I extend my sincere condolences to Mohammed bin Rashid on the passing of his brother Sheikh Ahmed bin Rashid Al Maktoum, whose longstanding contributions to the development of the UAE since its founding continue to inspire our nation’s journey of progress. May God rest his soul in eternal peace and mercy and grant his loved ones comfort during this difficult time.
إنا لله وإنا إليه راجعون
Deeply saddened to learn of the passing of His Highness Sheikh Ahmed bin Rashid Al Maktoum, brother of His Highness Sheikh Mohammed bin Rashid Al Maktoum, Vice President and Prime Minister of the UAE and Ruler of Dubai.
His distinguished service to Dubai and his contribution to the UAE Armed Forces leave behind a legacy that will be remembered with great respect.
On behalf of the Government and people of Pakistan, and on my own behalf, I convey my deepest sympathies to His Highness Sheikh Mohammed bin Rashid Al Maktoum, the Al Maktoum family, and the brotherly people of the United Arab Emirates.
May Allah Almighty grant the departed soul the highest ranks in Jannat-ul-Firdous and bestow patience and strength upon the bereaved family. Ameen.
Deeply saddened by the passing of His Highness Sheikh Ahmed bin Rashid Al Maktoum, brother of His Highness Sheikh Mohammed bin Rashid Al Maktoum @HHShkMohd.
His long years of service to Dubai’s security and development, and his contribution to the UAE Armed Forces, will be long remembered.
On behalf of the Government and the people of Pakistan, and on my personal behalf, I extend heartfelt condolences to His Highness Sheikh Mohammed bin Rashid Al Maktoum, the Al-Maktoum family and the people of Dubai and UAE.
May Allah Almighty grant the departed soul the highest place in Jannah and bless the bereaved family with patience. Ameen.
إنا لله وإنا إليه راجعون
وزیراعلیٰ مریم نواز نے یو کے کے دورے میں سرکاری گلف سٹریم 550 طیارے کے استعمال پر اٹھنے والے سوالات کے بعد 2 کروڑ 72 لاکھ روپے جمع کرائے۔ چونکہ یہ طیارہ پنجاب حکومت کی اپنی ملکیت ہے اور چارٹر نہیں کیا گیا، اس لیے اس کی فی گھنٹہ لاگت چارٹر کمپنی کے 10 سے 12 ہزار ڈالر کے بجائے تقریباً 6500 ڈالر بنتی ہے، جس سے 14 گھنٹے کی فلائٹ اور ہینڈلنگ اخراجات مکمل طور پر کور ہوتے ہیں۔ تنقید اپنی جگہ، لیکن کم از کم اس اقدام کا کریڈٹ بنتا ہے کہ کسی حاکم نے خود کو عوام کے سامنے جوابدہ سمجھا اور شفاف طریقے سے حساب دیا۔
ھم پانچ دھائیاں افغانوں کو پناہ دی اپنے محدود وسائل میں حصہ دار بنایا۔ نیٹو فوج کے چلے جانے کے بعد نیک خواھشات کا اظہار کیاامید رکھی یہ ھماری سرحد محفوظ ھو گی ۔ ھمسائے امن سے رہیں گے ۔ مگر ھماری مسجدوں سکولوں بازاروں میں دھشت گردی کرنے والے ھماری فوج پہ حملہ کرنے والے 70/80فیصد افغان ھوتے ھیں۔ ھمارے ازلی اور ابدی دشمن بھارت کے ساتھ یکجہتی دکھا رہے ھیں۔ میں اور فوجی اور سولین قیادت کے ڈائریکٹ و ان ڈائریکٹ رابطے مسلسل چل رہے ھیں مگر افغانوں کی نفرت اور دشمنی میں کمی نہیں آئ۔ یہ طلبا افغانی طلبا کے ساتھ یک جہتی کا اظہار محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ انکے سیاسی رحجانات کا مظہر ھے۔ جب پانچ دھائیوں کی پناہ اور ساری دنیا کی گالیاں اور وسائل پہ پرورش انکے ذہنی رحجانات نہیں تبدیل کرسکے۔ تو انکے حمایتیوں کو کوشش کرکے خیر سگالی کے لئے کسی افغان درسگاہ میں تعلیم کی کوشش کرنی چاہئیے ۔
یہ پاکستانی طلبا اس شہداء کے خون کی توھین کر رہے ھیں جو افغانستان سے آنے والے دھشت گرد کے ھاتھوں ھمارے شہداء کا بہہ رہا ھے۔
ایک سیاسی پارٹی کی محبت میں اتنا آگے نہ جائیں کہ پاکستانی خون آپکو سستا لگے ۔
وہ شخص وہ گروہ وہ ملک کبھی رحم کے قابل نہیں جو حرمین شریفین کو نشانہ بنائے اور مورخ پرامید ہے کہ محمد بن سلمان بغیر کسی اگر مگر کے حرمین شریفین کے خلاف اٹھنے والی ہر آنکھ کو نکالیں گے اور مجوسی ایرانی پراکسی حوثی دہشتگردوں کو عبرت کا نشان بنائیں گے
ان شاءاللہ
ہم حرمین شریفین کی حرمت کیلئے اپنی آخری سانس تک لڑیں گے اور ہم سعودی عرب کے دفاع پر آنچ نہیں انے دیں گے اور ہم سعودی عرب جانب میلی آنکھ اٹھانے والے کے ڈیلے باہر نکال دیں گے
جنرل احمد شریف چوہدری
کہا تھا نہ حافظ ۔۔۔۔۔
EXCLUSIVE: Pakistan Army says its support for Saudi Arabia goes beyond diplomacy. “We will go to any extent,” Lt. Gen. Ahmed Sharif Chaudhry tells Arab News https://t.co/694ZY1zd6E
غریب عوام کے امیر حکمران ، مریم بی بی کہتی ہین کہ مین کیا چنگچی مین جاؤں
خان صاحب 55 روپے ہیلی کاپٹر مین سفر کرتے رہے اقتدار سے پہلے اور بعد مین بھی
علیمہ خاں سیلاب مین پھنس گئی تو ہیلی کاپٹر بھیجا گیا
KPK صوبائ عہدیداران ہیلی کاپٹر کا ساتھ ماڈلنگ کرتے:1
بہت ہی محترم بھائ سلیم صافی کا کالم حقائق سے بالکل ہی مطابقت نہیں رکھتا پہلی بات تو یہ ہے کہ صوبہ سرحد کی تاریخ 1902 سے ہی مقامی قبائلی لڑائیوں سے بھری ہوئ ہے، 1960 کی دھائ میں ہر سازش کے پیچھے افغانستان تھا اور پختون قبیلوں کو استعمال کر رہا تھا، لیکن صافی بھائ نے تاریخ 1980 سے شروع کی تو یہ پنجاب سے نہیں قبدھار سے قبائلی علاقوں میں پہنچی، پاکستان نے سوویت یونین کو روکنے کیلئے زبردست جنگی حکمت عملی اختیار کی اور دنیا کی مدد سے سوائے یونین کا راستہ روکا، سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد یہ لڑائ پختون قبائلی لڑائ ہے حتیٰ کہ ہندکو بولنے والے علاقے بھی اس لڑائ میں قطعی طور پر حصہ دار نہیں ہیں، پنجاب کے جن گروپوں کا حوالہ دیا ہے وہ یا تو کشمیر کے جہاد کے ہمدرد تھے اور یا پھر اس پختون قبائلی لڑائ میں ایک گروپ یا دوسرے گروپ کے حمائیتی بن گئے، اس دھشت گردی میں پنجاب اور سندہ اور کسی حد تک پشاور، مردان، صوابی اور مانسہرہ بھی مکمل اجنبی ہیں، ہاں اس کا نقصان ضرور ہو رہا ہے ورنہ یہ لڑائ مکمل طور پر پختون قبائلی لڑائ ہے جس کا حل دراصل پختون لیڈر شپ کا فرض ہے بدقسمتی سے آج کے ہختونخواہ میں کوئ غنی خان، باچا خان نہیں جو پختونخواہ ک قبائل کو کڑوی سچائ بتائے اور سماجی تربیت کا بیڑہ لے!! اس لئے مریم نواز پر تنقید بلا جواز ہے!!
I condemn in the strongest possible terms the dastardly and heinous attempted drone attack against the Holy Site of Makkah Al-Mukarramah.
The people of Pakistan are saddened and perturbed by this outrageous act. There can be no words strong enough to capture the depth of anguish and sorrow felt by us at this reprehensible and unforgivable act.
We salute the extraordinary vigilance, courage, and professionalism of the Royal Saudi Armed Forces, for their swift and heroic action.
I once again call upon all parties to exercise maximum restraint and to step back from the brink of further escalation. Our region has already suffered far too much from conflict. Dialogue and diplomacy remain the only sustainable path towards peace.
Pakistan stands unwaveringly, shoulder to shoulder with the brotherly Kingdom of Saudi Arabia, in the defence of its sovereignty, and territorial integrity, as well as for the security and sanctity of the Haramain Sharifain - a duty that every Pakistani carries close to their heart.
کلاسرا صاحب آپ کی گفتگو سن کر مجھے دلی افسوس ہوا، کیونکہ میں نے ہمیشہ آپ کا احترام کیا ہے۔ میرا کسی سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں، لیکن سیاسی تجزیے اور ذاتی تعلقات کی بنیاد پر حقائق کو مسخ کرنا کسی طور مناسب نہیں۔
جہاں تک احمد اقبال کا تعلق ہے، اس نے امریکہ کی صفِ اول کی یونیورسٹی آف پنسیلوینیا سے تعلیم حاصل کرنے اور کامیاب پروفیشنل کیرئیر کے بعد اپنی سیاست کا آغاز کسی محفوظ قومی یا صوبائی نشست سے نہیں بلکہ بلدیاتی اداروں سے کیا۔ دانیال عزیز گروپ کی مخالفت کے باوجود وہ بلامقابلہ چیئرمین ضلع کونسل منتخب ہوا۔ اپنی پہلی صوبائی مدت میں اس نے حکومت کا حصہ بننے کے بجائے ایک پارلیمنٹیرین کی حیثیت سے کام کرنے کو ترجیح دی، اور میں نے اس فیصلے کی تائید کی۔ آج وہ پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے نہایت محنت، دیانت اور قابلیت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہا ہے۔
جہاں تک آپ کے دوست دانیال عزیز صاحب کا تعلق ہے میں کچھ کہنا نہیں چاہتا تھا مگر آپ نے ذکر چھیڑا ہے تو حقائق بھی ریکارڈ پر رہنے چاہییں۔ 2013ء میں میاں نواز شریف صاحب ان کا نام بطور امیدوار سننے پر بھی آمادہ نہیں تھے۔ پورے پارلیمانی بورڈ کے سامنے میں نے ان کی شخصی ضمانت دی اور انہیں پارٹی ٹکٹ دلوانے میں کردار ادا کیا۔ اس کے باوجود اسی انتخاب میں مرحوم انور عزیز صاحب اور ان کے صاحبزادے نے میری مخالفت کی۔ 2018ء میں دانیال عزیز صاحب کی اہلیہ مسلم لیگ (ن) کی امیدوار تھیں، لیکن والد اور بیٹا پی ٹی آئی کے امیدوار کے ساتھ مل کر میرے خلاف سرگرم رہے۔
یہ تلخ حقیقت بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ 1988ء میں چوہدری انور عزیز مرحوم نے مسلم لیگ (ن) کے چند ارکانِ قومی اسمبلی کو ساتھ ملا کر خواتین کی مخصوص نشست کے انتخاب میں میری والدہ کے خلاف ووٹ بیچا اور انہیں شکست دلوائی۔ اس سب کے باوجود میں نے کبھی سیاست کو ذاتی انتقام نہیں بنایا۔
نارووال کے باشعور عوام نے وقت کے ساتھ ان روایتی سیاست دانوں کو مسترد کیا ہے جو سمجھتے تھے کہ محض قصے، لطیفے اور جگتیں سنا کر ہمیشہ انتخابات جیتے جا سکتے ہیں۔ آج عوام کارکردگی، خدمت اور کردار کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں۔
کلاسرا صاحب! آپ کی ان لوگوں سے قربت یا دوستی اپنی جگہ، مگر اس کی بنیاد پر حقائق کو نہ بدلیے۔ اختلاف ضرور کیجیے، لیکن انصاف کے ساتھ۔
مجھے جنرل مشرف کی آمریت اور اس کا بدترین جبر نہ توڑ سکا تو آج کی سیاسی قیاس آرائیاں کیا توڑیں گی؟ مسلم لیگ (ن) میری جماعت ہے۔ میں نے اور ایک نسل نے قائد میاں نواز شریف کی قیادت میں اس جماعت کے لیے اپنی عمریں صرف کیں، مشکلات برداشت کیں اور قربانیاں دی ہیں۔
پارٹی کے اندر اصلاح اور بہتری کی آواز اٹھانا نہ بغاوت ہے، نہ بے وفائی اور نہ کوئی ذاتی ایجنڈا۔ میرا ذاتی تجربہ گواہ ہے کہ میاں نواز شریف صاحب نے ہمیشہ نیک نیتی پر مبنی تعمیری رائے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ ان کے ساتھ میرا سیاسی تعلق اعتماد، وفاداری اور اصولی مکالمے پر قائم ہے۔
میرے سیاسی فیصلے ٹی وی ٹاک شوز کی سنسنی، قیاس آرائیوں یا کسی کی خواہش سے نہیں، اپنے ضمیر، اصولوں اور جماعت کے وسیع تر مفاد سے متعین ہوتے ہیں۔
پولیس وین سے اتارنے کے بعد موصوف لکشمی چوک کے فٹ پاتھ پر ڈرامہ رچانے بیٹھ گئے لیکن باشعور لاہوریوں نے اس رنگ باز کو منہ تک نہیں لگایا , یہ ہے تمہاری تبدیلی کی اوقات جسے اہلیان لاہور نے مسترد کردیا ۔۔
مقبولیت کی حالت یہ ہے کہ پورے لاہور میں مارا مارا پھر رہا ہے کبھی پولیس وین میں بیٹھ کر ڈرامہ کرتا ہے کبھی فٹ پاتھ پر بیٹھ کر احتجاج کرتا ہے مگر کوئی بھی ٹریفک میں سے رُکا نہیں کسی نے پوچھا تک نہیں۔یہ ہے ان کی ٹوٹل مقبولیت
@Real_MZubair شرم سے ڈوب مر جانا چاہیے یہ کیسا اغوا ہے کہ ساتھ ویڈیو بھی بن رہی ہے ساتھ کےپی سے آیا گارڈ بھی موجود ہے سیاسی مخالفت میں آپ اندھے بھی ہوچکے ہیں اور بے شرم بھی