا، اور پھر سندھ ہی سے نفرت کرنا کتنی شرمناک بات ہے۔ یہ نہ صرف احسان فراموشی ہے بلکہ اس دھرتی کے لوگوں کے جذبات کی بھی توہین ہے۔"
ہسپتال میں جب عبدالرازق سے پوچھا گیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا تو ان کا کہنا تھا 'مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ اچانک پیچھے سے آوازیں آئیں۔ جب میں نے مڑ کر دیکھا تو ایک خاتون چیختے ہوئے میری طرف آرہی تھی۔ میں نے دیکھا تو وہ درد کے مارے خود کو نوچ رہی تھی اور کپڑے پھٹ چکے تھے۔ مجھے کسی چیز کا اندازہ نہیں ہوا اس لیے میں نے سب سے پہلے اپنا کوٹ اتار کر اس کے چہرے پر ڈالا کیونکہ وہ بے پردہ ہو رہی تھی لیکن اس دوران تیزاب کا اثر مجھ پر ہوگیا اور میں گر پڑا۔ اس کے بعد مجھے کوئی علم نہیں کیا ہوا'
وزیراعلیٰ بلوچستان نے ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو بچانے کی کوشش کرنے والے عبدالرازق کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان کیا ہے ناصر قبیلے کے مشران نے انہیں ہسپتال جا کر داد دی اور کہا 'ان کی یہ بہادری ہم سو سالوں تک نہیں بھول پائیں گے'
حملہ کرنے والا مرد تھا۔ بچانے کی کوشش کرنے والا بھی مرد تھا۔ فرق فقط اتنا تھا کہ حملہ کرنے والا لعنتیں وصول کر رہا ہے جبکہ بچانے کی کوشش کرنے والا داد و تحسین سمیٹ رہا ہے۔
کوئٹہ کے سول ہسپتال میں 6 جون ڈاکٹر ماہ نور نامی ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکا گیا۔ یہ تیزاب ایک مرد نے پھینکا اور بھاگ نکلا۔ پولیس نے ایک کارروائی میں مبینہ طور پر اسے پار کر دیا ہے۔
دوسری طرف بچانے کی کوشش کرنے والا عبدالرازق بہادری کا استعارہ بن گیا ہےہم اکثر 'مرد' کو ایک اکائی کی طرح بیان کرتے ہیں جیسے سب ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوں۔جب کوئی عورت کسی مرد کے ہاتھوں تش۔دد کا شکار ہوتی ہے تو سوال اٹھتا ہے 'مرد ایسے کیوں ہوتے ہیں؟' یا 'سارے مرد ایک جیسے ہوتے ہیں ' اور جب کوئی مرد اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچانے کو دوڑتا ہے تو اس کا ذکر عموماً حاشیے میں ہوتا ہے۔
ہمایون شاہ نامی اس ملزم نے ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکا اس نے جو کیا وہ بظاہر ایک ایسی ذہنیت کا اظہار تھا جو عورت کو اپنے غصے، حسد یا تکبر کا نشانہ سمجھتی ہے۔ وہ ذہنیت جو طاقت کا مطلب دوسرے کو دھتکارنا سمجھتی ہے۔۔۔جبکہ عبدالرازق نے اسی لمحے، اسی جگہ کچھ اور ثابت کیا۔ اس نے ثابت کیا کہ مردانگی کا مطلب گرتے ہوئے کو تھامنا ہے۔
ہمارے ہاں مردانگی کا جو تصور رائج ہ�� وہ بڑی حد تک غلط ہے۔ ہم نے مرد کو طاقتور بنا کر پیش کیا ہے لیکن یہ نہیں سکھایا کہ طاقت کی ڈائریکشن کیا ہونی چاہیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طبقہ وہ بنا جو کمزور پر اپنی طاقت آزماتا ہے اور دوسرا طبقہ وہ جو اسی طاقت کو ڈھال بناتا ہے۔
ہمایون نے پہلی قسم کی مردانگی کا مظاہرہ کیا جبکہ عبدالرازق نے دوسری۔ ایک نے ثابت کیا کہ وہ کتنا خوفزدہ ہے اندر سے۔ کیونکہ تیزاب وہی پھینکتے ہیں جو کسی کو برابر کا انسان نہیں سمجھتے۔۔دوسرے نے ثابت کیا کہ انسان ہونا کیا ہوتا ہے!
ہمارے معاشرے میں بہادری کے بڑے بڑے قصے لکھے جاتے ہیں میدان جنگ، تلوار اور بندوق کی کتنی ہی کہانیاں ہم سن چکے ہیں لیکن میرے مطابق سب سے بڑی بہادری وہ ہوتی ہے جب آپ کسی کے حق میں بغیر کسی لالچ اور تعریف کے اس وقت سامنے آئیں جب سب پیچھے ہٹ چکے ہوں۔ عبدالرازق اس لمحے وہاں تھا اور اس نے وہ کیا جو بہت سے لوگ نہیں کرتے یا نہیں کر پاتے۔ وہ رکا نہیں، پیچھے نہیں ہٹ��، یہ نہیں سوچا کہ 'میرا کیا کام'بلکہ اس نے بچانے کی کوشش کی۔
پاکستان میں خواتین ڈاکٹرز، استانیوں، صحافیوں اور کارکنوں پر تشدد کی ایک بڑی تاریخ موجود ہے۔ ہر بار ہم سوگ مناتے ہیں بیانات دیتے ہیں، ہیش ٹیگ چلاتے ہیں اور پھر اگلے واقعے تک کسی اور کام میں مصروف ہوجاتے ہیں لیکن شای�� اصل سوال یہ نہیں کہ ہمایون شاہ جیسے لوگ کیوں ہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ عبدالرازق جیسے لوگ ہم کیوں نہیں بناتے؟ یہ تو واضح ہے کہ معاشرہ اپنے محافظوں سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ ہمایون جیسے لوگ افسوس ناک حد تک ہر معاشرے میں ہوتے ہیں لیکن عبدالرزاق بھی تھا۔ اور عبدالرزاق کا ہونا اس امید کی کرن ہے کہ اب بھی بہت کچھ باقی ہے۔
ڈاکٹر ماہ نور ناصر ابھی کراچی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ حکومت نے انہیں ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی بھیجا۔ واقعے کے بعد حکومت نے بہت کچھ کیا۔ یہ سب ضروری تھا۔ لیکن کافی نہیں کافی تب ہو گا جب کوئٹہ کے ہر ہسپتال میں کوئی عورت چاہے ڈاکٹر ہو، نرس ہو، یا مریض محفوظ محسوس کرے۔
میں یہ تحریر عبدالرازق کے لیے لکھ رہا ہوں اس لیے نہیں کہ وہ ہیرو ہے بلکہ اس لیے کہ ہم اکثر ایسے لوگوں کو بھول جاتے ہیں۔ ہم حملہ آور کو یاد رکھتے ہیں۔۔ اس کا نام، اس کی تصویر، اس کا انجام سب یاد رہتا ہے لیکن بچانے والا کہیں گم ہو جاتا ہے۔ یہ غلط ہے۔ جس دن ہم ہمایون شاہ کو بھول جائیں اور عبدالرازق کو یاد رکھیں اس دن یہ معاشرہ کچھ بہتر ہو گا۔
ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے لیے دعا ہے کہ وہ صحت یاب ہوں اور ان جیسی ہر بیٹی کے لیے جو اس ملک کی خدمت کرنے نکلتی ہے اور اپنی جان خطرے میں پاتی ہے۔
ادیب یوسفزئی
ایک لڑکے کی شادی ہوئی۔
بیوی بینک میں برانچ مینیجر تھی۔
تنخواہ: 90 ہزار روپے۔
شوہر ایک پرائیویٹ کمپنی میں جاب کرتا تھا۔
تنخواہ: 50 ہزار روپے۔
شروع کے چند مہینے بہت خوبصورت گزرے۔
دونوں مل کر خواب بناتے…
چھوٹا سا گھر، بچوں کی اچھی تعلیم، اور سکون والی زندگی۔
لیکن پھر…
معاشرہ درمیان میں آ گیا۔
ایک دن خاندان کی دعوت میں کسی رشتے دار نے ہن��تے ہوئے کہا:
"او بھائی… بیوی تو تم سے ڈبل کماتی ہے!"
دوسرا بولا:
"یار، گھر میں اصل باس کون ہے پھر؟"
سب ہنسنے لگے…
مگر شوہر خاموش ہو گیا۔
وہ ہنسی اس کے دل میں کیل بن کر لگ گئی۔
آہستہ آہستہ وہ بدلنے لگا۔
گھر آتا تو چڑچڑا پن، غصہ، خاموشی…
ایک رات اچانک بول پڑا:
"تم نوکری چھوڑ دو!"
بیوی حیران رہ گئی۔
"کیوں؟"
شوہر نے غصے سے کہا:
"کیونکہ لوگ میری مردانگی پر ہنستے ہیں!"
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
بیوی چند لمحے اسے دیکھتی رہی…
پھر آہستہ سے اپنی سیلری سلپ اس کے سامنے رکھی۔
اور نرم لہجے میں بولی:
"جب میں پیدا ہوئی تھی نا… تب بھی لوگوں نے میرے ابو سے یہی کہا تھا…"
"اوہ… بیٹی ہوئی ہے؟ بوجھ آ گیا!"
"لیکن میرے ابو نے لوگوں کی نہیں سنی۔
انہوں نے مجھے پڑھایا… سنبھالا… ہمت دی۔
آج میں 90 ہزار کماتی ہوں… کیونکہ ایک باپ نے اپنی بیٹی کے پَر نہیں کاٹے تھے۔"
شوہر خاموشی سے سنتا رہا۔
بیوی کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
"اگر آج میں صرف لوگوں کے ڈر سے نوکری چھوڑ دوں…
تو کل ہماری بیٹی بھی یہی سنے گی کہ عورت کی کامیابی مرد کی بے عزتی ہے۔"
"آپ کی 50 ہزار… اور میری 90 ہزار…
یہ مقابلہ نہیں، ہماری ٹیم ہے۔"
"1 لاکھ 40 ہزار میں ہمارے بچوں کے خواب بستے ہیں…
ان کا مستقبل… ان کی عزت… ان کی پڑھائی…"
پھر اس نے شوہر کا ہاتھ پکڑا اور کہا:
"مردانگی عورت کو دبانے میں نہیں ہوتی…
اس کا ہاتھ تھامنے میں ہوتی ہے۔"
"حضرت خدیجہؓ نبی ﷺ سے زیادہ مالدار تھیں۔
انہوں نے تجارت کی… کامیابی حاصل کی…
مگر نبی ﷺ نے کبھی اپنی انا کو درمیان میں نہیں آنے دیا۔"
"اصل مرد وہ ہوتا ہے…
جو اپنی عورت کی کامیابی پر فخر کرے، خوف نہیں۔"
یہ سن کر شوہر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
اسے پہلی بار احساس ہوا…
وہ اپنی بیوی سے نہیں، لوگوں کی سوچ سے ہار رہا تھا۔
اگلے دن خاندان پھر اکٹھا تھا۔
اسی رشتے دار نے دوبارہ طنز کیا:
"او بھائی، بیوی اب بھی تم سے زیادہ کماتی ہے؟"
اس بار شوہر مسکرایا…
اور مضبوط آواز میں بولا:
"ہاں۔
اور مجھے اس پر ف��ر ہے۔"
"کیونکہ میری بیوی صرف پیسے نہیں کماتی…
وہ میرے بچوں کا مستقبل بناتی ہے۔"
"اس کی کمائی میں غرور نہیں… برکت ہے۔
اور میں خوش نصیب ہوں کہ میرے گھر میں ایک مضبوط عورت موجود ہے۔"
اس دن پہلی بار…
بیوی نے اپنے شوہر کو واقعی "مرد" محسوس کیا۔
مورل آف دی اسٹوری:
1. عورت کی کامیابی، مرد کی ناکامی نہیں ہوتی۔
2. کامیاب شادی وہاں ہوتی ہے جہاں انا نہیں، ساتھ ہوتا ہے۔
3. اصل مرد وہ ہے جو عورت کے خواب ��وڑتا نہیں… انہیں پورا کرنے میں ساتھ دیتا ہے۔
4. میاں بیوی اگر ٹیم بن جائیں، تو غربت بھی ہار جاتی ہے
@Arfana_Mallah کسی ایک قوم کا بسیرا ھوتا تو شھر کا حال اچھا ھوتا
کراچی تو دشمنوں کے بھینٹ چڑھ گیا ھے لٹیرے ھیں سب جو اس شھر کے کھنڈرات میں انسانوں کو ٫ خوشیوں کو ٫ روڈوں کو٫ ھر چیز کو تباہ کرکے رو رھے ھیں ۔
روزگار کے لئے صرف کراچی ھی مل گیا ھے ۔۔
پنجاب صادق آباد !!
25 افراد بشمول بچوں کو گردوں میں پتھری کے آپریشن کا کہہ کر سب کے گردے نکال لئے گئ�� !!
طاقتور شیطانوں کا چہیتا ڈاکٹر فواد مختار اب تک 328 افراد کے گردے نکال چکا ہے جو روپورٹ ہوئے ہیں !!
قرآن کو کوئی خطرہ نہیں،
شیعوں کو کوئی خطرہ نہیں،
سنیوں، دیوبندیوں اور بریلویوں کو کوئی خطرہ نہیں،
پاکستان میں خطرہ اگر ہے تو سندھیوں کو ہے۔
— Riaz Ali Chandio
🚨"اسرائیلی فوجیوں نے مجھے تھپڑ مارے، مجھے لاتیں ماریں،مجھ پر جنسی حملہ کیا انہوں نے میری پتلون اور انڈرویئر اُتار کر اندر ہاتھ ڈالے کچھ فوجیوں نے تو اندر ہتھیار تک ڈالے۔" یہ ��ُلم غزہ میں خوراک لیکر جانے والی مغربی خاتون پر کیا گیا اور انکی اپنی مغربی حکومت کو اسکی پرواہ نہیں ہے
It’s not your daughter, but she deserves the same respect, the same safety, and the same humanity.
Don’t stop talking about Palestine. 🇵🇸 https://t.co/LT60MqlU6T
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
قابلِ نفرت ہے وہ واعظ !! جو بھرے ہوئے پیٹ کہ ساتھ منبر پر بیٹھ کر , بھوکوں کو صبر کی تلقین کرتا ہے
ڈیرہ غازی خان، پاکستانی چوک میں مزدوری کی تلاش میں بیٹھا ایک بزرگ مزدور زندگی کی بازی ہار گیا۔ یہ پوسٹ دیکھ کر میرا دل ڈوب سا گیا ہے کیا گزری ہوگی ان بچوں پر جن کے لیے روٹی کمانے گیا تھا 🥹🥹
کشمیر میں ہندو آبادکاروں نے 13 سالہ لڑکی کو اس کے قرآن کی درس کے لیے جاتے ہوئے اغوا کیا، اس کے ساتھ زیادتی کی اور اسے قتل کر دیا۔
اگر صورتحال الٹ دی جائے، اور مجرم مسلمان ہوتا، تو پوری دنیا غصے سے بھر جاتی۔
ڇا بلوچستان جا مظلوم قومپرست پنهنجي پاڻ کي سنڌ جي مظلومن کان پنهنجي پاڻ کي الڳ سمجهن ٿا جو سنڌ جي هن مظلومن کي اغوا ڪن ٿا. چوري اغوا ۽ ڏاڍ ۾ جي سنڌ جو ماڻهو ملث ھجي ته اوھان اھو عمل ڪيو نه ته سعيد ميمڻ کي آزاد ڪري ليکا چوکا صاف ڪيو. اوھان مان چڱائي جي اميد رکنداسون.