⚡ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں کلاچی نڈی گیٹ کے قریب سیکورٹی فورسز اور فــتنہ خــوارج کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
مقابلے کے دوران گنڈہ پور گروپ سے وابستہ دو خــوارج دہشتگرد جہــنم واصــل کر دیے گئے۔
سیکورٹی فورسز نے اسلحہ اور دو موٹر سائیکل سمیت اہم مواد برآمد کیا۔۔۔
وارفرنٹ شُہَداء:🤲🇵🇰
لانس نائیک وقار 35 FF نے خدمت وطن کے دوران بہادری اور عزت کے ساتھ شہادت کے بلند مقام کو حاصل کیا۔
ایک دل دوز مگر انتہائی متاثر کن تقدیر کے موڑ پر، جس دن وہ پاکستان کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر رہے تھے، اسی دن اللہ تعالیٰ نے ان کے گھر ایک بیٹے کی پیدائش سے نوازا۔ جب ایک جان وطن کی خدمت میں قربان ہوئی، تو دوسری جان ان کے مشن اور ورثے کو آگے بڑھانے کے لیے دنیا میں آئی۔
یہ نو زائیدہ بیٹا بڑا ہو کر یہ جانے گا کہ اس کے والد ایک بہادر سپاہی تھے، جنہوں نے امن و سکون کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔۔۔ باپ اپنے بیٹے کو گلے لگانے سے محروم رہا، مگر اس کی قربانی ہمیشہ فخر، عزت اور تحریک کا منبع بنی رہے گی۔
اللہ تعالیٰ شہید کو جنت الفردوس میں اعلی ترین درجات عطا فرمائے اور ان کے خاندان کو صبر جمیل، استقامت اور ہمت کاملہ عطا کرے۔
بے شک، ہیروز نہیں مرتے۔۔۔ ان کی یاد اور ورثہ نسلوں تک زندہ رہتا ہے۔
▪️وارفرنٹ آپریشنز شمالی وزیرستان:
گزشتہ دن میران شاہ میں سیکیورٹی فورسز کے ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کی ناکام کوش�� کرنے والے خودکش بمبار کی پروفائل تصویر۔
حملہ آور کی شناخت عمر خراساني (افغان) کے نام سے ہوئی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے اسے ختم کر دیا، جس کے نتیجے میں حملہ مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق، کلیئرنس آپریشن کے دوران چار مزید فــتنہ الخــوارج (IMP) دہشتـــگرد بھی جہــنم واصــل کردیے۔
سیکیورٹی فورسز کی تیاری اور بروقت ردعمل نے ممکنہ بڑے جانی نقصان سے علاقے کو محفوظ رکھا۔
SSG Commando Saim Ayub Shaheed, belonging to the 5th Commando Battalion and hailing from Jhang, was martyred during an intense exchange of fire with Fitna Al-Khawarij in the Miran Shah area of North Waziristan.(Inalilahi waina ilahi rajion). The brave soldier laid down his life in the line of duty. His funeral prayers were offered with full military honors in his native home town.
دومیل، بنوں میں پولیس سٹیشن پر خودکش حملہ کرنے والا دہشتگرد شناخت ہو گیا
دومیل، بنوں میں 2 اپریل کو پولیس سٹیشن پر ہونے والے خودکش دھماکے میں ملوث خودکش بمبار کی شناخت احسان اللہ عرف خاکسار کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ افغانستان کے قندھار صوبے کے ضلع ژری کا رہائشی اور افغان شہری تھا۔
اس خودکش حملے میں پانچ عام شہری جاں بحق ہو گئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ 13 دیگر افراد زخمی ہوئے۔
Breaking news: According to details received by Mahaz, the suicide bomber involved in the attack on a police station in Domail, Bannu, on April 2, has been identified as Ehsanullah alias Khaksar, an Afghan national from Zhari District, Kandahar Province, Afghanistan. The suicide attack targeted the police station in Domail, resulted in the deaths of five civilians, including women and children, while 13 others sustained injuries.
Counter-Terrorism Operation in Bakakhel, Bannu
During a counter-terrorism operation in Bakakhel, Bannu, security forces deleted Shahid alias Commando, an operative linked to FAK/Ittehad ul Mujahedeen Pakistan.
Three others,Moheb alias Touhedi, Sajid alias Zakir, and Zakir alias Zarrar,were reportedly injured in the exchange.
⚡و��رفرنٹ آپریشنز شمالی وزیرستان:
1 جون 2026 کو میران شاہ کے علاقے خوزیائی درپہ خیل میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 6 خوارج کو جہنم واصل کر دیا۔ ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران دہشتـــگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا، جبکہ علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے۔
ضلع بنوں کے علاقوں جانی خیل اور بکاخیل میں گزشتہ روز سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فضائی کارروائی کی گئ۔ ذرائع کے مطابق اس کارروائی میں دہشتگرد شاہد عرف کمانڈو اپنے چار دہشتگرد ساتھیوں سمیت جہنم واصل ہو��یا۔
مقامی ذرائع کا دعوی ہے کہ مذکورہ دہشتگرد ماضی میں پی ٹی ایم سے وابستہ رہا تھا اور بعد ازاں ایک خوارج گروہ میں شامل ہوگیا تھا۔
داعش اور تحریک طالبان پاکستان کا گٹھ جوڑ ❓
داعش کا پس منظر 🌴
داعش کا افغانستان میں قدم جمانے سے پہلے کا مختصر پس منظر بیان کرنا ضروری ہے تاکہ بعد کی صورت حال کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ جب عراقی القاعدہ، زرقاوی اور دیگر سنی گروہوں بشمول صدام حسین کے بعض رہنما اور کارکنان نے اتحاد قائم کیا، تو انہوں نے وہاں موجود تمام دیگر تنظیموں اور جماعتوں کا خاتمہ کر کے اپنے زعم میں ایک اسلامی شریعت و خلافت کی بنیاد رکھنے کا ارادہ کیا۔ (واضح رہے کہ امت مسلمہ کے اکثر علماء، صالحین اور اہلِ حل و عقد ان کے طریقہ کار سے متفق نہ تھے اور آج بھی نہیں ہیں۔ تاہم چونکہ ان شدت پسند گروہوں کے نزدیک یہی "خلافت" اور "شریعت" تھی، لہٰذا ہم یہاں انہی کی اصطلاحات استعمال کریں گے۔)
🍀اس گروہ نے عراق میں اپنی حکومت کے قیام کا اعلان کیا اور ابو عمر البغدادی کو "امیر المؤمنین" مقرر کیا۔ القاعدہ نے بظاہر ان کے ساتھ الحاق کر لیا اور خاموشی اختیار کی�� کچھ عرصہ بعد ابو عمر اور دیگر رہنما امریکی ڈرون حملوں میں مارے گئے اور قیادت ابوبکر البغدادی کے پاس آ گئی۔ اس وقت ان کی شناخت "دولۃ الاسلامیہ فی العراق" (عراق کی اسلامی ریاست) کے طور پر تھی۔
🍁بعد ازاں جب ان کے پاس مزید عسکری طاقت آ گئی اور انہوں نے بغداد تک محاصرہ کر لیا، تو انہوں نے اعلان کیا کہ اب عراق کی اسلامی حکومت عراق تک محدود نہیں رہے گی بلکہ یہ ایک خلافت ہے، جس کا وعدہ ہمارے پیغمبرؐ نے چودہ سو سال پہلے فرمایا تھا، اور اب ہمیں یہ خلافت قائم کرنی ہوگی۔
🍂اس اعلان کے بعد وہ عراق سے شام میں داخل ہوئے اور مشہور سائیکس-پیکو معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا۔ جلد ہی وہ شامی عوام میں مقبول ہو گئے اور شام کے کئی صوبوں اور شہروں پر قبضہ حاصل کر لیا۔ یوں "دولۃ الاسلامیہ فی العراق" میں شام بھی ضم ہوا اور اس کا نام داعش مشہور ہو گیا — یعنی دولۃ الاسلامیہ فی العراق و الشام (عراق و شام کی اسلامی ریاست)۔ تاہم بعد میں داعش نے اس نام کو مسترد کر دیا اور سختی سے یہ موقف اپنایا کہ وہ عراق یا شام کی حکومت نہیں بلکہ پوری دنیا پر خلافت کے قیام کے لیے سرگرم ہیں، اور ان کا مقصد صرف ان علاقوں تک محدود نہیں ہے۔ اسی لیے وہ خود کو صرف دولۃ الاسلامیہ کہلانا پسند کرتے تھے — ایک ایسی ریاست جس کی کوئی جغرافیائی حدود نہیں۔
🌱یوں داعش کے اس عالمی مشن کو دنیا بھر میں انتہا پسند نظریات رکھنے والے افراد نے سراہا اور مختلف ممالک سے ہزاروں افراد نے ان میں شمولیت اختیار کی۔ صرف مغربی ممالک سے تقریباً 4000 کے قریب نومسلم اور مسلمان نوجوانوں نے ان کی دعوت قبول کر کے شام و عراق کا رخ کیا، جبکہ مجموعی طور پر 92 ممالک سے افراد نے ان کی خلافت کو قبول کیا۔ کچھ افراد نے ہجرت کی، تو کچھ نے اپنے علاقوں میں ہی ان کی بیعت کر کے ان کی دعوت و مشن کو پھیلانا شروع کر دیا۔
🥀یہ صورت حال القاعدہ کے لیے خاصی پریشا�� کن تھی کیونکہ ان کے تربیت یافتہ لوگ اور ذیلی تنظیمیں کمزور ہو گئیں اور ہر جگہ سے کئی افراد نے القاعدہ سے قطع تعلق کر کے داعش میں شمولیت اختیار کی۔ افریقہ، یمن، لیبیا، روس سمیت دیگر خطوں میں یہی عمل دہراتا رہا۔ اور یہی دعوت جب افغانستان کے خطے میں پہنچی تو اب ہم اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔
1️⃣
Update: Jamaat-ul-Ahrar has leaked an old audio recording involving senior TTP member Maulvi Gul Muhammad, revealing TTP contacts and discussions with ISIS. In the recording, a representative of the TTP is heard requesting ISIS to appoint the late TTP chief, Maulvi Fazlullah, as the head of ISIS in Afghanistan and Pakistan.
According to the leak, the TTP representative appeals to a senior ISIS leader not to appoint anyone other than Maulvi Fazlullah to the position, arguing that doing so would help prevent disagreements and divisions within TTP.
Maulvi Gul Muhammad is the brother of Maulvi Faqir Muhammad, a member of the TTP's Political Commission.
وارفرنٹ تجزیہ: 🔖🇵🇰
اپنی خودی پہچان، او! غافل افغان
جن روسیوں نے افغانوں کو خون میں نہلا کر قتل کیا، جن روسیوں نے انکے عورتوں کے عزتوں سے کھیل کر انکے گھر مسمار کئے، آج افغان طالبان کے یہ نیو جنریشن والے ٹک ٹاک مجاہدین ان روسیوں کی گود میں بیٹھ کر حلال قسم کے معاہدے کر رہے ہیں۔
اور خود پاکستان پر ہول سیل حساب سے فتوے جاری کرتے ہیں، یہاں تک گمراہ ذلیل ہوئے ہیں کہ پاکستان کے خلاف لڑنے اور مرنے کو جہاد اور شہادت کے نام دے رہے ہیں، کاش تم آج ہندو مشرکوں کے خلاف بھی یہی سوچ رکھتے، مگر مجال ہے کہ ان کو شرم اور غیرت آئیں۔
جبکہ اسی دوران جس وقت روس افغانستان میں ظلم و فساد برپا کئے ہوئے تھا تو پاکستان نے اپنے مسلمان افغان مہاجرین کو اپنے گھر میں جگہ دی، انکی مرہم پٹی کی، انکو سینے سے لگا کر پیار کیا، اس دور کے افغان مجاہدین کو کوئٹہ کے ہسپتالوں میں علاج دی اور گھر دئیے، آج یہ لوگ ہمہیں کافر اور دشمن کہلا کر ہمہیں سرخ آنکھ دکھاتے ہیں۔
فضول میں نعرہ نہیں مشہور کہ تم افغانی نمک حرام نکلے، تم واقعی نمک حرام ہو۔
اب آتے ہیں اصل واقعے کی طرف۔۔۔
آج افغانستان کے وزیر دفاع ملا یعقوب نے روس کے ساتھ کچھ دن پہلے طے پانے والے فوجی تعاون کے معاہدے پر تبصرہ ک��تے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مستقبلِ قریب میں افغانستان کے اندر کارروائیاں یا فضائی حملے کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔
اور مزید یہ کہا کہ ہمارے پاس جدید فوجی سازوسامان موجود ہے، جس میں امریکی ہتھیار بھی شامل ہیں۔
افغان وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ کابل حکومت امریکہ کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہے۔
بالکل آج ملا یعقوب کے والد محترم یاد آرہے ہیں، جو ایک سچے حقیقی مجاہد تھے، ملا عمر مجاہد۔۔۔
ملا عمر نے تو روسیوں کے خلاف ہتھیار چلائیں اور امریکہ کو ازلی دشمن کہلا کر ان سے حالت مرگ تک لڑتے رہیں اور آپ کے بابا جان نے ہی پاکستان کو بڑا بھائی کہا،وہ واقعی نیک تھا، اس کی نصیب اچھی نہیں کہ آپ جیسا ناپاک بزدل بیٹا ملا اسے۔۔۔
اور جب پاکستان نے چاغی میں اپنے ایٹمی دھماکے کئے تو ملا عمر نے پاکستان کے حق میں ایک جزباتی بیان دیا کہ آج امت کے لئے بہت بڑا دن ہے۔
تمہارے ابا جان تو اصلی مجاہد تھے، جہاں تک اصل جہاد اور اسلامی قتال کی بات تھی تو پاکستان بھی افغان مجاہدین کے ساتھ تھا، بلکہ پس پردہ بہت کچھ پاکستان ہینڈل کر رہا تھا، جسے روس اور امریکہ کے فالتو ریٹائرڈ فوجی بھی تسلیم کرتے آرہے ہیں۔
پاکستان اگر آج اپنی دفاع کی خاطر افغانستان میں اپنے دشمن خوارجیوں (ٹی ٹی پی اور دیگر جتھے) کو ٹارگٹ کرتا ہیں تو تم ا��ہیں نکالنے اور پاکستان کو حوالے کرنے کے بجائے، ان خوارج کے ساتھ شانہ بشانہ آکر ہمارے خلاف لڑتے ہو۔
اور اب تو کفار سے معاہدے کر رہے ہو کہ اگر پاکستان ہم پر حملہ کرے تو تم بھی براہ راست ہماری مدد کرو۔
کچھ حیا اور شرم نہیں تم میں، اگر غیرت و شرم ہوتی تو یہاں تک تم پہنچتے ہی نہیں۔۔۔
تم اپنے ساتھ کفار مشرکوں اور یہودیوں روسیوں سب کو ملا لو۔۔۔
پاکستان اللہ کے فضل اور نصرت سے اسی روس کو ٹکڑے ٹکڑے کر چکا ہیں، امریکہ کی چیخیں پاکستان آج بھی سنتا ہیں کہ افغان سرزمین پر ہم نے ان ناپاک امریکیوں کو کیا تاریخی سبق سکھایا۔۔۔
تم اپنے اعمال اور سمت کو درست کرو، روس اور امریکہ ان��اللہ کچھ نہیں کرسکے گا ان نام نہاد کفری معاہدوں سے، وہ ہمہیں جانتے ہیں وہ ہمت نہیں کرسکیں گے۔
وما علینا الا البلغ المبین
Sepoy Sachin Kumar Meghwar from Umerkot, gave his life in the line of duty on 24th May 2026, during a cowardly suicide attack on train in Quetta. We will never forget the sacrifice of our each and every soldier, we are proud of you, we will keep fighting until we get our sacred motherland rid of this menace of terrorism.
According to the local report, the wife of Malik Mutabar Khan, a local elder from Malak Shahi in Shewa, North Waziristan, was assaulted by TTP militant Jameel alias Mola and three Afghan Kharji nationals.
The incident occurred today when the Afghan terrorists were stealing a goat. The woman saw them, confronted them, and demanded the goat back. When they refused, she began shouting and cursing at them.
In response, the militants cut her hair, shaving her head outside her home.
Islamic Shari'ah of TTP 👏