It’s time to build a larger campaign for saving #Islamabad. Those in power are going to completely ruin the city, further gentrify it and make us all run away from it. We who have built this city, we who have cared, serviced and kept this city green and clean. The state especially its incompetent folks like Mohsin Naqvi are only interested in profiting the rich and themselves. CDA runs its operations through selling and reselling land. Islamabad is not anyone’s personal plot, it is a city built brick by brick by its workers who are currently under attack. It’s built by the young people who have built their lives in this city. It’s built by the street vendors, the chai walas, the dhaaba walas, the abaadi walas. Please tweet using #IslamabadBachao #StopIslamabadEvictions
While Trump is threatening to commit genocide against Iranians, there has not been a single nationwide protest in America against this war. Whatever Trump and the American ruling classes do it is made possible by a people that silently goes along with it.
37 years from now i wont remember what i had for lunch because my brain will still only be thinking about when richard siken said someone has to leave first. this is a very old story. there is no other version of this story.
حکومت جشن منا رہی کے ٹل ایل پی کا احتجاج ختم ہو گیا۔ کئی دوست بھی خوش ہیں کہ اچھا ہوا اس احتجاج کو کچل دیا گیا۔ اچھی بات ہے حکومت اور عوام کے لئے زندگی اور ٹریفک معمول پر لوٹ گیا۔
مگر مجھے ہمارے ملک کے "پڑھے لکھے" اور "سلجھے" ہوئے طبقے سے خوف آرہا ہے کہ ان کہ لئے ٹی ایل پی کے کارکنان پر سیدھے فائر کرنا یا ان کارکنان کو جان سے مار دینا کسی قسم کی تشویش کا باعث بھی نہیں۔ کسی انکوائری کا مطالبہ بھی ضروری نہیں کہ تمام مرنے والے اسلحے سے لیس تھے یا نہتے۔
ان جھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار کو گولیاں ماری کر قتل کرنے کی خبر سامنے آئی۔ یقین جس نے بھی پولیس پر گولیاں چلائی اسے قرار واقعی سزا ہونی چاہئے۔ مگر کیا اس کا مطلب ہے کہ ٹی ایل پی کے دھرنے میں ہر ایک شخص کے پاس اسلحہ تھا۔ ہر ایک شخص پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنا چاہتا تھا۔ کیا ان سوالوں کو جواب ڈھونڈنا سیاسی شعبدہ بازی ہے، یا پاپولزم ہے، یا ریاست مخالف ایجنڈا ہے؟
ٹی ایل پی جھتے بناتی ہے، اقلیتوں کی عبادت گاہوں اور آبادیوں کو نقصان پہنچاتی ہے، تھانوں کا محاصرہ بھی کرتی ہے، زبردستی بلاسفیمی کے پرچے بھی کرواتی ��ے، اگر کوئی احمدیہ جماعت کو کافر نا بولے تو اس کو بھی کافر گردانتی ہے۔ مگر ان تمام جرائم کی سزا قانون اور آئین میں درج ہے اور معزرت کے ساتھ ان میں سے کچھ اقدام تو ریاست کے نظر عملی طور پر جرم بھی نہیں۔
جب ریاست کو ان کے اس جوش اور ولولے کی ضرورت ہوتی ہے تو ان سے معاہدے ہوتے ہیں اور جب ریاست کو ان کے جوش اور ولولے سے الجھن ہوتی ہے تو سیدھے فائر۔
کسی کو دہشت گرد یا شدت پسند گردان کر کیا اس کے انسانی حقوق ختم کئے جا سکتے ہیں؟ سیدھے فائر ۲۶ نومبر کو بھی کئے گئے تھے اور تب بھی ریاست چاہتی تھی کہ ہم پی ٹی آئی کو شرپسند مان کر سوال کرنا بند کردیں۔ جس صحافی نے زیادہ سوال کئے اسے اغوا کر لیا گیا۔
کوئی شدت پسندی کے نام پر خون بہا رہا ہے تو کوئی روشن خیالی کے نام پر۔ سستی صرف انسان کی زندگی ہوئی۔ اگر جتھوں کو تیار کرکے کسی پر توہین کا الزام لگا کر اسے قتل کر دینا قدامت پسندی ہے تو لعنت ایسی قدامت پسندی پر اور اگر سیدھے فائر کرکے نہتے مظاہرین کو قتل کرنا روشن خیالی ہے تو لعنت ایسی روشن خیالی پر۔ مجھے دونوں سے کوئی سروکار نہیں اور میں دونوں کی طرف ��ے تنقید اور تضحیک خوشی خوشی قبول کرتا ہوں۔ مجھے یہ اطمینان ہے کہ میں نا کسی کی محبت میں اندھا ہو گیا نا کسی کی نفرت میں۔
آپ سب کو اپنا اپنا بغض مبارک ہو۔
The First Lady of France, Brigitte Macron, plans to provide “photographic evidence” in court to prove that she is a biological woman.
Her lawyer says it will support her defamation claims against Candace Owens, who has claimed that she is male.
(https://t.co/RwXsSQymDU)