میں لعنت بھیجتا ہوں ایسی کرسی پر جس کے لیے مجھے پشتونوں کے سر کا سودا کرنا پڑے ، سہیل آفریدی
چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کے آبائی شہر میں کھڑے ہو کر تقریر میں چیف جسٹس کو انصاف نہ کرنے پر طعنے
رجیم چینج کے بعد پی ڈی ایم حکومت کے سامنے افغانستان سے طالبان کو واپس لانے کے منصوبے کو ڈی جی آئی اور آرمی چیف نے رکھا اور انہوں نے بغیر کسے چوں چرا کے لبیک کہا۔ وہی پلان جس پر عمران خان اور ہم نے ابسولوٹلی ناٹ کہا تھا۔ اگلے ہفتے افغانستان ایک وفد بھیجا گیا جس کو عوامی نمائندہ وفد کہا گیا۔ میں نے پریس کانفرنس میں سوال اٹھائے کہ منتخب اراکین میں سے کوئی نہیں گیا کس کو ہمارے فیصلے کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے؟
جولائی ۲۰۲۲ کے آخری دن افغانستان سے طالبان کی پہلے تشکیل ہوئی۔اگست کے پہلے ہفتے میں جب سوات اور دیر کے پہاڑوں تک پہنچے تو ہم نے مجبوراً عوامی طاقت سے ان کو واپس دھکیلا۔ پہلے آئ ایس آئی اور فوج نے دھمکیاں دیں کہ سٹے آوٹ اف اٹ، پھر جب عوامی طاقت کے سامنے بے بس ہوئے تو مجھے الیونتھ کور،آئی ایس پی آر اور آیی ایس آیی سے فون کروایا کہ ”دیکھیں مراد صاحب وعدے کے مطابق آپ کا سوات کلییر ہوگیا ہے آپ نے باقیوں کو ٹھیکہ تو نہیں لے رکھا”۔ٹھیکا تو ہم نے لے رکھا تھا، کہا جب تک یہ واپس نہیں جائیں گے مظاہرے جاری رہیں گے۔ اور ۱۶ اگست ۲۰۲۲ کو آخری بندہ بھی سرحد پار چلا گیا۔ آئ ایس پی آر نے اس کا کریڈٹ لیا۔ پریس ریلیز جاری کی۔
اس کے بعد تو امن ہونا چاہئے تھا ناں؟
سرحد پر باڑ لگی ہوئی تھی، سیکورٹی یقینی بنانی چاہئے تھی ناں؟
لیکن ستمبر ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پھر سے ان کو لانے کا انتظام کیا گیا۔ اس دفعہ دونوں جانب سے کالز موصول ہوئیں کہ سٹے آوٹ اف اٹ۔ ہم کیسے رُک سکتے تھے؟ ہماری تو زندگیوں کا سوال تھا۔ عوام کو موبلائز کیا پھر بھی سنوائی نہیں ہوئی۔ پنڈی میں مظاہرہ کیا اور اگلے دن پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔ فوج کی گاڑیاں آئیں، پولیس کو ہٹایا اور ان کو واپس افغانستان کی سرحد پر چھوڑ آئے۔ مجھے وارن کیا کہ یو ہیو کراسڈ دی لائن۔۔ کون سی لائن؟ امن قائم کرنا بھی فوج کی ریڈ لائن ہوگئی؟
پھر فیصلہ ہوا کہ مالاکنڈ والے تو آنے نہیں دے رہے لہذا جنوبی اضلاع سے ان کو لایا جائے۔ یہ اطلاع ملتے ہی میں نے اسلام آباد میریٹ میں دہشت گردی کی واپسی اور نئی لہر کے عنوان سے میڈیا، تجزیہ نگاروں، سفارت کاروں، سابق پولیس افسران اور سیکورٹی ایکسپرٹس کے لیے سیمینار رکھا کہ پالیسی بدلیں ورنہ پھر جنازے اٹھیں گے۔ جنوبی اضلاع سے تحریک اٹھانے کا اعلان بھی کیا۔ پھر یوں ہوا کہ بغاوت، غداری، دہشت گردی کے مقدموں کے بعد سر کی قیمت بھی لگا دی اور یہ سب نو مئی سے پہلے ہوا۔ پھر اپنے مضموم مقاصد کی تکمیل کے لیے نو مئی کا سہارا لیا گیا۔
اب بجائے اس کے کہ اپنی غلط پالیسی پر معافی مانگ کر پختونخواہ اسمبلی میں تمام سیاسی جماعتوں، علماء، طلباء، وکلاء، سول سوسائٹی، میڈیا ودیگر کے جرگے میں بنی پالیسی اپنا کر دنوں میں امن حاصل کیا جائے اپنی اسی ڈالری جنگ کا ایندھن اپنے جوانوں اور شہریوں کو بنایا جا رہا ہے۔
عمران خان کی رہائی کے لیے شروع ہونے والا مارچ اب صرف عمران خان کی رہائی تک محدود نہیں رہا۔ واضح ہوا کہ جو میڈ اپ دہشت گردی لائی گئی اب ایک مرتبہ پھر آپ کو اس کا ایندھن بنانے کے لیے عمران خان کی حکومت صوبے میں ختم کرکے وہی کھیل شروع کرنا ہے۔
پورے پختونخواہ کو پیغام دو اگر بے گھری سے بچنا ہے۔ آئی ڈی پی کیمپس کی زندگی نہیں چاہئے، مارٹر گولوں، لڑاکا طیاروں اور توپ کی گولیوں کا نشانہ نہیں بننا چاہتے۔ اپنے ہی گھر میں گلے میں شناختی پٹے ڈال کر چیک پوسٹوں پر ذلیل ہونے کے بعد، ان گھس بیٹھیوں کے اس سوال کا سامنا نہیں چاہتے کہ ”تم کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ کہاں کو جارہے ہو؟“ تو پوچھو کہ تم ہو کون ہمارے فیصلے کرنے والے؟ للکارو کہ ہم اپنے گھروں سے بے گھر نہیں ہوں گے۔ نکلو۔ کہ یہ لڑائ آج سے پہلے بھی صرف عمران خان کی نہیں تھی۔ اور آج تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ داؤ پر لگی یہ زندگیاں تمہاری ہیں۔ جیل میں بیٹھا عمران خان، تمہارے ووٹوں سے بنی اس کی یہ حکومت تو محض ان خون آشام درندوں کے مقابلے میں تمہاری آخری ڈھال ہیں۔
انشأللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے ہم لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے-
آج بروز اتوار، 4 اکتوبر، دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔ رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ کرے گا۔
5 اکتوبر دن 12 بجے کرک کے غیور عوام ہمیں جوائن کرینگے۔ وہاں سے روانگی 12:30 بجے ہوگی اور رات کو کوہاٹ کے قریب پڑاؤ کریں گے-
6 اکتوبر کو 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع کے پاکستانی ہمیں جوائن کریں گے۔ کوہاٹ سے پشاور کی طرف روانگی ہوگی اور پشاور متنی کے قریب رات گزاریں گے۔
7 اکتوبر کو پشاور بڈھ بیر کے مقام سے دن 12:30 بجے روانگی ہوگی۔ بڈھ بیر کے مقام پر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ پشاور کے باقی حلقے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازا پر ہمیں جوائن کریں گے۔ اور رات ہم چارسدہ انٹرچینج کے قریب گزاریں گے۔
8 اکتوبر کو 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی۔ وہاں ضلع چارسدہ اور مہمند ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔
پورے خیبر پختونخوا کے لوگ 8 اکتوبر کو خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہونگے اور وہاں رات گزاریں گے۔ انشأللہ آگے کا لائحہ عمل وہاں پر دیا جائیگا۔
۱۹۴۸ سے لے کر آج دن تک پاکستان کے دفاع کے لیے بنا وردی بنا کسی تمغے کی تمنا کے سربکف رہے ہیں ہم۔
کشمیر آزاد کرانا تھا تو اپنی منشاء سے آپ سے آگے چلے ہم۔
افغانستان کو غاصب روسیوں سے نجات دلانی تھی تو آپ کا تھمایا اسلام کا علم سینے سے لگایا ہم نے۔
امریکہ کی خوشنودی آپ کو مطلوب تھی، سلامیاں ہماری ماؤں کو ملیں۔ ہم نے قبول کیں۔ ایک بھرم تھا جانے کم فہمی تھی یا خوش فہمی۔ جو اس حقیقت سے آنکھیں موڑے بیٹھے رہے ہم کہ تم مرو تو شہید۔ ہم مریں تو کولیٹرل ڈیمج۔
ہمارے لیے بے گھری۔ تمہاری لیے پلاٹ۔
تم ملک بیچ کھاؤ تو بھی سینے پہ تمغے سجاؤ۔
ہم سر بھی واریں اور اپنے گلے میں لٹکیں بغاوت کی دفعیں بھی گنیں۔
ہم بے موت مرنے سے انکار کریں تو دہشت گرد ہیں۔
امن کا سوال کریں تو غدار ہیں۔
تو پھر وفادار کون ہے؟ تم؟
یا تمہارے قدم بوس یہ زباں دراز؟
جو جو ایم پی ایز، ایم این ایز یا پارٹی قائدین 4 اکتوبر کو پاکستان میں موجود نہیں ہوں گے، ان کا پاکستان تحریکِ انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ وہ اپنے لیے کوئی دوسری پارٹی بنا لیں۔
4 اکتوبر کو انشاءاللہ عوام کا سمندر سڑکوں پر ہوگا۔ ہماری تیاری مکمل ہے۔ ہمارے کارکن پُرامن لانگ مارچ کے لیے بیتاب ہیں۔ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں 24 گھنٹے کی ڈیدلائن سے ہمارے لاکھوں کارکن سڑکوں پر ہونگے۔ انشاءاللہ۔
ابھی رات کو پھر سخت کریک ڈاون کیا گیا مزید لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جس میں کراچی کابینہ کے کئی لوگ گرفتار ہیں ، یہ ہے تمہاری جمہوریت کہ صرف اسٹریمرز لگوانے پر انہیں قید کرلیا گیا کراچی میں سہیل خان آفریدی کے استقبالیہ پر، یہ ہے تمہاری گھٹیا جمہوریت۔
تم وہی ہو نا بلاول، جس نے کہا تھا کہ ترمیم نہیں ہوئی تو یہ کر دیں گے، وہ کر دیں گے لات مار کے گرادیں؟ پھر تم لوگوں نے ہماری خواتین کی مخصوص نشستیں بھی چھین لیں۔ آج تمہیں اچانک Political Tolerance یاد آ رہی ہے؟
ہمیں بے وقوف سمجھتے ہو؟
میں ایک سیاسی کارکن تھی اس وقت مجھے 3-MPO کے تحت جیلوں میں ڈالا گیا متعدد ایف آئی ار میں نامزد کیا گیا، اج بھی دہشت گردی کے پرچے بھی شامل ہیں مجھے اتنا ذلیل کیا گیا۔ کہ یہاں لکھنا محال ہے۔ سندھ میں خواتین کے خلاف سب سے پہلے PECA کی ایف آئی آر مجھ پر درج ہوئی، مجھے گرفتار کیا گیا اور جیل میں رکھا گیا۔
سکھر جیل میں میرے ساتھ جو کچھ ہوا، کراچی کے تھانوں اور تمہارے بنائے گئے عقوبت خانوں میں جو کچھ برداشت کیا، وہ میں نہیں بھولی۔
اور آج تم ہمیں سیاسی برداشت کا درس دے رہے ہو؟ بلاول زرداری! تم نے جو کچھ کیا اور اسٹبلیشمنٹ کے ساتھ مل کر جو کچھ کروایا، ہم نہ بھولے ہیں، نہ بھولیں گے اور نہ کسی کو بھولنے دیں گے۔
آنے والا وقت جلد سب کا حساب کرے گا ان شاء اللہ۔ ہماری یادداشت اتنی کمزور نہیں جتنی تم سمجھتے ہو۔
@BBhuttoZardari شرم کرو کس قدر منافق ہو ۔۔۔۔