𝗗𝗿. 𝗦𝗮𝗯𝗶𝗵𝗮 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵'𝘀 𝗠𝗲𝘀𝘀𝗮𝗴𝗲 𝘁𝗼 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵 𝗦𝗲𝗿𝘃𝗶𝗻𝗴 𝗶𝗻 𝗦𝘁𝗮𝘁𝗲 𝗜𝗻𝘀𝘁𝗶𝘁𝘂𝘁𝗶𝗼𝗻𝘀 𝗔𝗴𝗮𝗶𝗻𝘀𝘁 𝗧𝗵𝗲𝗶𝗿 𝗢𝘄𝗻 𝗣𝗲𝗼𝗽𝗹𝗲
Addressing Baloch personnel serving in the state's security institutions, Dr. Sabiha Baloch said:
"What happened in Turbat yesterday is a painful reminder of where we stand today. Turbat, long known as the land of resistance, has become a place where women, children, and families who come out to demand the return of their forcibly disappeared loved ones are beaten, dragged through the streets, detained, and subjected to fabricated cases and FIRs.
The deepest pain is not only that peaceful people were arrested or imprisoned. The greater tragedy is that many of those carrying out the violence were our own Baloch. Today, you are wearing a uniform and erasing your identity. Holding a baton does not give anyone the right to abandon humanity or turn against their own people. By doing so, you risk becoming another face of oppression against your own people.
Our culture, traditions, and values do not permit humiliation, violence, or cruelty against women, elders, and our people. Ask yourselves: who gave you this authority? Was it your land, your culture, your honour, or your conscience? Or was it only the uniform you wear?
Last night, Sayed Bibi and her children spent the night in a graveyard because of fear and persecution. Reflect on what that means. Can your faith, your identity, your homeland, or your sense of honour ever justify a mother being forced to seek refuge in a graveyard with her children?
This is not the conduct of a human person or a Baloch, but rather the act of an animal and a power lover. Remember, power is temporary. Uniforms are temporary. One day they will be taken off. When your funeral is carried, it will be Baloch shoulders that lift it, and when you are laid to rest, it is this land that will embrace you, not the uniform or the authority you once held. Before that day comes, stop and reflect on the path you are choosing.
To those Baloch serving in the FC, police, or other state institutions: participation in actions against your own people is not merely a matter of following orders but an equal participation in Baloch genocide. Then, history will remember you as a colonizer. Consider carefully what legacy you wish to leave for future generations."
🚨🚨
A Baloch mother has only one son and he is missing.. She fell crying for her son.. Nobody can understand miseries of Baloch mothers and cruelty/cost of state’s oppressive policies in #Balochistan!
#عالمی سطح پر تسلیم شدہ پسماندہ ترین #بلوچستان میں پنجابی مزدوری کرنے آتے ہیں, جبکہ #سعودی عرب اور #متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں بھیک مانگنے جاتے ہیں ۔۔۔یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔۔۔
ہمیں کیا کرنا ہے؟
میرے جرات مند ساتھیوں!
ہمارے لیے آج یہ سوال بہت اہم ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ آج، جس وقت میں یہ خط کال کوٹھریوں سے تحریر کر رہی ہوں، اس وقت ہماری تنظیم اور تحریک بدترین ریاستی مظالم کا سامنا کر رہی ہیں۔ ہمارے متعدد ساتھی جیلوں میں قید ہیں، اور جیل سے باہر ہماری تنظیم پر بدترین قدغنیں لگائی گئی ہیں۔ میرے نزدیک اہم سوال یا اہم مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ہم پر تشدد کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، ہمیں گرفتار کیا جا رہا ہے یا ہم جیلوں میں قید ہیں، بلکہ میرے نزدیک اہم سوال یہ ہے کہ ہمیں بحیثیتِ تنظیم ان حالات میں کیا کرنا ہے؟ میں سمجھتی ہوں کہ اگر ہم اس سوال پر غور و فکر کیے بغیر آگے بڑھنے کی کوشش کریں تو شاید ہم بحیثیتِ تنظیم آگے نہ جا سکیں۔
جب میں گرفتار ہوئی، میرے ساتھی گرفتار ہوئے، تنظیم پر بدترین جبر (کریک ڈاؤن) (ویسے دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم اس لفظ “کریک ڈاؤن” کا بھی غلط استعمال کر رہے ہیں، ہم پر کریک ڈاؤن نہیں ہو رہا بلکہ ہم کالونیل جبر کا سامنا کر رہے ہیں) کا آغاز ہوا ہے، تو اس صورتِ حال کا خاصا اندازہ تو ہمیں اور ہماری تنظیم کو پہلے سے تھا، لیکن پھر بھی ہمیں حالات کی گہرائی سے جستجو کرنے کی ضرورت ہے۔
میرے ساتھیوں،
میرے نزدیک تشدد، گرفتاری، جیل یا ان کے ردِعمل میں بڑے پیمانے پر احتجاج نہ کرنا شکست کی علامت نہیں ہے، اور میں قطعی طور پر ایسی باتوں پر ذرہ برابر بھی یقین نہیں رکھتی ہوں۔ میرے نزدیک شکست، سیاسی اور فکری پسماندگی ہے۔ جب ہم سیاسی اور فکری طور پر پسماندہ ہو جائیں یا کھوکھلے ہو جائیں، تو وہ دن ہماری شکست کا دن ہوگا۔ان حالات میں ہماری دیگر اہم ذمہ داریوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہم بحیثیتِ سیاسی کارکن اپنے آپ کو سیاسی اور فکری پسماندگی سے کیسے محفوظ رکھیں گے۔ فکری پسماندگی سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کا سب سے اعلیٰ ذریعہ “تنظیم” ہے۔ لیکن صرف تنظیم کا ہونا ازخود کافی نہیں ہے،بلکہ تنظیم میں مرکزیت کے گرد ایک ترقی یافتہ سیاسی شعور کا موجود ہونا بھی ضروری ہے، جو پورے ایک نیٹ (جال) کی طرح یونٹ سے لے کر مرکز تک تمام کیڈرز اور ذیلی اداروں کو اس ترقی یافتہ سیاسی شعور سے لیس کرے۔
اگر ہم تنظیمی اور تحریکی ترقی چاہتے ہیں، اور اپنے آپ کو سیاسی پسماندگی سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، تو اس وقت ہماری تمام تر توجہ ان امور پر مرکوز ہونی چاہیے۔ اس نکتہ سے انکار کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے کہ اس وقت ہمارے پاس نہ صرف سیاسی شعور سے لیس تنظیم موجود ہے بلکہ عہدِ حاضر میں وہ منظم بھی ہے۔ لیکن اپنی موجودہ حیثیت پر مکمل طور پر مطمئن ہونا یا خوش فہمی کا شکار ہونا، اپنے آپ کو جمود کا شکار کرنے جیسا ہے۔ ہمیں کسی بھی صورت ترقی اور آگے بڑھنے کے سفر کو نہیں روکنا چاہیے، اور اس کے لیے ہمیں مسلسل محنت، غور و فکر، اور جستجو جیسے تخلیقی ماحول کو پروان چڑھانا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بی وائی سی جیسی تنظیم کسی حادثے یا ایک مخصوص ایونٹ کی پیداوار نہیں ہے، بلکہ یہ مسلسل جدوجہد، غور و فکر، اور جستجو کی پیداوار ہے، اور اس کی کامیابی کے لیے بھی مسلسل جدوجہد، غور و فکر، اور جستجو ضروری ہے۔
میرے دوستوں،
ہمارے لیے ہر وقت تنظیم اعلیٰ اور اہم رہی ہے، اور اسے ہمیشہ اہم و اعلیٰ ہونا چاہیے، کیونکہ ہم جس جبر کے نظام کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، اُسے ایک منظم تنظیم کے بغیر شکست دینا ناممکن ہے۔لہٰذا، اس وقت ہماری توجہ ایک منظم تنظیم پر ہونی چاہیے۔ہمیں کسی ایک لمحے کے لیے بھی اپنے جذبات کو عقل پر حاوی نہیں ہونے دینا ہے۔ہمیں کسی بھی ایسے نقطے سے دور رہنا ہے جو ہماری تنظیم کی اجتماعی قوت کو کمزور کرے۔ہمیں بد سے بدترین صورتِ حال میں بھی منتشر نہیں ہونا ہے۔منظم رہنا ہماری مجبوری نہیں بلکہ ہماری طاقت ہے۔ہمیں ہر طرح کی صورتِ حال میں منظم رہنا ہے۔ہمارے ہر ایک کارکن کو اپنے نفسیات اور اعصاب پر مکمل اختیار ہونا چاہیے، اور کسی بھی دباؤ کی صورت میں ایسے عمل سے اجتناب برتنا چاہیے جس سے تنظیم اور اجتماعی مقصد متاثر ہو۔ معمولی سے معمولی فیصلہ لینے کے لیے بھی ہمیں حالاتِ حاضرہ کا مکمل ادراک ہونا ضروری ہے۔ہمیں سوشل میڈیا کی کج بحثی سے متاثر ہو کر کسی بھی صورت تنظیمی فیصلے نہیں لینے ہیں۔
کامیابی ہر حال میں ہماری ہے، بس ہمت، جرأت اور غور و فکر سے اس جدوجہد کو آگے لے جانا ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
ہدہ جیل، کوئٹہ
15اپریل 2025
The families of Baloch missing persons, along with the family of Dr. Mahrang Baloch, wants to set up a hunger strike camp in front of the Quetta Press Club, but the Quetta police are stopping them.
#ReleaseMahrangBaloch#ReleaseBYCLeaders
احتجاجی دھرنا بمقام پریس کلب کوئٹہ
گزشتہ ایک مہینے سے بلوچستان بھر میں تھری ایم پی او کے تحت غیر قانونی طور پر درجنوں سیاسی کارکنان کو پولیس نے زیرحراست رکھا ہوا ہے جن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے جس کا مظاہرہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے کیس میں فیصلے کے دن ہمارے سامنے آیا جب معزز عدالت نے فیصلہ سنانے کے بجائے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کیس وزیر داخلہ کے حوالے کیا جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ تمام کیسز قانون کے بجائے سیاسی مقصد کیلئے لگائے گئے ہیں جن کا بنیادی مقصد سیاسی لوگوں کو زیر کرکے بلوچستان میں غیر قانونی اور غیر انسانی سلوک کو شدت دیا جائے۔ اسی مقصد کے تحت ڈاکٹر ماہ رنگ، شاہ جی، گل زادی، بیبگر اور دیگر درجنوں کارکنان مختلف جیلوں میں بند کیے گئے ہیں جبکہ بلوچستان کے دیگر علاقوں میں اس ناانصافی کے خلاف اٹھنے والے آوازوں کو دبانے کیلئے پولیسی طاقت اور تشدد کا سہارہ لے رہی ہے۔ جبکہ دوسری جانب بلوچستان بھر میں جبری گمشدگیوں کے واقعات میں شدت سے اضافہ دیکھا گیا ہے اور گزشتہ چند دنوں کے اندر درجن افراد کو ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا ہے اور یہ سلسلہ دن بدن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
اس ناانصافی کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ و تھری ایم پی او کے تحت گرفتار سیاسی کارکنان و سیاسی اسیران کی جبری گمشدگی و گرفتاری کے خلاف پریس کلب کوئٹہ میں لواحقین نے ایک احتجاجی کیمپ لگا دی ہے۔ احتجاجی کیمپ کا مقصد ان غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر انسانی سلوک کے خلاف آواز اٹھایا جائے۔
ہم تمام گرفتار سیاسی کارکنان، جبری گمشدگی کے شکار سیاسی اسیران کے لواحقین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کیمپ آکر ان ناانصافیوں کے خلاف جاری جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں تاکہ ہم اس ریاست کے اندھے قانون کو جگانے کی کوشش کریں اور بلوچستان میں شہریوں کے حقوق کی تحفظ کو یقینی بنائے۔
ہمیں اس وقت مسلسل اور محنت کش جدوجہد کی ضرورت ہے تاکہ بلوچستان میں جاری غیر انسانی جبر اور زیادتیوں کے خلاف ایک منظم آواز بلند کر سکیں اور دنیا کو اس حوالے سے آگاہ کر سکیں۔
Nabeel Nodh, a student and a talented #Baloch poet, was forcibly disappeared by Pakistani forces. He was born a poet, and his writing has touched many hearts in #Balochistan. Pakistan has always targeted talented youth, and this must come to an end. #FreeNabeelNodhBaloch
کوئٹہ میں پولیس و ڈیتھ اسکواڈ سول گاڑیوں میں گشت کر رہے ہیں کہیں سے بھی کسی کو بھی اغوا کر رہے ہے۔ آج قمبرانی روڈ سے 16 سالہ مزلفہ قمبرانی کو اکیڈمی سے آتے ہوئے اٹھا لیا۔ مزلفہ کے ہمرا اسکی بہن بھی تھی، مزلفہ کی بہن نے بتایا کہ ہم اکیڈمی سے اپنے گھر کی جانب جا رہے گھے کہ ایک صرف گاڑی سے کچھ سادہ کپڑے والے اور ایک پولیس اہلکار اترا اور ہمیں پکڑنے کی کوشش کی، میں بھاگ کر ایک رکشے میں سوار ہوگئی جبکہ وہ میری بہن کو اٹھا کر گئے۔
بلوچستان کا قیامت بر پا ہے، بلوچستان غزہ بن چکا ہے
#NoToPakistansTyranny