لاہور ہائیکورٹ: رضوی برادران کی جبری گمشدگی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت 50 روزہ تعطل کے بعد 16 اکتوبر 2026 بروز جمعہ کو ہوگی
سربراہ ٹی ایل پی حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس رضوی کے جبری گمشدگی کیس کی سماعت جسٹس جواد ظفر کریں گے
13 اکتوبر 2026 کو سانحہ مریدکے کی پہلی برسی پر رضوی برادران کی جبری گمشدگی کا ایک سال مکمل ہو چکا ہے
گزشتہ سماعت پر جسٹس جواد ظفر نے اپنی تعطیلات کو وجہ قرار دیتے ہوئے سماعت کو 15 اکتوبر 2026 تک ملتوی کیا تھا
ٹی ایل پی وکلاء نے گزشتہ سماعت پر عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ دونوں قائدین کی زندگیاں خطرے میں ہیں تاہم معاملے کی سنگینی کو نظر انداز کیا گیا
رضوی برادران کے جبری گمشدگی کیس میں اب تک 6 مرتبہ جج تبدیل ہو چکے ہیں اور کیس مسلسل غیر معمولی التواء کا شکار ہے
قاٸد محترم کی جبری گمشدگی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ایک دن کے لیے مزید ملتوی کردی گئی
جبری گمشدگی کیس کی سماعت اب کل کی بجائے، 16 اکتوبر 2026 بروز جمعہ کو ہوگی
وَلَا غَالِبَ إِلَّا اللَّهُ
ہم ان شاء اللہ ایک مرتبہ پھر میدان میں اتریں گے اور لوگوں کو بتائیں گے کہ دین غالب ہونے کے لیے آیا ہے، مغلوب ہونے کے لیے نہیں۔
ایک سال بعد بھی وہی جذبہ وہی وفا!
مریدکے کے مقامِ شہادت پر کارکنان کی حاضری جان لٹانے والے عظیم شہداء القدس کو سلام عقیدت اور شاندار خراجِ تحسین پیش کیا
#مریدکےمیں_قتل_عام_کا1سال
Release Saad Rizvi
13 اکتوبر 2026 مکمل ہوگیا
ایک سال کا عرصہ بیت گیا مگر ابھی تک رضوی برادران کا کچھ اتا پتہ نہیں ہے نہ ہی کسی عدالت میں پیش کیاگیا نہ گرفتاری بتائی گئی۔۔۔
تیس لاکھ سے زائد ووٹ لینے والی جماعت کا تنظیمی ڈھانچہ غائب ہے مگر کوئی ٹھوس آواز اٹھنے کو تیار نہیں ۔۔۔
حد یہ ہے کہ کسی سیاسی پارٹی نے بھی آواز اٹھانے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔۔۔۔
نہ عدالتیں رات بارہ بجے کھلیں نہ ہی حکومت کی دوڑیں لگیں۔۔۔۔
ایک سال مکمل ہوگیا لیکن سیاسی منظرنامے پرایسا تاثر دکھتا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو
تحریک انصاف کی قیادت اپنے کارکنان کو روڈوں پر چھوڑ کر خود گرفتاریاں کیوں دیتی ہے
9 مئی بھی تحریک انصاف نے خود اپنے کارکنان کو مروایا۔
26 مئی ڈی چوک سے گنڈا پوری سمیت ساری لیڈر شپ غائب ہوگئی اور ایک بڑا سانحہ ہوا
آج پھر PTI کارکنان روڈوں پر اور لیڈر شپ آدھی غائب اور آدھی گرفتار