ایک جبر کا ماحول ہے اور ہم اس ماحول کے اندر وقت گزار رہے ہیں۔اسلام میں جبر کی کوئی اجازت نہیں ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سِتَّةٌ لَعَنَهُمُ اللَّهُ وَلَعَنَهُمْ كُلُّ نَبِيٍّ مُجَابُ الدَّعْوَةِ،
(چھ اشخاص ایسے ہیں جن پر میں نے لعنت کی، اللہ نے بھی ان پر لعنت کی، اور ہر وہ نبی جس کی دعا قبول ہوتی ہے، اس نے بھی ان پر لعنت کی)
ان چھے میں ایک ہے:
الْمُتَسَلِّطُ بِالْجَبَرُوتِ، يُعِزُّ مَنْ أَذَلَّ اللَّهُ، وَيُذِلُّ مَنْ أَعَزَّ اللَّهُ۔
(طاقت کے ذریعہ غلبہ حاصل کرنے والا تاکہ اس کے ذریعہ اسے عزت دے جسے اللہ نے ذلیل کیا ہے، اور اسے ذلیل کرے جسے اللہ نے عزت بخشی ہے)
جو طاقت کی بنیاد پر مسلط ہوتا ہے، قوم کی مرضی نہیں ہے، طاقت کی بنیاد پر جو قوم پر مسلط ہوگا اور عزت والوں کو بے عزت کرے گا، جیسے ابھی دو چار روز پہلے بلوچستان سے معززین بلائے گئے اور یہاں پر جو ہماری مقتدرہ نے ان سے خطاب کیا اور گفتگو کی، جو انتہائی توہین آمیز تھی۔ تم باعزت لوگوں کو ذلیل کرو گے اور جو دو ٹکے کے لوگ نہیں ہیں، وہ ہمارے وزراء اور منسٹر ہم پر حکومت کریں گے۔ جو آپ کے وفادار ہو سکتے ہیں، وہ قابلِ انعام ہیں، اگر پاکستان کا وفادار ہے تو وہ غدار ہے۔
تو یہی سیاست تو انگریز کی تھی کہ انگریز کے وفادار کو وفادار کہا جاتا تھا، ہندوستان کے وفادار کو غدار کہا جاتا تھا۔ آج وہی رویے ہمارے ملک کے اندر ہم دیکھ رہے ہیں۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پشاور میں خطاب
طاقت کے ذریعے فیصلے مسلط نہیں کئے جاسکتے
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ کسی بھی قوم پر محض طاقت کے بل بوتے پر فیصلے مسلط نہیں کیے جاسکتے۔ ریاستی طاقت کا اصل مقصد عوام کے حقوق کا تحفظ، امن کا قیام اور آئین کی پاسداری ہے، نہ کہ عوامی رائے کو نظرانداز کرنا۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور کنونشن سے خطاب
#رہبر_ملت_مولانا #ہم_فرعونیت_کے_منکر #ملک_عوام_کا_ہے #تنخواہ_دار_مالک #بدامنی_کا_حساب_دو
حالیہ قانون سازی اختیارات کا ارتکاز ایک فرد کے اندر کرنا اور پارلیمنٹ کے کردار کو محدود کرنا ایک اہم آئینی اور سیاسی سوال ہے۔ ریاستی اداروں کے اختیارات میں توازن اور آئینی حدود کی پاسداری ضروری ہے۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور کنونشن سے خطاب
#رہبر_ملت_مولانا #ہم_فرعونیت_کے_منکر #ملک_عوام_کا_ہے #تنخواہ_دار_مالک #بدامنی_کا_حساب_دو
طاقت کے زعم میں زیادہ دیر مت رہو!
وقت گزرنے سے پہلے مولانا فضل الرحمٰن کے دردِ دل کو سن لو۔
یہ کسی جماعت، حکومت یا اقتدار کے خلاف ضد نہیں، اپنے ہی لوگوں کو خون میں نہلانے سے بچانے کی آخری آواز ہے۔
کشمیری عوام کے زخموں پر مرہم رکھو، ان کے مطالبات سنو، مذاکرات کا دروازہ کھولو اور طاقت کے بجائے حکمت، انصاف اور سیاسی ��ل کا راستہ اختیار کرو۔
یاد رکھو!
طاقت کا زعم ہمیشہ قائم نہیں رہتا، مگر بہائے گئے خون کا حساب تاریخ ضرور رکھتی ہے۔
آج مولانا فضل الرحمٰن دردِ دل کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ ایک اور موقع دے دو، کسی بڑے اقدام سے گریز کرو، مسئلے کے منصفانہ اور پائیدار حل کی طرف بڑھو۔
حکمرانوں کو یہ آواز آج سن لینی چاہیے،
پھر ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جائے، زخم گہرے ہو جائیں اور پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہ رہے۔
کشمیریوں پر رحم کرو، طاقت نہیں تدبر دکھاؤ۔
اپنے ہی گھر کو خون سے نہیں، امن سے شاداب کرو۔
سمیع سواتی
آج محسن نقوی صاحب کے پریس کانفرنس کے بعد
میں مولانا فضل الرحمن صاحب کا یہ کلپ ڈھونڈ رہا تھا بالآخر مل ہی گیا
اب مولانا صاحب کے 15 سیکنڈ کے کلپ کو سنیں
ویسے ہم مولانا صاحب کو سیاست کی یونیورسٹی نہیں کہتے جو کچھ کہا تھا وہی ہورہا ہے ❤️
مفتی عبدالرحیم صاحب، میں آپ سے مخاطب ہوں۔ کیا آپ عالم دین نہیں ہیں؟ کیا آپ سیاق و سباق مدرسے میں پڑھنا پڑھانا نہیں جانتے؟ کیا آپ کے علم میں نہیں ہے کہ سیاق و سباق کے بغیر بات کی جاتی ہے؟ کس پیرائے میں بات کی؟ کیسے، میں یہاں بیٹھ کے کہتا ہوں، شیر، اس وقت تک بات واضح نہیں ہوگی جب تک نہ بتایا جائے کہ جنگل کا شیر ہے یا سٹیج کا شیر ہے۔ ایک لفظ ہے، اس کے اگلا پچھلا لفظ نہیں ہوگا تو کیسے بات کریں گے؟ میں یہاں بیٹھ کے کہوں سپیکر دو نمبر ہے، نہیں بتایا جائے گا یہ سپیکر جو آوازیں دے رہا ہے یا اسمبلی کا سپیکر، جب تک مکمل بات نہیں کریں گے، بات نہیں کھلے گی۔ میں کہتا ہوں مفتی، اب مفتی مفتی سے ہے یا مفتی افتاء سے ہے، جب تک اگلی پچھلی بات نہیں ہوگی تو بات نہیں کھلے گی۔
آپ کو تو بہت اچھی طرح پتہ ہے، سیاق و سباق کسے کہتے ہیں؟ آپ مولانا کے سوالات کے اوپر بات نہیں کرتے، آپ انہیں کہتے ہیں وہ لفظ واپس لے لیں، جو سوالات حضرت مولانا نے جو کئے ہیں، آپ بسم اللہ فرمائیں نا، چلو، آپ کے مطابق مولانا نے یہ غلط بات کر دی ہے تو مجھے بتائیں حضرت مولانا نے جو سوالات کئے ہیں، آپ ان سوالات کو اپنے چینل پہ چلوا دیں، ویسے بھی ماشاءاللہ آپ کو لائکس چاہیے، آپ کو جو ہے نا وہاں پر کچھ فالوورز چاہیے، کچھ فالوورز کی بھیک چاہیے، کوئی ادھر ادھر سے مل جائے گا، ٹاؤٹی کے بجائے مولانا کے الفاظ اپلوڈ کروالینا، ادھر سے بھی آپ کو مل جائیں گے۔ آپ مولانا کے سوالات کو آگے کیوں نہیں لاتے؟ جس بات پہ مولانا غمزدہ ہیں، جس بات پر مولانا یہ بات فرما رہے ہیں، آپ وہ سوال کیوں نہیں لاتے؟ آپ کیوں نہیں بتاتے کہ عوام کو بندوق اٹھانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے؟ عوام کس بنیاد پہ بندوق اٹھائے، ان کی نسل در نسل دشمنیاں چلیں، آپ کراچی میں بیٹھ کے، لاہور میں بیٹھ کے، آپ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے حالات پہ تبصرہ کریں گے، ہم جانتے ہیں اس صوبوں میں کیا ہو رہا ہے، صاحب البیت ادری بما فیہ، ان سوالات کو آپ آگے کیوں نہیں لاتے اور کسی شہید کی توہین نہیں ہوئی، اس کو توہین بنا کر آپ پیش کر رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے نہیں کہا کہ جی فوج میرے لیے ایسی ہے جیسے آنکھوں کی پلکیں، چلواۓ نا مولانا کا یہ بیان، کیوں نہیں چلواتے؟ کیا مولانا نے نہیں کہا کہ ایک پلک کا بال اگر ٹوٹ کے آنکھ میں چلا جائے تو آنکھ آنسو بہاتی ہے، کیا مولانا نے احتجاج کی بات نہیں کی، آپ اس کے باوجود یہ بات نہیں کرتے، ک��ا مولانا نے نہیں کہا پھر بھی آنسو کے بعد بھی وہ بال نہ نکلے تو اس کو نکالنا پڑتا ہے، کیا آپ کو یہ چیز نظر نہیں آتی،
میں واضح اعلان کرتا ہوں کہ میں دفاعی قوت کی تنقید نہیں کر رہا ہوں، میں دفاعی قوت سیاست میں پڑ گئی ہے، اور سیاست میں پڑنے کرنا میرا حق بنتا ہے، میں یہ سوالات مولانا کے کیوں نہیں لاتے، مولانا کہتے ہیں میری مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا، اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے ڈالا گیا، کل آپ باجوہ کے ساتھ ٹھہرے تھے، کل آپ فیض حمید کے ساتھ ٹھہرے تھے، آج آپ دوسری صف میں آ گئے ہیں، مولانا کے سوال کو آپ ایڈریس کیوں نہیں کرتے؟ آپ کو نہیں پتہ کہ مولانا کا درد دل کیا ہے، مولانا کہنا کیا چاہتے ہیں، مولانا بتانا کیا چاہتے ہیں، کیا آپ کے علم میں نہیں،
میں واضح اعلان کرتا ہوں کہ میں سیاست کے اوپر بات کر رہا ہوں۔ آپ یہ سوالات مولانا کے کیوں نہیں لاتے، مولانا کہتے ہیں میرے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا، اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے ڈالا گیا، کل آپ باجوہ کے ساتھ ٹھہرے تھے، کل آپ فیض حمید کے ساتھ ٹھہرے تھے، آج آپ دوسری صف میں آ گئے ہیں، مولانا کے سوال کو آپ ایڈریس کیوں نہیں کرتے؟ آپ کو نہیں پتہ کہ مولانا کا دردِ دل کیا ہے، مولانا کہنا کیا چاہتے ہیں، مولانا بتانا کیا چاہتے ہیں، کیا آپ کے علم میں نہیں !
#چوکیدار_وڑگیا #مرد_آہن_مولانا #پروپیگنڈہ_برگیڈ #کنگال_عوام
#عیاش_حکمران