“ہم نے پولیس کے ذریعے آپریشن کر کے ان (گڈ طالبان، بیڈ طالبان) کو نکالا مگر بعد میں پھر انہی لوگوں کو دوبارہ لایا گیا- جب وہ دوبارہ پکڑے تو ISI اور MI والوں نے پولیس سے انہیں چھڑوایا اور کہا کہ یہ ہمارے لوگ ہیں ہم ان کو استعمال کرتے ہیں- اب وہ لوگ پھر ذیادہ ہو گئے ہیں-
میں دوبارہ کہتا ہوں کہ اپنی وردی والے بندوں سے جنگ لڑیں۔ گڈ طالبان، بیڈ طالبان قبول نہیں- اگر آپ کو ان کی ضرورت ہے تو ان کو فوج میں بھرتی کر لو پھر ان کو وردی میں کشمیر میں لڑاتے ہو یا کسی اور محاذ پر لڑا لو ایسے شہروں میں یہ نہیں گھومیں گے- ان کے ذریعے جو آپ جنگ لڑنا چاہ رہے ہیں اس کی وجہ سے آپ اور عوام کے درمیان اعتماد ختم ہو رہا ہے" علی امین گنڈا پور
(24 جولائی، 2025)
نذیر جان آفریدی کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ!
پاکستان تحریک انصاف باڑہ سینئر رہنما نذیر جان کو دو روز قبل نامعلوم افراد کی جانب سے اغوا کیے جانے کی خبر انتہائی تشویشناک اور افسوسناک ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ متعلقہ ادارے نذیر جان کی بحفاظت بازیابی کو یقینی بنائیں.
نذیر جان کی بحفاظت واپسی ان کے خاندان، قبیلے اور تمام خیرخواہوں کا مشترکہ مطالبہ ہے۔ کسی بھی شہری کو اس طرح لاپتا کر دینا ناقابلِ قبول ہے۔ ریاست اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کی جان و سلامتی کو یقینی بنائیں۔
گل صاحب جو آج بتا رہے ہیں وہ میں 2023 جنوری سے بتاتا چلا آرہا ہوں کہ محسن نقوی بیرونی ایجنسیوں کا آلہ کار رہا ہے، تو پھر عاصم منیر دجال کا چیلا کیونکر نہیں ہوسکتا؟
اور اوپر سے گوبر جان کے بیان بھی عوام کو بددل کررہے ہیں۔ عمران خان کی 32 سالہ محنت کو ضائع کرنے میں پی ٹی آئی پارٹی اعلٰی عہدیداروں کی بزدلی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
اگر ڈرون حملوں اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی ختم ہونی ہوتی ہو کب کی ہو چکی ہوتی !
اتنے آپریشنز کے باوجود دہشتگردی کم نہیں ہوئی، مگر معصوم قبائلی علاقوں کے بچے شہید ہوئے، جب نتائج نہیں آتے تو مسئلہ پالیسی کا ہوتا ہے - گورنر راج پر غور کی بجائے اپنی پایسی تبدیل کرنے پر غور کریں۔
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
#گورنر_راج_نامنظور
عوام کیلئے بھوک ۔۔۔اشرافیہ کیلئے جھاز و مرسڈیز۔۔۔
یہ ظلم کا نظام ہے۔۔شہباز شریف کے فارم 47 جعلی ریجیم کا ایک اور اعزاز۔ (Global Hunger Index) کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیاء میں بھوک میں پہلے نمبر پر ہے،شاباش شہباز شریف۔۔۔
آج لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں،کمرتوڑ مہنگائی، ناقابل برداشت طبقاتی تقسیم، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، بدترین قسم کا استحصالی ٹیکسیشن نظام،پٹرولیم بھتہ لیوی اور بےقابو دہشتگردی۔ اوپر سے حکمرانوں کی کرپشن، اربوں روپے کے جہاز، مرسڈیز اور اربوں روپے کے پروٹوکول۔ یہ ظلم کااستحصال اور مافیا کے مفادات کا نظام ہے،کیا یہاں ایمرجنسی لگے گی؟؟؟؟