اڈیالہ جیل سے میسج آیا کہ اجاو خان صاحب سے ٹکٹوں کی تقسیم پر مشاورت کر لیں
اب جہاں رہے مرشد کے پاس جسکا خان صاحب کہیں گے اسے ہی ٹکٹ دینگے
بیرسٹر گوہر علی
پروپیگنڈا وڑ گیا 🚨
حسن ایوب کہہ رہا ہے 6 مئی کو عمران خان نے زوم میٹنگ کے دوران 9 مئی حملے کی ہدایات دی
جب کہ 6 مئی 2023 کو عمران خان لاہور میں سپریم کو��ٹ کے ساتھ یکجہتی ریلی کو لیڈ کر رہے تھے
سابق چیف جسٹس انڈیا سپریم کورٹ مارکنڈے کاٹجو کا چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے نام خط
پاکستان کے چیف جسٹس اسلام آباد
مسٹر عیسیٰ (میں آپ کو جسٹس کہہ کر مخاطب کرنے سے انکار کرتا ہوں کیونکہ آپ اس پوزیشن کے مستحق نہیں ہیں. میں یہ لکھ رہا ہوں تاکہ میں آپ کو کچھ کڑوے حقائق بتا سکوں۔
آپ دنیا بھر کے عدلیہ کے لئے شرمناک ہیں، کیونکہ آپ نے اپنے مقدس عہد کو ہنر سے پورا کرنے اور اپنے ملک کے آئین کی حفاظت اور پاکستان کے لوگوں کے حقوق اور آزادیوں کی حفاظت کا بے رحمانہ خیانت کی ہے۔ آپ خود کو جسٹس قاضی فائز عیسی کہتے ہیں، مگر آپ کو یہ نام چھوڑ دینا چاہئے اور خود کو جسٹس ڈرامہ باز کہلانا چاہئے۔ یہاں وجہ ہے:
آپ کو خود کو قاضی کہنا بند کر دینا چاہئے کیونکہ آپ میں حقیقی قاضی کی کوئی خصوصیت نہیں ہے، جیسا کہ بنگال کے قاضی سراج الدین کی تھی۔
پروفیسر چارلس اسٹیوارٹ کی کتاب "ہسٹری آف بنگال" میں ایک مقدمہ آیا تھا جو 1490 میں بنگال کے قاضی صراج الدین کے سامنے لایا گیا تھا، جس میں حقیقی انصاف کا خود عین نمائندہ تھا
ایک دن جب بنگال کا سلطان غیاث الدین تیر اندازی کی مشق کر رہا تھا تو اتفاق سے اس کے ایک تیر نے ایک بیوہ کے بیٹے کو زخمی کر دیا۔ خاتون قاضی سراج الدین کے پاس پہنچی اور انصاف کا مطالبہ کیا۔ قاضی مخمصے میں تھا۔ اس نے سوچا، "اگر میں سلطان کو اپنے دربار میں طلب کروں گا تو مجھے اس کی طرف سے سزا ملے گی۔ لیکن اگر میں نے سلطان کے اس عمل کو نظر انداز کیا تو مجھے ایک دن ضرور خدا کی عدالت میں بلایا جائے گا تاکہ میں اپنی ذمہ داری میں کوتاہی کا جواب دوں۔
کافی غور و فکر کے بعد، خدا کا خوف سلطان کے خوف پر غالب آ گیا، اور قاضی نے اپنے ایک افسر کو حکم دیا کہ جا کر حاکم کو اپنے دربار میں بلائیں۔
سمن ملتے ہی سلطان فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور ایک چھوٹی تلوار اپنے لباس کے نیچے چھپا کر قاضی سراج الدین کے سامنے گیا، جو اپنی نشست سے اٹھ کر اور سلطان کو کوئی احترام نہ دکھاتے ہوئے اس سے کہنے لگا: تم نے اس کے بیٹے کو زخمی کر دیا ہے۔ یہ غریب بیوہ اس لیے آپ کو فوری طور پر اسے مناسب معاوضہ ادا کرنا چاہیے یا قانون کی سزا بھگتنی چاہیے۔‘‘
سلطان نے کمان بنایا اور بیوہ کی طرف متوجہ ہو کر اسے ایک ب��ی رقم دی جس سے وہ مطمئن ہو گئی۔ ایسا کرنے کے بعد اس نے قاضی سے کہا: "قابل جج، شکایت کنندہ نے مجھے معاف کر دیا ہے۔" اس کی حقیقت معلوم کرنے کے بعد قاضی نے مقدمہ خارج کر دیا۔ اس کے بعد وہ اپنی نشست سے نیچے اترا اور اپنے بادشاہ کے سامنے سجدہ ریز ہوا، جس نے اپنی چادر کے نیچے سے تلوار نکالتے ہوئے کہا: "اے قاضی، میں آپ کے حکم کی تعمیل میں آپ کے دربار میں فوراً حاضر ہوا، لیکن اگر آپ نے اپنا فرض ادا نہ کیا ہوتا۔ میں قسم کھاتا ہوں کہ میں تیرا سر اتار دیتا۔ خدا کا شکر ہے کہ میرے اقتدار میں ایک ایسا جج ہے جو قانون سے بالاتر کسی اتھارٹی کو تسلیم نہیں کرتا۔
قاضی نے پھر ایک کوڑا نکالا جو اس نے اپنے لباس کے نیچے چھپا رکھا تھا اور بادشاہ سے کہا: "اے سلطان، میں بھی خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر تم نے شریعت کے حکم کی تعمیل نہ کی ہوتی تو یہ کوڑا تمہاری پیٹھ میں گھس جاتا۔ کالا اور نیلا. یہ ہم دونوں کے لیے ایک آزمائش رہی ہے۔‘‘
اب عیسیٰ صاحب، میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ پاکستانی جرنیلوں (جو پاکستان کے حقیقی حکمران ہیں) کو ناراض کرنے سے اسی طرح ڈرتے ہیں جیسے قاضی سراج الدین سلطان کو ناراض کرنے سے ڈرتے تھے۔
لیکن تم دونوں میں فرق یہ ہے کہ آخر الذکر اللہ کو ناراض کرنے سے بھی زیادہ ڈرتا تھا جس کے سامنے قیامت کے دن سب کو پیش ہونا ہے، جب کہ تمہارے لیے پاکستانی فوج اللہ ہے اور کوئی نہیں۔ تو آپ کا کلمہ ”لا الہ الا اللہ پاک فوج“ ہے۔ آپ قرآن سے بہت کچھ نقل کرتے ہیں لیکن یہ سب منافقت ہے۔
2. آپ کو فائز کیسے کہا جا سکتا ہے؟ فائز کا مطلب ہے احسان یا فضل۔ لیکن تم پاکستانی عوام پر کوئی احسان نہیں بلکہ لعنت ہو۔
آپ کو صرف پرانے، بے نتیجہ یا بے معنی کیسز سننے کو ملتے ہیں، جیسے ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل مشرف، جو مر چکے ہیں، یا فیصل آباد دھرنا کیس کی نظرثانی کی درخواست، جس میں آج شاید ہی کوئی دلچسپی رکھتا ہو، لیکن نہیں ملتا۔ 9 مئی کے واقعات کے بعد 12,000 سے زیادہ گرفتار اور غیر انسانی حالات میں جیلوں میں بند لوگوں کی ضمانت کی درخواستوں جیسے فوری اور ضروری معاملات کو درج یا ��ننا، جن میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اسٹیج مینیج کیا گیا تھا۔
آپ اور دیگر ہم خیال 'چمچوں' جیسے جسٹس طارق مسعود، عامر فاروق وغیرہ اسٹیبلشمنٹ کے سامنے جھک جاتے ہیں، اور اس کی بولیاں بجاتے ہیں، جیسے پاکستان کو لوٹنے والے ڈاکو نواز شریف کے حق میں حکم جاری کرنا (جیسے پاناما پیپرز اور دیگر شواہد) reveal ) اور عوام کی پسند عمران خان کی بجائے فوج کس کو وزیر اعظم بنانا چاہتی ہے؟
فائز ہونے سے دور، آپ جدید دور کے جج جیفریز یا رولینڈ فریسلر ہیں۔
عیسیٰ (عیسیٰ) نے دوسروں کو بچانے کے لیے اپنی جان دے دی، جب کہ آپ صرف اپنی جلد کو (فوج کے غضب سے) بچانے پر یقین رکھتے ہیں، اور اسٹیبلشمنٹ کی بولی پر بے شرمی سے کام کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے، جیسے۔ جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ کا فوجی ٹربیونلز کے ذریعے شہریوں کے مقدمات کی سماعت غیر قانونی، آپ کے معاون جسٹس طارق مسعود کی سربراہی میں 6 رکنی بنچ نے معطل کر دیا۔
تو آپ میں قاضی، فائز یا عیسیٰ جیسی کوئی صفت نہیں ہے۔
آپ عدالت میں بدتمیزی کرتے ہیں، اور جج کے لیے وقار، سکون اور سکون جیسی کوئی بھی خوبی نہیں ہے، لیکن آپ میں ڈرامہ باز کی خوبیاں ضرور ہیں، جیسا کہ آپ کے انکاری پروٹوکول، سرکاری گاڑی سے انکار، گارڈ آف آنر سے انکار، 'چیف جسٹس' کہلانے سے انکار اور گاڑیاں بیچنے کا اعلان وغیرہ سے ظاہر ہوتا ہے۔۔ اس لیے میں آج سے آپ کو جسٹس ڈرامہ باز کہہ رہا ہوں، اور تمام پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ ایسا ہی کریں۔
Ref : https://t.co/vudYBywIk1
بلوچ خواتین اور بچوں پر لاٹھیاں برسا کر تس��ی نہیں ہوئی آج سے اسلام آباد پولیس نے ان عورتوں اور بچوں کا کھانا پانی اور کمبل بھی بند کر دئیے ہیں انہیں آگ جلانے کے لئے لکڑیاں لانے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی پولیس نے انہیں گھیرا ڈال رکھا ہے اور سب جانتے ہیں یہ سب کون کروا رہا ہے ؟
رہنما تحریک انصاف زاہد اقبال چوہدری کے ��اؤر آف اٹارنی وکیل عبدالوہاب بلوچ کے ساتھ نقاب پوش پولیس کے لوگوں کا یہ سلوک قابل مزمت ہے، دراصل یہ گریبان عبدالوہاب کا نہیں پھاڑا گیا، یہ ہر اس شخص کا گریبان پھاڑا گیا ہے جو رُول آف لاء پر یقین رکھتا ہے۔
#PakistanUnderFasicsm
بریکنگ نیوز
ملتان میں ن لیگی امیدوار بلکہ سابقہ MNA عبدالغفار ڈوگر کے بھائی جبار ڈوگر حلقہ میں ووٹ مانگنے گئے
تو عوام نے چپیڑیں ماری موصوف بچ بچا کرتے جلدی سے گاڑی میں بیٹھ کر فرار
عوام تپی ہوئی ہے انکی ضمانتیں ضبط ہوجانی ہیں
حامد میر کا بڑا انکشاف
یہ انہوں نے شاہ محمود قریشی کو کوئی سائفر میفر میر گرفتار نہیں کیا
انہیں کہا گیا مائینس عمران خان تو انہوں نے انکے ساتھ ڈیل کرنے سے انکار کردیا
جسکے بعد انہوں نے دوبارہ اسے دھکے دیکر گرفتار کیا ہے
یہ اصل کہانی ہے حامد میر بلکل بجا فرما رہے ہیں
شعیب شاہین کی مہرنگ بلوچ سے ملاقات
عمران خان کا پیغام لیکر آیا ہوں ہم آپکے ساتھ کھڑے ہیں
آپکی اس جدوجہد میں جو بھی اپکو تعاون درکار ہوگا ہم فراہم کرینگے
یہاں تک کہ سپریم کورٹ میں آپکی درخواست لیکر جاؤنگا
شعیب شاہین کا بڑا اعلان
خود تو علاج کے لئے لندن بھاگ جاتے ہیں لیکن شوکت خانم ہسپتال فنڈ ریزنگ پروگرم کے لئے جاری کیا گیا این او سی کو منسوخ کر ��یا گیا تاکہ غریب کا مفت علاج نہ ہو
ان فرعونوں پر لعنت بھیج کر ثواب دارین حاصل کریں