افسرشاہی ہی اس ملک کا اصل نظام ہے سیاستدان بیچارے تو مفت میں گالیاں کھانے کے لیے ہوتے ہیں ۔ سول سروسز اکیڈمی لاہور کے ڈی جی صاحب کو ائیرپورٹ پر پروٹوکول چاہیے پیشگی خط بھی بھیج دیا
ڈی جی صاحب تھوڑا عرصہ پہلے کفایت شعاری مہم کے تحت سائیکل چلا کر دفتر پہنچ کر خاصے مشہور ہوئے تھے ۔ سائیکل چلانے کی ویڈیو کے لیے گاڑی الگ چل رہی تھی پیچھے !
پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے مختلف حلقوں میں جاری بدترین انتخابی دھاندلی، نتائج میں ردوبدل کی کوششوں اور ریاستی مشینری کے کھلے استعمال کی شدید مذمت کرتی ہے۔
ابتدائی نتائج اور غیر سرکاری گنتی کے مطابق شام سات بجے تک پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار واضح برتری حاصل کیے ہوئے تھے۔ تاہم اس کے فوراً بعد مخصوص پولنگ اسٹیشنز کے نتائج سامنے آنا شروع ہوئے، جہاں غیر معمولی طور پر 80 فیصد سے زائد ٹرن آؤٹ دکھایا جا رہا ہے اور ایک بیلٹ باکس سے 700 سے 800 ووٹ نکلنا سنگین شکوک پیدا کر رہا ہے۔ یہ عمل انتخابی شفافیت پر بدنما داغ ہے۔
مزید برآں ہمارے پولنگ ایجنٹس کو فارم 46 فراہم کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے، جو الیکشن قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور نتائج میں ردوبدل کے خدشات بڑھا رہا ہے۔
نگر سمیت مختلف علاقوں میں مخالف جماعت کے افراد کو جعلی بیلٹ پیپرز کے ساتھ پکڑا گیا۔ صبح کے وقت ہی کچھ عناصر رنگے ہاتھوں گرفتار ہوئے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دھاندلی منظم منصوبہ بندی کے تحت کی جا رہی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف اس امر کو اجاگر کرتی ہے کہ یہ دھاندلی پولنگ ڈے تک محدود نہیں بلکہ پری پول رگنگ کے ذریعے پورا انتخابی عمل متنازع بنایا گیا۔ مخصوص حلقوں میں ووٹر لسٹوں میں ردوبدل، ایک ووٹر کو متعدد پولنگ اسٹیشنز میں شامل کرنا، پولیس اور انتظامیہ کے ذریعے حلقہ بندیوں اور پولنگ اسکیموں میں تبدیلیاں، اور مخالف امیدواروں و کارکنان کو ہراساں کرنا جیسے اقدامات کیے گئے۔
یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ فارم 47 کی پیداوار کرنے والی حکومت ایک بار پھر عوامی مینڈیٹ چرانے کے لیے ہر حد پار کر رہی ہے۔
ہم واضح کرتے ہیں کہ اگر نتائج میں ردوبدل کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ پاکستان تحریک انصاف اپنے ووٹ کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری راستہ اختیار کرے گی۔
پاکستان تحریک انصاف مطالبہ کرتی ہے کہ تمام پولنگ اسٹیشنز کے مستند نتائج فوری جاری کیے جائیں، ہر امیدوار کو فارم 45 اور 46 بلا تاخیر فراہم کیے جائیں، مشکوک پولنگ اسٹیشنز کی فوری تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے شفافیت یقینی بنائے۔
پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلاتی ہے کہ ان کے ووٹ کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا اور کسی کو عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
منجانب: مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ
ظلم سے نجات کا ایک ہی حل: اپنے حق اور سچ کے لیے ڈٹ جاؤ!
7 جون 2026 کو ہونے والے انتخابات میں قانون کی بالادستی، اسیرانِ جمہوریت کی آزادی اور حقیقی انصاف کے لیے باہر نکلیں اور اپنے ووٹ کی طاقت سے ایک نئے اور پرامن کل کا انتخاب کریں۔
یاد رکھیں: ظلم کا بدلہ ووٹ سے!
#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان
بلوچستان کی گیس فوجی فاؤنڈیشن کو پانی سے بھی سستی دی جا رہی ہے پیداواری لاگت کے محض 13 فیصد پر۔
یہ رعایت نہیں، کھلی معاشی ناانصافی ہے ماہر معاشیات قیصر بنگالی
نشتر ہسپتال ٹو کے اندر 52 بیڈز پر مشتمل آئی سی یو وارڈ سالوں گزرنے کے باوجود فعال نہیں ہو سکا آئی سی یو میں مشینری موجود ہے لیکن عملہ موجود نہیں ہے۔وہاں کسی مریض کو آئی سی یو کی ضرورت پڑ جائے تو اسے 30 کلومیٹر دور نشتر ون لانا پڑتا ہے۔
@Imran_Nawaz_@CMComplaintCell
@_AzeemButt apni establishment ko kahain k elections mn madakhlat naa kren bs,,,,phr establishment k bgair hi iqtdar mn aye gi phr wo pti ho ya koi aur party,,,
عمران خان کے حلقہ میانوالی میں خٹک بیلٹ پہاڑی علاقے میں 5 ارب سے زائد کا ایک بڑا پانی کا منصوبہ نون لیگ کی حکومت نے روک رکھا ہے کیونکہ یہ منصوبہ عمران خان کا تھا۔
اس منصوبے سے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو گھر کی دہلیز پر صاف پانی ملنا تھا لیکن اب کام روکنے کی وجہ سے لوگ ان تالابوں سے پانی پی رہے ہیں جہاں جانور بھی پیتے ہیں۔
حکومتی انتقامی سیاست نے ترقی کا پہیہ روک دیا ہے، جبکہ عوام اس کی قیمت پیاس، بیماری اور محرومی کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔
اگر عمران خان ختم ہو چکا ہوتا تو چار سال بعد بھی اس سے خوف کیوں ہوتا؟
پھر گرفتاریاں کیوں؟
پھر انتخابی نشان کیوں چھینا جاتا؟
پھر مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی کوششیں کیوں؟
حقیقت یہ ہے کہ طاقتور لوگ بھی اس عوامی تعلق سے خوفزدہ ہیں جو عمران خان اور قوم کے درمیان قائم ہے۔
اب فیصلہ گلگت بلتستان کے عوام کے ہاتھ میں ہے۔
ظلم کا جواب ووٹ سے دیں!
#جی_بی_کا_کپتان_عمران_خان
#گلگت_بلتستان_خان_کا
ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ ہائی کورٹ کے آرڈرز لے کر جیل جاتا ہے اپنے لیڈر سے ملنے تاکہ صوبہ کے سیاسی امور پر مشاورت کرے یا قانونی امور پر بات کرے، لیکن آگے کھڑا ایک ایس ایچ او کہتا ہے کہ میں کوئی آرڈرز نہیں مانتا اور اندر بیٹھا افسر جو سب چلاتا ہے وہ ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ وہاں کسی کو شرم نہیں آتی مگر صوبے کے ایم پی ایز کی ناراضگی پر سب کی شرم جاگ جاتی ہے۔
بیرسٹر ابوذر سلمان نیازی
@SalmanKNiazi1
No army can withstand the strength of an idea whose time has come. Victor Hugo
Imran Khan also repeated this quote.
عمران خان نے بھی دہرایا تھا۔۔دنیا کی کوئی فوج اس نظریئے کی طاقت کے خلاف کھڑی نہیں ہو سکتی، جس کا وقت آ چکا ہو-
#گلگت_بلتستان_خان_کا#جی_بی_کا_کپتان_عمران_خان
@Ambreen_Sardar@PakStudies2025 ویسے بھی بیوی یا بچوں کی ماں کماتی بھی ہو تو شوہر یا بچوں کا باپ بچوں کے اخراجات کی زمہ داری سے بری الزمہ کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔خاص کر جب وہ دوسری تیسری بیوی اور ان سے بچوں کے اخراجات برداشت کر رہا ہو۔
آج ہائی کورٹ بینچ ملتان میں ایک فوجداری مقدمے کی سماعت کے دوران ایک ایسا لمحہ آیا جس نے میرے ذہن میں کئی سوالات چھوڑ دیے۔
ایک وکیل صاحب نے اپنے مؤکل کی ضمانت کے حق میں سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ پیش کیا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اسی نوعیت کے ایک مقدمے میں سپریم کورٹ نے ضمانت منظور کی تھی، لہٰذا موجودہ درخواست گزار بھی اسی قانونی رعایت کا مستحق ہے
اس پر معزز جج صاحب نے قدرے مزاحیہ انداز میں فرمایا
"وہ تو میجر ریٹائرڈ تھا
پھر مسکرائے اور دو تین بار
فرمایا ہاں ہاں وہ تو میجر ریٹائرڈ تھا ۔
عدالت میں موجود متعدد وکلاء مسکرا دیےماحول میں ہلکی سی ہنسی بکھر گئی اور بات آگے بڑھ گئی۔
مگر میرے دل میں ایک عجیب سا سوال جنم لے چکا تھا۔
کیا واقعی یہ ایک معمولی جملہ تھا؟
یا یہ اس اجتماعی نفسیات کی جھلک تھی جو برسوں سے ہمارے اداروں، سیاست، معاشرے اور ذہنوں پر مسلط ہے؟
@Mian_JavedLatif جن سے پوچھنا چاہیے ان سے فارم سینتالیس لے کے ممبر قومی اسمبلی بنے بیٹھے ہیں ۔ڈائریکٹ ان سے پوچھیں ۔۔۔ان سے پوچھتے زبان تالو سے چپک جاتی،حلق خشک اور سانس رک جاتی ہے ۔
نواز شریف صاحب، جن کی گود میں آپ اس وقت بیٹھے ہیں انہی قوتوں نے نکالاتھا،جو لائے ہیں وہی نکالنے والے تھے،جو قوتیں آپ کی پارٹی کو اب دھاندلی سے اقتدارمیں لے آئے، آپ کے بھائی کو فارم 47 کا وزیر اعظم اور بیٹی کو فارم 47 کی وزیراعلٰی پنجاب بنوایا وہی قوتوں نے آپ کو نکالا تھا۔۔۔
اور ہاں جن عوام سے آپ گلہ کررہے ہیں ان میں سے 50 فیصد پاکستانی عوام کو خط غربت سے نیچے دھکیل کر آپ کا بھائی اور بیٹی بطور حکمران بھرپور انتقام لے رہے ہیں۔
راستہ ایک ہی ہے: مزاحمت۔ ہر منگل کو یہاں بے شک تیس سال آ کر بیٹھتے رہیں، ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگے گی۔ سڑکوں پر آنا پڑے گا۔ تمام قیادت، کارکنان اور فیملی کو متحد ہونا پڑے گا۔ مزاحمت خان صاحب کی رہائی کا واحد راستہ ہے۔
بلال عمر بودلہ