.@CDAthecapital has started charging people for using the service road in New Blue Area. It has also introduced an entry fee.Even if you are not parking and are only picking up or dropping off family or friends, you are still required to pay.
Does this make any sense? @CMShehbaz
لاہورکے تھانہ ڈیفنس اے میں گھریلو ملازمہ اوراس کےبھائی پر پولیس کی جانب سے تشددکی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر ڈی آئی جی آپریشنز کامران فیصل نے ایکشن لیا اور ڈیفنس اے تھانے کا پورا عملہ معطل کردیا۔
آپ سمجھ رہے ہوں گے تھانے میں بیہمانہ تشدد پر کارروائی کی گئی ہے؟ نہیں جناب ، یہ تو ویڈیو لیک ہونے پر نااہلی کی سزا ہے ،چند ہفتوں بعد سب بحال ہو جائیں گے
کچھ دن پہلے ایک دوست کے 14 سالہ بیٹے کو افغانی سمجھ کر اٹھاکر لے گئے اور اس کو اس وقت کوئی شناخت نہ ہونے کی وجہ سے پوری رات حاجی کیمپ میں قیدیوں کی طرح رہنا پڑا۔ بڑی بھاگ دوڑ کے بعد اسے رہائی ملی۔ سفارش اور تعلق نہ ہوتا تو نجانے کتنے دن اسے ماں باپ سے دور رہنا پڑتا۔
دو دن پہلے ایک اور دوست کے بیٹے کو اٹھا کر لے گئے، شخصی ضمانت پر رات کے لیے رہا کیا اور اگلے ہی روز مجسٹریٹ نے ایف آئی آر کے بغیر پلندرے پر اڈیالہ بھیج دیا۔ اس کا قصور یہ تھا کہ اس کو گاڑی کا کام کرواتے ہوئے شام کے آٹھ بج گئے تھے۔
اگر اسلام آباد پولیس کے یہی کام رہے تو کوئی کیسے خوفزدہ اور پریشان نہ ہو؟ اور کیسے نرمی سے بات کرے گا؟ اس 14 سالہ بچے پر کیا گزری ہوگی جس کو پوری رات بے وجہ قید میں رکھا؟
@ICT_Police
Check out the latest article in my newsletter: Your Meta ads are getting clicks. So why isn't your phone ringing? https://t.co/B9Uvu07KTe via @LinkedIn
نوجوان اوپنر معاذ صداقت انٹرویو کے دوران آبدیدہ ہوگئے معاذ صداقت کا کہنا ہے کہ میرے گھر کے مشکل حالات میرے اور اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتے تھے میرے والد صاحب سمینٹ بلاک بنانے والوں کیساتھ مزدوری کرتے تھے میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ میں اپنےلیے کوئی اچھابلا خریدوں لیکن میری ماں مجھے ایک بات کرتی تھی کہ اب ہمارے برے دن چل رہے ہیں اچھے دن بھی آئیں گے ,میرے اوپر رضوان بھائی کی پہاڑ جیتنے احسانات ہے میں محمد رضوان سے ملنے گیا اور افریقہ ٹور سے گھر آئے تھے رضوان بھائی مجھے جانتے نہیں تھے میں نےاپنی بیٹنگ کی ویڈیو رضوان بھائی کودکھائی جس پر وہ خوش ہوئے اور اس نے مجھے پورا کٹ خریدنے کیلئے نقد ساٹھ ہزار روپے دیے اور کہا کہ اس سے آپ اپنے لیے اچھا بلا جوتے وغیرہ خرید لینا اور اپنا پرسنل نمبر بھی مجھے دے دیا کہا جب بھی کسی چیز کی ضرورت ہوگی تو مجھے میسج کرنا اور پھر ایک دن مجھے پی سی بی کی جانب سے کال آگئی کہ مجھے ایمرجنگ ایشیا کپ کیلئے ٹیم میں شامل کرلیا ہے میں خوش قسمت ہوں کہ میرے اچھے وقت میں میرے والدین زندہ ہے
#cricket #PakistanCricket #pakvban
یہ ایک ہندو بچی ہے جس نے محلے کے بچوں کے ساتھ محرم کی پانی کی سبیل لگائی اور چار سال قبل اس کو اغواء کرلیا گیا۔
اس کے والدین ہر جگہ دروازے کھٹکاتے رہے کہ ہماری بچی کو بازیاب کروایا جائے ۔
جب سے سوشل میڈیا پہ دوبارہ اس بچی کے لیئے آواز اٹھنے لگی ہے کہ ہندو بچی ہے تو کیا ہوا یہ ایک ماں کی آنکھوں کی ٹھنڈک تو تھی ۔
اس کو تلاش کیا جائے درمیان میں خبر آئی کہ سندھ کے بڑے جاگیر دار جن کے مریدین بھی ہیں ان کے ڈیرے پہ ایک بچی کو دیکھا گیا جو خود کو ہندو کہتی تھی اور اس ہی بچی کی شکل دیتی تھی ۔
لیکن کسی نے اس پہ ایکشن نہیں لیا لیکن ایک ہفتہ قبل آئی جی سندھ نے ایک بیان دیا کہ پریا کماری بچی راحب شر جو کہ ایک کچے کا ڈاکو ہے اس کے قبضے میں ہے
لیکن کل رات راحب شر نے ویڈیو پیغام دیا کہ میں اتنا بے غیرت نہیں ہوں کہ ایک ہندو بچی جو کہ ابھی اتنی چھوٹی سی ہے اس کو اغواء کروں اور اس کے والدین سے پیسوں کا مطالبہ کروں ۔
آپ اندازہ یہاں سے لگالیں کہ ڈاکو خود کہہ رہا ہے کہ شفاف انکوائری کرواؤ بچی خود ان کے ہی بڑوں کے پاس سے نکلے گی ۔
باقی آپ لوگ خود سمجھدار ہیں۔۔
#Tapmad hasn’t lost yet.
But when #PakvsIndia starts and Tapmad’s streaming platform goes down, the risk is already clear.
Millions spent creating demand.
The moment arrives
Delivery breaks
Marketing did its job.
If the platform doesn’t recover fast, the brand will pay for it
اونچی دکان پھیکا پکوان۔
پی پی پی سینٹر شیری رحمن نے موسمیاتی تبدیلیوں کی سینٹ کمیٹی میں اجلاس سے پہلے سوشل میڈیا پر بڑے بڑے دعوے کر کے، وہاں اچانک یوٹرن لے کر حیران کن کمپرومائز دکھا کر ایک گریڈ بیس کے افسر رندھاوا کی دہشت سامنے جو پارلیمانی کمزوری دکھائی اور سی ڈی اے چیرمین کو سب شرکاء کے سامنے کلین چٹ دی تھی، اس پر اس اجلاس میں شریک میں اکیلا ہی مایوس نہیں ہوا تھا۔ سماجی/ماحولیاتی کارکن نیلوفر قاضی بھی حیران تھیں کہ یہ کیا ہورہا ہے۔
اب سابق سیکرٹری الیکشن کمشن کنور دلشاد بھی سابق وزیر ماحولیات /چیرمین کمیٹی شیری رحمن کے حیران کن یوٹرن پر شدید مایوس ہوئے ہیں جنہوں نے آج کے دنیا اخبار میں اپنے کالم میں لکھا ہے
“ اسلام آباد میں چالیس ہزار کے قریب درختوں کی بے رحمانہ کٹائی پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی اور اس کی چیئرپرسن شیری رحمن کا غیر مؤثر رویہ دارالحکومت کے عوام کے لیے مایوس کن رہا۔ توقع تھی کہ وہ شہری انتظامیہ کے چیئرمین رندھاوا کے خلاف تادیبی کارروائی کریں گی‘ مگر سینیٹ کمیٹی کا اجلاس محض رسمی کارروائیوں تک محدود رہا‘ جس سے پارلیمانی نگرانی کے نظام پر عوامی اعتماد مزید کمزور پڑ گیا۔ اسلام آباد میں درختوں کے اس قتلِ عام نے ازمنہ قدیم کی اس روایت کی یاد تازہ کر دی جس میں اقتدار کے تحفظ کے لیے زندگیوں کو روند دیا جاتا تھا۔ جس شہر یا ریاست سے درخت ختم کر دیے جائیں وہاں دیرپا خوشحالی برقرار نہیں رہ سکتی۔ اولیائے کرام کی زندگیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ درخت لگانا اور ان کی حفاظت کرنا محض ماحولیات نہیں بلکہ بقائے انسانی کا اصول ہے”..
یہ ہے elite capture اور سیاستدان اور بابوز کا unholy alliance ۔
یہ مشکل میں ایک دوسرے کو خوب بچاتے ہیں جیسے شیری رحمن نے محمد علی رندھاوا کو اپنی کمیٹی اجلاس میں بچایا۔ ایک دن پہلے شیری رحمن نے طلال چوہدری کے ساتھ سینٹ کمیٹی برائے داخلہ میں وعدے کے مطابق رندھاوا کو اجلاس میں تنگ نہیں کیا چاہے اس بابو نے پورا اسلام آباد ہی اجاڑ دیا تھا۔۔
سیاسی /بیوروکریٹس تعلقات شہر کی بربادی سے زیادہ اہم ہیں۔ پہلی دفعہ شیری رحمن جیسی سینٹر کو ایک گریڈ بیس کے افسر سامنے دہشت زدہ دیکھا کہ بات تک نہیں ہو پارہی تھی۔
توبہ😳
@CDAthecapital@RandhawaAli@MohsinnaqviC42@CMShehbaz@betterpakistan@DrMusadikMalik@sherryrehman@PalwashaKhan18@ShaziaAttaMarri@sharmilafaruqi@BBhuttoZardari@ninoqazi
@TME_Pakistan@FaisalMushtaq18 Students would not just consume content; they would co-create learning. At the end of the term, the most impactful ideas would be scaled across campuses, and teachers would be recognised as academic leaders, not just implementers.
@TME_Pakistan@FaisalMushtaq18 Every teacher would be given the freedom and a small support budget to pilot one meaningful innovation in their classroom for a term. This could be a new teaching method, a digital tool, a real-world project, or a student-led initiative.
Police stopped me in F-8 for black tint. The officer said it’s illegal to have tints on car without license. I told him if it’s a problem he can remove the tint here. He said no we have to go to the station and lodge FIR so i said okay.
میں نے یونیورسٹی سے ڈگری کی۔ پھر پیسے جمع کر کے ڈگری لی اور ڈگری پر کنٹرولر اور وائس چانسلر نے دستخط بھی کیئے۔اس کے بعد میں نے دوبارہ پیسے جمع کر کے ڈگری ان کو واپس بھیجی کہ اب یہ ویریفائی کر لو کہ آپ لوگوں نے مجھے جو ڈگری دی ہے وہ فیک تو نہیں ہے۔ بات یہاں پہ ختم نہیں ہوئی۔ اس کے بعد وہی ڈگری HEC کو بھیجی کہ آپ کے ساتھ جو یونیورسٹی Affiliated ہے اس نے یہ ڈگری جاری کی ہے اور ویریفائی بھی کی ہے۔ اب آپ بھی ویریفائی کر لے کہ کہیں یہ ڈگری جعلی تو نہیں۔ آگے کی بات سنئے۔ پھر HEC کے بعد میں نے وہ ڈگری MOFA کو بھیجی اور ان سے کہا کہ یہ جو HEC نے سٹیمپ لگایا ہے اس کو چیک کرے کہ کہیں یہ فیک تو نہیں ہے۔اس پورے کام میں آپ کے ہزاروں روپے الگ سے ضائع ہو جاتے ہیں، ساتھ میں وقت بھی ضائع ہوتا ہے، اور سب سے اہم بات وہ نمونے جو خود میٹرک فیل ہوتے ہیں ان کی باتیں بھی سننے کو ملتی ہے۔ یہ ایک بھیانک قسم کا مذاق ہے ہمارے ساتھ اور اس پہ کوئی بولتا بھی نہیں ہے۔
مال مفت دل بے رحم
لاہور میں اے سی نشتر محمد سیلم آسی نے تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران غریب ریڑھی والے کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے اپنی نگرانی میں سارا فروٹ عوام میں تقسیم کردیا۔اے سی صاحب کو غریب ریڑھی بان کی کمائی یوں لٹانے کا اختیار کس نے دیا؟
ویڈیو کریڈٹ @Qaisarsharif555
اسلام آباد کی بیٹی کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم سے سوال کی سزا
نورالامین دانش
یہ ہیں نئے نویلے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم اسسٹنٹ کمشنر یاسر نذیر جنہوں نے دو روز قبل کئی اسلام آباد کے سیکٹر D12 میں کئی گاڑیوں میں سے آلٹو گاڑی کا انتخاب کر کے روکا جس میں ایک خاتون کو ہسپتال لے کر جایا جا رہا تھا۔صاحب بہادر بارش میں احتیاط کا لیکچرر دے ہی رہے تھے کہ محکوم رعایا کی ایک بیٹی جسے شاید آزاد شہری ہونے کا گمان تھا۔ سوال اٹھایا کہ ایمرجنسی میں ہماری گاڑی ہی کیوں روکی؟ بڑی بڑی لینڈ کروزر گزر رہی ہیں انہیں کیوں نہیں روک رہے۔ یہ بات ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم کو کہاں ہضم ہونا تھی بس پھر تھانہ گولڑہ پولیس کو بلایا گیا جہاں کے پولیس اہلکار اس بیمار ماں ، نوجوان بیٹی اور انکے باپ کو تھانہ گولڑہ لے گئی۔ مردوں کے تھانے میں تین سے چار گھنٹے تک انہیں باتیں سنائیں گئیں اور سمجھایا گیا کہ افسران کے سامنے ایسے بولنے کی سزا بہت بھاری ہوتی ہے انکا قلم آپ کی زندگی برباد کر سکتا ہے۔ خیر ایسٹ انڈیا کمپنی کا ملازم ضد پر اڑا ہوا تھا کسی کی اتنی مجال کہ اس کے علاقے میں اس سے کوئی سوال کرے۔
اگلے دن مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا جہاں ان سے معافی نامہ لکھوا کر انکی جان بخشی کی گئی اور ساتھ نکلتے ہوئے عملہ کہتا رہا شکر کرو صاحب نے رحم دلی دکھا دی ورنہ تم لوگوں کا کیا حشر ہوتا۔۔۔