Gliding across China’s breathtaking green mountains, driving along “flower roads” in the city, or stepping up peaks to view the colorful nature... What is your choice for a ChinaTravel?
بے شک، والدین کی خدمت ایک ایسی سعادت ہے جس کا کوئی متبادل نہیں۔ اللہ پاک ہم سب کو اپنے والدین کا سایہ سلامت رکھنے اور ان کی اسی طرح محبت، صبر اور خلوص کے ساتھ خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے جیسے انہوں نے ہمارے بچپن میں ہماری کی تھی۔
ہماری نسلوں کو برباد کرنے اور ملک کو اس نہج پر پہنچانے میں واقعی ان لوگوں کا ہاتھ ہے جنہوں نے دہائیوں تک حکومت کی لیکن عوام کو تعلیم، روزگار اور عزتِ نفس دینے کے بجائے صرف مایوسی دی۔
The UAE ranked 10th globally in the 2026 Best Countries report, maintaining its position as the highest-ranked nation in the Middle East and GCC.
With a score of 86.5, the UAE placed ahead of the United States (11th), reflecting strong global confidence in its economy, innovation, business environment, and future readiness. Qatar ranked 25th, Saudi Arabia 32nd, Oman 52nd, Bahrain 53rd, and Kuwait 59th.
#UAE #GCC
اورنگی ٹاون کراچی میں دن دھاڑے خاتون سے اسکا پرس اور کانوں کی بالیاں اتر والیں۔ کراچی میں لوگوں کا گھر سے باہر نکلنا ہی مشکل ہوتا جارہا ہے اور سندھ حکومت کو کوئی ہوش نہیں۔
آج سے تین سال پہلے شہزادہ داؤد بحر اوقـیانوس میں لاپتہ ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ وشین گیٹ 2021 سے ارب پتیوں کو سمندر کی تہہ میں 3300 میٹر نیچے ٹائی ٹینـــک کے ملبے کی سیر کرا رہی تھی۔ ٹائی ٹینک کا ملبہ 1985 میں دریافت ہوا،، اور اوشین گیٹ نامی کمپنی نے 2021 سے دنیا بھر کے امـــــــــراء کو اس کی سیر کرانی شروع کر دیی۔
پاکستانی بزنس مین شہـزادہ داؤد اور سلیمان داؤد جو اس کا بیٹا تھا 18 جون 2023 کو ٹائیٹن میں سوار ہوئے،،، انکے ساتھ تین اور لوگ بھی تھے جب ٹائیٹن پانی میں اتر گئی انہوں نے کم وقت میں تین کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا، اس کے ایک گھنٹہ اور 45 منٹ بعد ٹائیٹن آبدوز کا کنـٹرول روم سے رابطہ منقطع ہوگیا،،،،،،، سمندر کے سطح پر باقی لوگوں نے رابطوں کی کوشش کی،،،،،،،،، بار بار سگنل بھیج دیں لیکن کوئی ریسپانس نہیں ملا۔۔۔۔ انہوں نے کینیڈا نیوزی کو اطلاع دی انہوں نے آپریشن شروع کیا،، کیونکہ ٹائیٹن میں تمام لوگ ارب پتی تھے جب ٹائیٹن میں آکسیجن ختم ہونے کا وقت گزر گیا اور ان کا پتہ نہیں چلا تو سب کو لگا کہ سب مر گئے جھٹکا ان کو تب لگا،،،،،، جب ایک ہفتے بعد ٹائی ٹینک جہاز کے اس پاس پانی میں کچھ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ملے بعد میں تحقیقات سے پتا چلا کے آبدوز پونے دو گھنٹے بعد Bathypelagic Zone میں دھــماکے سے پھٹ گئی تھی اور یہ خطـرناک زون تین ہزار میٹر کی گہــرائی میں ہے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ آبدوز کی دم اور لینڈنگ فریم ٹائی ٹینک کے ملبے سے 1600 فٹ کے فاصلے سے ملا،،،، تاہم لاشیں غائب تھیں اور یہ لاشیں سرے دست کسی ٹیکنالوجی کی مدد سے دریافت نہیں ہو سکتیں، تین سال بعد بھی وہ لاشیں نہیں ملی۔
جب سائنســدانوں نے تحقیق کی تو ایک حیران کن بات سامنے آئی ان کا کہنا ہے کہ سمندر میں تہہ در تہہ بحریں ویوز ہوتی ہیں۔ ایک بحر کے بعد دوسری بحر اور دوسری کے بعد تیسری بحر آتی ہے اور یہ بحریں سمندر میں سناٹا اور شدید اندھیرا کرتی چلی جاتی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر میں پانچ سو میٹر گـــــہرائی میں سفر کے بعد پانی میں اندھیرے کے ایسے گـہرے بادل ہر طرف چھا جاتے ہیں۔ جن کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ اندھیرا دنیا کے کسی بھی مقام پر انسان کے تجربے میں نہیں آتا۔
سائنــس دان اس اندھیرے کو عرف عام میں "Pitch Darkness" کہتے ہیں،، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ اندھیرا اتنا گہرا ہوتا ہے کہ انسان دوسرے ہاتھ کو ٹٹول نہیں سکتا، اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس وقت سائنـس اور ٹیکنالوجی نہیں تھی، سائنس کا نام و نشان نہیں تھا اس وقت قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کیا تھا،،، جی ہاں آپ نے بالکل ٹھیک سنا اور پڑھا۔ سورۃ نور کی آیت نمبر چالیس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌؕ------ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍؕ-اِذَاۤ اَخْرَ جَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَاؕ----وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ (سورة نور 40)
ترجمہ یا جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا ہو، موجوں کے اوپر موجیں اٹھ رہی ہوں،،،، اوپر سے گہرے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہوں، اوپر تلے بہت سے اندھیرے ہوں،، اور اگر کوئی اپنا ہاتھ نکالے تو وہ اس کو بھی نہ دیکھ پائے"۔۔۔
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کی ثبوت یہ ہے کہ آج سے چودہ سو 1400 سال پہلے جب انسان سمندر میں تیــن میــٹر سے زیادہ گہرائی میں نہیں گیا تھا۔۔ اس وقت قرآن مجید میں کس نے ڈکلیئر کیا کہ سمندر میں موجوں کے اوپر موجیں ہوتی ہیں اور یہ گہرے بادلوں کی طرح ہر چیز کو ڈھانپ لیتی ہیں اور یہ ایک ایسا اندھیرا تخلیق کر دیتی ہیں،،،،،،،،،،،،، جس میں ایک ہاتھ دوسرے کو شناخت نہیں کر سکتا،،،، یہ حقیقت چودہ سو سال پہلے کس طرح معلوم ہوگئی ؟ اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال پہلے میں بتا دیا کہ ہم سمندر میں موج کے اوپر مـــوج چلاتے ہیں اور یہ مـوجیں گـــہرے بادل جیسی ہوتی ہیں،،،،،،،،، اور یہ ایک ایسی پچ ڈارک نیس تخلیق کرتی ہیں جس میں بینائی جواب دے جاتی ہے اور ٹائیــٹن اس پچ ڈارک نیس میں تباہ ہوگئی کیوں کہ یہاں پانی کا پریشر بہت زیادہ ہوتی ہے۔
کیا یہ محـض اتفاق تھا ؟ جس نے دنیا کو چودہ سو سال پہلے پچ ڈارک نیـــــس، مـوج کے اوپر مـوج اور پھر اندھـیرے کے بادلوں کے بارے میں ہمیں بتایا،،،،،،،،، جس وقت سائنـس اور ٹیکنالوجی کا نام و نشان نہیں تھا ؟
Louder for the people in the back. 💯 As time goes on, peace becomes the ultimate priority, and you realize how rare, and essential, those three traits really are.
8500 روپے میں مہینے کا بجٹ:
دو بچوں کی سکول فیس: 150 روپے
بجلی کا بل: 58 (اٹھونجا) روپے
گیس کا بل: 30 روپے
پانی کا بل: 5 روپے
پٹرول کا خرچہ: 300 روپے
گھر کا کرایہ: 150 روپے
کچن/گروسری: 800 روپے
شادی بیاہ سالگرہ وغیرہ: 400 روپے
ٹوٹل ماہانہ اخراجات: 1893 روپے
ماہانہ بچت: 6607 روپے
ہر مہینے اتنی بچت ہو جائے گی کہ ایک لاکھ اکیاون ہزار سال بعد ہر شخص اپنا ذاتی گلف سٹریم جہاز ✈️ خرید سکے گا!
#پاکستان_کی_کہانی
تبلیغ کرنے والے حضرات سے ایک عاجزانہ گزارش ہے کہ کبھی حکومتی ایوانوں، سیاست دانوں اور طاقت کے مراکز کا بھی رخ کر لیا کریں۔ گھروں اور دکانوں کے دروازے تو برسوں سے کھٹکھٹا رہے ہیں، ذرا اُن دروازوں پر بھی دستک دیں جہاں فیصلے ہوتے ہیں۔
تبلیغ صرف عام لوگوں تک محدود کیوں؟ کبھی اُن ایوانوں کا بھی رخ کر لیجیے جہاں جھوٹ، کرپشن، ظلم اور ناانصافی پالیسیاں بن کر نکلتی ہیں۔ آخر حضرت موسیٰؑ کو بھی دعوتِ حق کے لیے فرعون کے پاس بھی بھیجا گیا تھا، محلے کے عام لوگوں کے پاس نہیں۔
عوام تو پہلے ہی مہنگائی، ٹیکسوں اور مسائل کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اگر تبلیغ کا اصل مقصد اصلاح ہے تو کبھی اُن لوگوں تک بھی پہنچیں جن کے فیصلوں کا اثر پوری قوم پر پڑتا ہے۔ شاید یہی دعوتِ انبیاءؑ کے طریقے سے زیادہ قریب ہو۔