4 دسمبر کو عمران خان نے میری بہن کو بتایا کہ عاصم منیر اسے جیل میں قتل کروانا چاہتا ہے، اور اسے چاہیے کہ وہ باہر جا کر یہ بات عوام کے سامنے کہے۔
میری بہن نے انکار کرتے ہوئے عمران خان سے کہا، ’’میں باہر جا کر ایسی کوئی بات نہیں کروں گی۔ میں آپ کے قتل کے بارے میں بات نہیں کرنے والی۔‘‘
وہ باہر آئی اور ہمیں بتایا، اور ہم بھی اس کی بات سے متفق تھے۔
میری بہن اس بات پر افسردہ تھی اور کہہ رہی تھی، ’’کاش میں نے اسی وقت یہ بات بتا دی ہوتی جب عمران خان نے مجھے ایسا کرنے کے لیے کہا تھا۔‘‘
کیا آپ سمجھتی ہیں کہ فوج کے سربراہ عاصم منیر جیل میں عمران خان کو قتل کروانا چاہتے ہیں؟
میں صرف وہی بات بیان کر رہی ہوں جو عمران خان نے کہی تھی۔ عمران خان نے کہا تھا کہ فوج کے سربراہ جیل میں انہیں قتل کروانا چاہتے ہیں ۔
انہوں نے 4 دسمبر کو یہی بات کہی تھی۔
اور اس کے بعد کسی کو بھی ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ غالباً وہاں ہونے والی ہر بات ریکارڈ کی جاتی ہے۔ اس کے بعد سے ہمارا ان سے بالکل کوئی رابطہ نہیں رہا، سوائے اس کے کہ سلمان صفدر ان سے ملنے گئے تھے۔
علیمہ خان کی مہدی حسن سے گفتگو
#FascismUnderAsimLaw
عمران خان کو ہمارے دل نے لیڈر مانا ہے۔۔آپ اسمبلی میں بیٹھے چند 100/200 بے ضمیر لوگوں کو تو خرید سکتے لیکن بائیس کروڑ لوگوں کےدلوں کو نہیں خرید سکتے۔۔
اداکارہ شگفتہ اعجاز
القادر ٹرسٹ کی اپیلوں میں دلائل دینا کوئی مسئلہ نہیں لیکن پہلی ہماری ضمانتیں سنی جائیں ،ڈیرھ سال میں اسلام اباد ہائیکورٹ نے بہت مایوس کیا۔ ہماری ضمانت کی اپیلیں ۱۸ ماہ تک التوا میں رکھیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے ؟ کسی پر تین مقدمے ہوں جائیں تو وہ ملک چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے مگر عمران خان آج بھئ یہاں موجود ہے ،وکیل سلمان صفدر گفتگو کے دوران جذباتی ہوگئے
یہ بھی ڈبل چیک کرلینا چاہیئے کہ عمران خان کو واقعی PIMS لیجایا جاتا ہے یا کسی اور عمارت میں کیونکہ جہاں پاور سپلائی منقطع ہو تمام بتیاں بند ہوں اور فون کی بتی استعمال کی جائے وہ فنکشنل ہسپتال تو نہیں ہوسکتا اور وہاں ہسپتال کا عملہ بھی نہیں ہوتا وہ سب انٹیلیجنس اداروں کے لوگ ہوتے ہیں جن کی ٹریننگ ہے کہ آنیوالوں کو کیسے اٹینڈ اور ڈیل کرنا ہے وہ ہُوں ہاں سے زیادہ کچھ نہیں بولتے
پمز کی سڑکیں راہداریاں روشن رہتی ہیں
یہ کون سی عمارت ہے
کیا معلوم کہ عمران خان کہاں تھا اور ڈاکٹر عظمی کو کہاں لیجایا گیا ؟؟؟
تین سال بعد پرسوں رات کے مناظر یہ بات چیخ چیخ کر کہ رہے تھے "مائنس خان" کا سوچنے والے خود تو مائنس ہو سکتے ہیں مگر خان کا مائنس ہونا فی الحال ناممکن سی خواہش لگتی ہے
Peak sportsman behavior
کیرم کھیلنا ہے تبھی تو تاریخ ذرا ٹھہر کر طے کی ہے
ورنہ 27 ستمبر کو پاکستان کی سالگرہ تو نہیں تھی
انصافینز سے درخواست ہے
@SohailAfridiISF کے کھیل میں مخل مت ہوں
خان کی بہنوں سے سوال کریں
وہ اڈیالہ جائیں تو غلط
پریس کانفرنس کریں تو غلط
جو بھی کریں، غلط ہے
جناب یہ کوئی پارٹی ورکر یا پارٹی عہدیداروں یا اہم این اے یا ایم پی اے نہیں یہ ایک عام پاکستانی اور پاکستان کے ایک محب وطن لیڈر کے دیدار کے لیے عام لوگ نکلے ہے ۔پارٹی تو اصل جیل میں ہے ۔شاہ محمود یاسمین راشد جو کہ نواز شریف کو ہرا چکی ہے ۔عمر چیمہ جیسے بہت سے لوگ
سپریم کورٹ نے آئین اور جیل قوانین سے ہٹ کر ایک سزا یافتہ قیدی کو پرائیویٹ اسپتال میں علاج کا غیر معمولی ریلیف دیا۔ عدالت نے سلمان اکرم راجہ اور ڈاکٹر عظمیٰ سے تحریری ضمانت بھی لی تھی کہ اسپتال کو جلسہ گاہ نہیں بنایا جائے گا۔
حکومت نے کسی ہیجان کے بغیر عدالتی حکم کا احترام کیا اور شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں سیکیورٹی انتظامات شروع کر دیے۔ لیکن اس کے برعکس، پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا مہم کے ذریعے راتوں رات اپنے کارکنان کو وہاں جمع کر کے اسپتال کو جلسہ گاہ میں تبدیل کر دیا، جس سے شدید سیکیورٹی رسک پیدا ہو گیا۔
حکومت کے پاس قیدی کو جیل میں ہی رکھنے کا جواز موجود تھا، لیکن عدالتی حکم کی لاج رکھتے ہوئے قیدی کو پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ صرف اسپتال کا نام بدلا، جبکہ عدالت کے حکم کے مطابق وہی ماہر ڈاکٹرز، ذاتی معالج اور فیملی وہاں موجود رہے۔
خود ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج نے اعتراف کیا کہ قیدی سو فیصد صحت مند اور تندرست ہے۔ اب جب عدالتی حکم بھی مانا گیا اور قیدی تندرست بھی نکلا، تو توہینِ عدالت کا یہ رونا سراسر بے بنیاد ہے۔
اگر توہینِ عدالت کا کیس بنتا ہے تو وہ سلمان اکرم راجہ اور ڈاکٹر عظمیٰ پر بنتا ہے، جنہوں نے تحریری حلف نامے کی دھجیاں اڑائیں۔ عدالت کو اب سمجھنا ہوگا کہ قیدی کا مقصد علاج کروانا تھا،
کسی پرائیویٹ اسپتال میں آرام فرمانا یا سیاست چمکانا نہیں تھا۔ یہ پورا کھیل آئینی نہیں بلکہ 'جوڈیشل این آر او' حاصل کرنے کی کوشش ہے، اور معزز عدالتوں کو اشرافیہ کی خوشنودی کے بجائے آئینِ پاکستان اور قانون کی برابری کا تقدس برقرار رکھنا ہوگا۔
اطلاعات ہیں کہ عدالت کے حکم کی وجہ سے عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے بہت سی اہم باتوں کا میڈیا کے سامنے ذکر نہیں کیا جو عمران خان نے انکو بتائی ،کچھ باتیں خان کی صحت اور سیاست کے متعلق ہیں۔
اسد اللہ خان کا دبنگ تجزیہ 🔥
بھلے ہی عمران خان کو کوئی ریلیف نہیں ملا لیکن پارٹی کھڑی ہوگئی ہے پارٹی سے بڑھ کر عوام بھی اب کھڑی ہوگئی ہے
ہسپتال کے اطراف میں لوگ کم پہنچیں لیکن رات 4 بجے تک لوگ جاگتے رہے
لوگوں کو اس بات کا غصہ آیا ہے لوگ اب اس جذبات کا اظہار کرتے ہیں جس کی رپورٹ پاکستان تحریک انصاف ک پاس پہنچ چکی ہے کہ لوگ نکلنا چاہتے ہیں
پانج بجے عمران خان کو اڈیالہ شفٹ کیا گیا انتظار کیا گیا کہ ٹوئٹر تھم جاۓ
نجم سیٹھی نے اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دے دیا۔۔۔
عمران خان پاکستان کی تاریخ کا واحد لیڈر ہے جو ہیرو ہے،
بھٹو بھی ہیرو نہیں تھا، محترمہ بے ہیروئن نہیں بن سکی تھی،
عمران خان واحد لیڈر ہے جو شروع سے ہیرو ہے..اور اسٹیبلشمنٹ ہزار کوششوں کے باوجود عمران خان کی مقبولیت ختم نہیں کر سکی۔