عمران خان آپ کی حقیقی آزادی کے لیے گزشتہ تین سال سے مشکل ترین قید کاٹ رہے ہیں۔ اب آپ اپنی حقیقی آزادی کے لیے، اور عمران خان کے حقوق کی بحالی کے لیے، اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں
Our entire party is ready, and we will call for people to come out into the streets very soon. Remember, securing genuine freedom requires sacrifice.
My wife and I are both in jail, which we see as a form of worship [standing up for justice]. If you also have to fill the jails, do not hesitate. If you do not make sacrifices, you and your future generations will remain enslaved.
2/2
اگر تبصرہ پاڑوں کا عمران خان سے سابقہ آرمی چیف کی ملاقاتیں والا شغل ختم ہوگیا ہو تو برائے یاد دہانی اطلاع ہے کہ عمران خان کئی مہینوں سے قید تنہائی میں ہے ایک آنکھ کی بینائی ختم ہونے کی اطلاع تین چار مہینے پہلے ایک مبہم سی ملاقات کے بعد آئی اور اب مکمل اندھیرا ہے۔
بکواس نسلیں
کبھی امریکن پاکستانی ڈاکٹرز کا لائف سٹائل دیکھیں تو آپ حیران رہ جائیں۔ لیکن فوج نے انہیں بھی گھیر لیا۔ پروٹوکول ، پاکستان میں چھوٹے موٹے کام کاج اور ایک آدھ افسر سے تعلقات۔ یہ بس یہیں مر گئے۔ کیسے کیسے برج تھے جو رجیم چینج میں الٹ گئے دور سے کتنے معزز لگتے تھے۔ بڑے بڑے خان ، چوہدری اور وڈیرے فارم سینتالیس کا تھوک چاٹ کر اسمبلی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ کچھ تو نظریاتی تھے۔ اصول پرست تھے۔ وہ تو سب سے زیادہ گندے نکلے۔ جس چیز پر ساری زندگی تنقید کرتے رہے اسی کے حمایتی بن بیٹھے۔
زمین سے اٹھا اٹھا کر لوگ اقتدار کے آسمانوں پر پہنچائے گئے۔ جو یہ ہیرے تراشتا رہا اسکی مہینوں سے ملاقاتیں بند ہیں۔ جن کو اقتدار حکومت مل گیا وہ مڑ کر اسکی خبر بھی نہیں لیتے۔ جس کو جہاں جتنا حرام کمانے کا موقع ملتا ہے وہ کما رہا ہے۔ با عدلیہ سے کوئی بوجھ اٹھاپارہا ہے، نہ انتظامیہ سے ، اس ملک کے کسی ادارے میں کسی بھی قسم کی کوئی غیرت نہیں۔
کھلی آنکھوں سے ناانصافی دیکھتے ہیں ، ظلم دیکھتے ہیں خاموش رہتے ہیں۔ جس کے سینے میں خنجر چلتا ہے وہ ایک چیخ نکالتا ہے جو باقی سب سنتے بھی نہیں اور وہ خنجر پھر اپنا نیا شکار ڈھونڈ لیتا ہے۔ نہ علماء سے کچھ بن پایا نہ وکلاء سے۔ نہ عوام کچھ کرپائے نہ حکمران کچھ کر پائے۔ لیڈر شپ والے تو جیسے ساری کوالٹیز ہی اس ملک میں ناپید ہوچکیں۔ پھر ہم جیسے بچتے ہیں تو منہ چھپا کر چند لفظی نشتر چلا کر سمجھتے ہیں کہ ہمارا حق بھی ادا ہوا۔ یہ بکواس نسلیں ہیں۔
میرے شوہر سلمان رضا اور ان کے دوست جنید جہانگیر کو یو اے ای میں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے اور انہیں الیکٹرک شاکس (بجلی کے جھٹکوں) سمیت ہولناک تشدد کا سامنا ہے۔ سلمان کے دانت کھینچ لیے گئے، بغیر اینستھیزیا (بغیر بے ہوش کیے) ان کی سرجری کی گئی،اور ان کی پسلیوں پر بے دردی سے تشدد کیا گیا ۔ جنید (جن کی نظر -3.5 ہے) کو ان کی نظر کی عینک دینے سے انکار کر دیا گیا ہے اور انہیں تنہائی (آئسولیشن) میں رکھا گیا ہے۔
براہِ کرم انصاف کے لیے مداخلت کریں۔ یہ ہمارے خاندان کے لیے انتہائی مشکل وقت ہے۔ میں آپ سے عاجزانہ درخواست کرتی ہوں کہ یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کر کے اس مسئلے کو اٹھائیں۔ براہِ کرم ان کی بحفاظت رہائی کو یقینی بنانے میں ہماری مدد کریں۔ ہمیں اس وقت آپ کی تعاون کی شدید ضرورت ہے۔۔
#JusticeForJunaidAndSalman
@SohailAfridiISF@MeenakhanAfridi@YarMKNiazi
عمران اور ہم پنجابی بولتےتھےتوبات کرنا آسان ہوتاتھاورنہ اسکےلائف سٹائل کوہم چھوبھی نہیں سکتے۔ عمران خان نے 20سال بہت محنت کی،اسکےاندر کچھ تھا جو وہ اپنےملک کودیناچاہتاتھا،کپل دیو
While Imran Khan rots in Pakistani jail, Indian legend Kapil Dev gets emotional: Imran Ke Haalat Ko Dekh Kar Dukh Hota hai. No way for Pakistan to treat their former Prime Minister.
Watch this. Full podcast drops Sunday 7pm on @sports_tak@therealkapildev@ImranKhanPTI
#ImranKhan
The moment that defined Pakistan’s sporting history, led by the man who would later lead the nation.
Imran Ahmed Khan Niazi, a champion on the field and Pakistan's legitimate Prime Minister, inspired generations with one unwavering belief: never stop fighting.
کچھ عرصہ قبل پاکستانی امریکن ڈاکٹرز کو خصوصی دعوت پر پاکستان بلایا گیا۔ انکو ریٹرن ٹکٹس بھی دیے گئے ، ان کو ائیرپورٹس پر خصوصی پروٹوکول ملا ، ان کے لیے لاہور میں شاندار تقریبات ہوئیں۔ نہایت پڑھے لکھے ، خوشحال اور جہاندیدہ لوگ اس پر پگھل گئے اور اب اپنی تقریبات میں عمران خان کا چہرہ چھپا رہے ہیں۔ ان حالات میں یئیں یئیں ملک کے یئیں یئیں صحافیوں و تبصرہ پاڑوں پر کیسا افسوس۔
اج 92 ورلڈ کپ فائنل میچ دوبارہ وائرل ہے 🔥
کیوںکہ کل آمریکی اوورسیز پڑھے لکھے جاہل ڈاکٹروں نے عاصم منیر کو خوش کرنے کے لیے عمران خان کے چہرے کو Blur کیا تھا! @APPNA
بیشرم تنخواہ دار ڈاکٹر تمھاری ہمت کیسے ہوئی!!
Shameful and deeply disappointing. I had hoped that after Humaira Qamar stepped down, the partisan mindset within APPNA would begin to fade. I also believe Dr. Babar Rao is a better person.
Defacing Imran Khan’s 1992 World Cup photograph at a national forum is a disgraceful act. Every other photograph has been left untouched, yet only Imran Khan’s image was singled out. This is not just disrespect toward one individual—it is an insult to Pakistan and its national identity.
Will the doctors of APPNA really accept such pettiness? This is shameful. APPNA’s members must speak out against this disgraceful act. It is an insult to your collective conscience, your knowledge, your intellect, your integrity, and the dignity and values of the nation.
The 1992 World Cup is not a political symbol. It is a proud chapter in Pakistan’s history. Treating a national hero in this manner is something only small-minded people would do.
علیمہ خانم اور انکی بہنیں نا ہوتیں تو ابھی تک فوج نے عمران خان کے پیغامات کی بھرمار کررکھی ہوتی ، بیرسٹر سیف اور بیرسٹر گوہر جیل سے آکر بتایا کرتے کہ عمران خان نے عاصم منیر سے معافی مانگی ہے۔ سہیل آفریدی جیل سے آکر کہتا عمران خان خوش و خرم ہیں۔
عمران خان بشریٰ بی بی کی روحانیت میں ثابت قدمی دیکھ کر امپریس ہوئے تھے۔ لمبی نمازیں پڑھنا پورا دن عبادت میں مصروف رہنا اور اس ایک عمل سے اللّٰہ کے قریب تر ہوتے چلے جانا۔ اسی ثابت قدمی نے آگے چل کے پاکستان کی تاریخ بدلی۔ بڑا کلیم ہے؟ میں ثابت کروں گا۔
بشریٰ بی بی کوئی بہت سمارٹ نہیں ہیں یا شاطر۔ یہ آپ کو ان کے شادی کے بعد ندیم ملک کو دیے گئے گھنٹے کے انٹرویو سے پتہ چل جائے گا۔ مگر ایک کوالٹی ہے ان میں: جس بات سے ایک دفعہ مخلص ہو جائیں، پھر اس پر اڑ جاتی ہیں چٹان کی طرح۔ بات بہت سمپل ہوگی اور بشری بی بی کا اس کے ساتھ رشتہ بہت گہرا۔
بس ایک عبادت کے ساتھ جڑ کے ان نے اللّٰہ سے مضبوط رشتہ بنالیا۔ وہ زیادہ سوشل نہیں تھیں لوگوں سے نہیں ملتی تھیں (عمران خان کے برعکس) بس عبادت کرتی رہتی تھیں۔ تاریخ نے ان کی یہی کوالٹی ٹیسٹ کی (اور اس سے کام لیا)۔
ڈی چوک میں علی امین بھاگ گیا تھا 5 اکتوبر کو۔ عمران خان نے یہ دیکھا تھا اس لیے اگلی بار قافلے کا لیڈر بشریٰ بی بی کو بنایا اور ان سے کہا کہ کچھ ہوجائے تم نے ڈی چوک سے پہلے نہیں رکنا۔ کوئی کچھ بھی کہے یا کرے تم نے نہیں رکنا۔
علی امین مہینہ پہلے چائے پے رک گیا تھا اور پھر بارہ ضلعے ٹپ کے پشاور سے برآمد ہوا تھا۔ بشریٰ بی بی کنٹینر پے کھڑی ہوکے اعلان کرتی رہیں کہ مجھے عمران خان نے کہا ہے نہ رکنا اور میں نہیں رکوں گی۔ اور وہ نہیں رکیں۔قافلے پے اٹیک ہوئے لوگ ڈرے وہ نہیں رکیں۔ ایک سمپل آرڈر سے ان نے رشتہ نہیں توڑا۔
گولیاں مارنا پڑ گئیں اسے توڑنے کے لیے۔ تو ان کے ڈٹ جانے نے ریاست سے گولی چلوا کے نظام کا اصلی چہرہ ننگا کر دیا۔ پس تاریخ بدل گئی۔
کیسے؟ “پر آذاادی تو نہیں ملی”۔ ہاں مگر ہم سب کا رشتہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ریاست سے بدل گیا۔ ہم نے دیکھا یہ تو پنڈی میں اپنا خود کے بچوں پے بھی گولیاں چلا سکتے ہیں۔ بس آر یا پار ہوگیا۔ جدوجہد نئے فیز میں داخل ہو گئی ایک پوری کی پوری جنریشن کے لیے۔
اور یہی وہ کوالٹی ہے جس نے سب کچھ بدلا۔ کوئی جادو نہیں، نہ کوئی ایسی چیز جو بس خاص لوگوں کو ملتی ہے۔ بشریٰ بی بی، جیسے میں نے شروع میں کہا، نہ کوئی بہت سمارٹ تھیں نہ شاطر۔ بس یہ ایک بات تھی ان میں جسے میں “مخلصی” کہنا چاہوں گا۔
اور یہ بات ہر عام آدمی کے اندر نہیں پڑی ہوئی؟
آپ کو لگتا ہے آپ سمارٹ نہیں، آپ کے پاس ریسورسز نہیں۔ نہیں چاہیے ہوتے۔ کسی ایک بات سے جس پہ آپ کا سچا یقین ہے مخلص ہو جائیں۔ اور پھر اس پہ چٹان کی طرح اڑ جائیں، پیچھے نہ ہٹیں۔ اللہ خود آپ کا راستہ بنائے گا۔ آپ کو بزدلوں کی صف سے نکال کے بہادروں کی صف میں کھڑا کر دے گا۔ یزیدیت سے نکال کے حسینیت میں داخل کردے گا۔ یہ میری “گارنٹی” ہے۔آپ بھروسہ کر کے تو دیکھیں۔
اپنی زندگی میں ایک فیصلہ بہادری سے لیں، اس پہ ڈٹ جائیں۔ گھریلو سیاسی ذاتی کسی بھی لیول پے، کسی ایک فیصلے پے، ڈٹ جائیں۔
باقی اللّٰہ پے چھوڑیں۔ وہ آپ سے امامت کا کام کیسے لیتا ہے؟ اس پے چھوڑیں۔