کارکنان بالکل راضی ہیں، کارکنان کو پتا ہے کہ یہ ٹیسٹ میچ ہے۔ کارکنان اس بات پر مطمئن رہیں کہ ہمارا لانگ مارچ، یعنی ٹیسٹ میچ، تقریباً شروع ہو گیا ہے۔ ٹاس ہم نے جیتا ہے، اب ہماری مرضی ہے کہ ہم پہلے بیٹنگ کریں یا فیلڈنگ کریں، یہ اختیار ابھی ہمارے پاس ہے۔
ہم لانگ مارچ اپنے مطالبات منوانے کے لیے کر رہے ہیں۔ ہم سیاسی لوگ ہیں۔ ہمارے لیڈر پوری دنیا کو کہتے ہیں کہ تمام مسائل ڈائیلاگ کے ذریعے حل ہونے چاہئیں، تو ہم بھی یہی چاہتے ہیں۔ لانگ مارچ کے بعد بھی ڈائیلاگ ہوں گے۔
لیکن یہ بات ہم بھی جانتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف بھی جانتی ہے اور اسٹیبلشمنٹ بھی جانتی ہے کہ اس دفعہ جو لوگ نکلنے ہیں، وہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی نہیں نکلے۔ اس دفعہ لوگوں کی آنکھوں میں جو غصہ اور نفرت پایا جا رہا ہے، وہ اپنی تقریباً 18، 20 سالہ سیاست میں، میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس دفعہ بہت زیادہ ہے۔
اس دفعہ 4 اکتوبر کو جو لوگ نکلیں گے، میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں کہ وہ پھر کسی کے کنٹرول میں نہیں ہوں گے۔ وہ پُرامن طریقے سے اپنے مطالبات منوائے بغیر وہاں سے کسی صورت واپس نہیں ہوں گے۔
@SohailAfridiISF
#LongMarchOnOctober4th
#مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی
I’ve been instructed to call on the public not to attempt to march or protest nearby Adiala jail on 27 March. I’ve heard from sources that this may be used as an excuse for the establishment to launch a “counter” assault on the jail (Which my father is being held in), which could endanger his life. Please do not give them any reasons for “accidents” to happen to my father during the protest.
Police arrest Aleema Khan, the sister of Pakistan’s jailed ex-prime minister Imran Khan at her house in Lahore, a Pakistan Tehreek-e-Insaf Punjab spokesman says, ahead of a planned protest march by the party on September 27.
The sister of jailed former Pakistan Prime Minister Imran Khan has been arrested at her house in Lahore, ahead of the Pakistan Tehreek-e-Insaf's (PTI) Long March on September 27, according to a PTI Punjab spokesperson.
🔴 More on https://t.co/MbrRGkFd1I
عمران خان کے خاندان پر حکمران اشرافیہ اور مقتدرہ نے کون سا ظلم نہیں کیا؟ اور اب اپنے بھائی کے لیے کوشش کرتی بہن کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔۔۔ اس ملک میں ہر آواز دبا دی گئی ہے، ہر حق پامال کر دیا گیا ہے۔ خدا کا خوف کریں، خلقِ خدا کا خوف کریں۔۔۔
Today, my aunt, Aleema Khan, has been abducted by police in Lahore. Our family has been told nothing about where she has been taken. Her family and lawyers cannot reach her.
This is the behaviour of a fascist government - abducting people, terrorising families and trampling human rights, due process and the rule of law while pretending to stand for democracy.
First they imprisoned my father. Now they are coming after his family.
We demand immediate access to her for her family and lawyers, full disclosure of where she is being held, and her immediate release.
The world cannot keep looking away from what is happening in Pakistan.
ایک خاتون چیف جسٹس کے ہوتے ہوئے پنجاب میں خواتین کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے، اور چادر چار دیواری کا تقدس بغیر کسی ڈر اور خوف کے پامال کیا جا رہا ہے وہ انتہائی شرمناک اور ہماری روایات کے منافی ہے۔
آج صبح ایک بار پھر علیمہ خان کو جس انداز میں اغوا کیا گیا اور 3MPO کے تحت جیل منتقل کیا گیا، یہ بدترین سیاسی انتقام کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
اگر اختلاف عمران خان سے ہے تو مقابلہ بھی عمران خان کے نظریے اور سیاست سے کریں۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، اور خاندان کی خواتین کو نشانہ بنانا کون سی سیاست، کون سا قانون اور کون سی اخلاقیات ہیں؟
ہماری مذہبی یا معاشرتی روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے، جیسا کہ موجودہ دور میں کیا جا رہا ہے۔ خواتین کو ہراساں کر کے، اغوا اور گرفتار کر کے اور خاندانوں کو دباؤ کا ذریعہ بنا کر نظریے کو شکست نہیں دی جا سکتی۔
پاکستان تحریکِ انصاف کی حقیقی آزادی کی جدوجہد میں صرف 100 روپے عطیہ کر کے اپنا حصہ ڈالیں۔
آپ اپنے عطیات MCB بینک (اکاؤنٹ نمبر: 1208326601008525) یا جاز کیش ایپ کے Donations سیکشن کے ذریعے آسانی سے منتقل کر سکتے ہیں۔
#عہدوفا_27ستمبر 🇧🇫
کوہاٹ میں دہشت گردی کے المناک واقعات پر قوم کو جواب دینے اور دہشت گردوں کے بے نقاب کرنے کی بجائے وزیر داخلہ محسن نقوی آج بھی سیاسی دھرنا روکنے کے لیے پریس کانفرنسیں کر رہے ہیں۔
عوام دہشت گردوں کے ہاتھوں مر رہے ہیں اور حکومت کی ساری توجہ سیاسی مخالفین کے احتجاج کو روکنے پر مرکوز ہے۔
ہمارا 27 ستمبر کا لانگ مارچ ایک پُرامن، جمہوری اور آئینی جدوجہد ہے۔ پاکستان کے ہر شہری کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے بنیادی حقوق کے لیے پُرامن طور پر آواز بلند کرنے اور اجتماع کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہم اسی آئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنی آواز عوام اور متعلقہ اداروں تک پہنچائیں گے۔
عوامی مینڈیٹ کو کچل کر ملک پر مسلط ہونے والے وفاقی وزراء کی جانب سے مسلسل دھمکی آمیز بیانات کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ اختلافِ رائے کو دبانے یا شہریوں کو خوفزدہ کرنے کے بجائے فارم 47 حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی مطالبات سنے، آئینی حقوق کا احترام کرے اور سیاسی معاملات کا حل مکالمے، قانون اور جمہوری عمل کے ذریعے تلاش کرے۔
اس وقت پاکستان کا ہر ذی شعور شہری آئین کی اصل حالت میں بحالی اور ناحق قید سیاسی اسیران کی رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے- پاکستان کا نوجوان روزگار اور بہتر مستقبل کا مطالبہ کر رہا ہے۔ مزدور اپنے معاشی حقوق اور باعزت زندگی کی جدوجہد کر رہا ہے۔ کسان اپنی محنت کا مناسب معاوضہ اور معاشی تحفظ چاہتا ہے۔ اور ہر شہری انصاف، مساوات، آئینی آزادیوں اور باوقار زندگی کا حق مانگ رہا ہے۔ ان آوازوں کو دھمکیوں سے نہیں بلکہ سنجیدہ سیاسی مکالمے اور مؤثر حکمرانی سے جواب دیا جانا چاہیے۔
27 ستمبر کا لانگ مارچ پُرامن رہے گا اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہوگا۔ ہم ریاستی اداروں اور فارم 47 حکومت سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ شہریوں کے آئینی حقوق کا احترام کریں گے، پُرامن سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کرنے کے بجائے قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں گے۔
ملک اس وقت بہتر ہوگا جب دھمکیوں کے بجائے عوامی مسائل پر توجہ دی جائے گی؛ جب عوامی رائے کا احترام ہوگا؛ جب پارلیمنٹ اپنی آئینی ذمہ داریاں مؤثر طور پر ادا کرے گی؛ جب عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی یقینی ہوگی؛ آئین بحال ہو گا اور سیاسی اسیران رہا ہوں گے اور جب صحافت کو آزادانہ طور پر اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔
ہم کسی تصادم کے خواہاں نہیں۔ ہمارا مطالبہ واضح ہے: آئین کی بحالی، قانون کی حکمرانی، سیاسی اسیران کی رہائی ، بنیادی حقوق کا تحفظ اور عوام کی آواز کا احترام۔
دباؤ، دھمکی یا خوف ہماری پُرامن اور آئینی جدوجہد کا راستہ نہیں روک سکتے۔ ہم قانون کا احترام کرتے ہوئے اپنے جمہوری حق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔
ادھر آ ستمگر، ہنر آزمائیں
تُو تیر آزما، ہم جگر آزمائیں۔