افغان بارڈر کے آس پاس علاقوں مثلاء وزیرستان میں کسی نے اپنے گھر سے نکل کر پچھلی گلی میں کسی دوست کے گھر جانا ھو تو شناختی کارڈ کے بغیر جانا ناممکن ہے لیکن ایک خودکش حملہ آور افغانستان سے چل کر سینکٹروں کلومیٹر دور اسلام آباد پہنچ کر دھماکہ کردیتا ہے اور یہ کہتے ہیں کہ بس ھوگیا
ہمیں بتاتے تھے کہ طالبان ہمارے مذہبی بچے اور اثاثے ہیں اور کرزئی اور اشرف غنی لادین بھارتی ایجنٹ ہیں۔پھر اس سورما کو سقوط کابل کے بعد کابل میں فخریہ چائے نوش کرتے دکھایا گیا جیسے کوئی بڑا محاذ فتح کر لیا گیا ہو۔افغان جنگی منڈی سے کھربوں ڈالر کمانے کے بعد آج ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ ہمارے مذہبی بچے اور اثاثے خارجی دہشت گرد اور بھارت کے ایجنٹ ہیں۔
Tomorrow (Sunday April 27th) Pashtun National Jirga together with Me. Abdullah Shakir, the son of Shahid Mufti Munir Shakir will hold a rally in Baghdad—Naran, Peshawar. The rally will be a protest against the murder of Shahid Mufti Shakir, the ongoing proxy war on Pashtun soil, oppression of Pashtuns, the illegal mines and minerals act, the abuse and deportation of Afghan refugees and the arbitrary detention of Pashtun National Jirga and other Pashtun leaders.
#JusticeforMuftiShakir
آج علی الصبح کاٹلنگ،بابوزو،مردان ڈرون حملوں میں
اب تک کی اطلاعات کے مطابق سانحے میں تین خاندانوں کے 9 افراد (چرواہے) شہید ہوئے ہیں، یہ سب چرواہے تھے ،جن میں 2 بچے، 2 خواتین اور 5 مرد شامل ہیں۔سپریم کورٹ آف پاکستان اس قتل عام کی جوڈیشل انکوائری کرائے۔
عوام مذمت کے ساتھ مزاحمت کیلئے اس ظلم کیخلاف سڑکوں پر نکلیں۔
مردان میں پاکستانی ریاست نے ڈرون حملا کیا گیا بے گناہ بچے اور خواتین کو شھید کردیا،
پشتونوں کو مزید اس ریاست کے خلاف اٹھنا چاہئے نا کہ صرف فوج کے کیونکہ یہ ریاست پشتون اور بلوچوں کا نہیں پنجابیوں کا ہے،
مزید اس ریاست کے تلے ہم نے قربانیاں نہیں دینی..!!
#StopPashtunGenocide
مردان کے بابوزئی شموزئی علاقوں میں ڈرون حملے ہوئے، جن میں مقامی لوگوں کے مطابق عام شہری مارے گئے۔ ریاستی مؤقف ہے کہ ہدف شدت پسند تھے، لیکن ویڈیوز میں جنازے، لاشیں اور عام لوگوں کی چیخ و پکار کچھ اور کہانی بیان کرتی ��ے۔
مشر منظور پشتین پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ پاکستانی فوج پختون علاقوں کو ڈرون تجربوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ خیبر، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بھی ایسے حملے ہو چکے ہیں جن میں عام شہری ��شانہ بنے۔
#پختونخوا حکومت مکمل خاموش ہے۔ 9 افراد کا قتل معمولی بات نہیں۔ عوام کو بتایا جائے کہ یہ لوگ کون تھے؟ انہیں کیوں اور کس نے مارا؟
ایسے حملے پختونوں پر جاری ظلم و جبر کا حصہ ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں، حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور یہ حملے بند کیے جائیں۔
#DroneStrikes #Mardan #PashtunLivesMatter #HumanRights #KPgovernment
#StopPersecutingPashtuns
#StopPashtunGenocide
#StopBalochGenocide
#mastung
#Drone#Attack#Mardan
کاٹلنگ شموزو مردان میں ڈورن حملہ جس میں 10 بے گناہ افراد بمعہ خواتین شہید ہوچکے ہیں،
بھیڑ بکریاں پالنے والے معصوم افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 10 سے زائد افراد شھید۔
کٹلنگ میں پاکستانی ڈرون حملے نے عورتوں اور بچوں سمیت 10 معصوم جانیں نگل لیں، لاشوں کے ٹکڑے چادروں میں لپیٹ کر احتجاجی عوام سوات ایکسپریس وے پر بیٹھے ہیں. ریاست جسے ہماری حفاظت کرنی تھی،
وہی ہماری بستیوں پر آگ برسا رہی ہے. یہی وہ "محبت" ہے جو ہمیں ملی،بموں میں لپٹی، جنازوں میں دفن، اور چادروں میں سمیٹی گئی. کیا ناکام صوبا یی حکومت کے پاس جواب ہیں؟ کیا یہی وہ "امن" ہے جو ہمیں درکار تھا؟ یا دراصل، یہ جنگ ہماری پہچان، ہمارے وجود، اور ہماری نسل کو مٹانے کے لیے مسلط کی گئی ہے؟
#Mardan #MardanBleeding #MardanDroneAttack #StopStateTerrorism #StopPashtunsGenocide
شموزو،کاٹلنگ،مردان ڈرون حملے بدترین حکومتی دہشتگردی ہے، بے گناہ 9 افراد،خواتین اور بچےشہید ہوگئے ہیں جبکہ کچھ بچے لاپتہ ہیں،ابھی کازتلنگ کے صحافیوں سے جو موقع پر موجود ہیں فون کے ذریعے صورتحال سے آگاہی کیلئے براہ راست بات ہوئی۔ حکومت فوجی آپریشنز، ڈرون حملوں کے ذریعے سے بھی بے گناہ پختونوں کو مار رہے ہیں اور اپنی دہشت گردوں کے ذریعے سے بھی،رمضان المبارک میں، عید کی آمد کے موقع پر غریب محنت کش پختونوں کا اس بے دردی سے قتل عام ناقابل معافی جرم ہے۔اس کی مذمت کیلئے الفاظ نہیں مل رہے،صوبائی حکومت اپنی پوزیشن واضح کرے،وفاقی حکومت اور سیکورٹی فورسز بتائے ان لوگوں کا جرم کیا تھا،دکھ کی اس گھڑی میں کاٹلنگ،مردان کے عوام کیساتھ ہوں۔عوام اس ظلم کیخلاف سڑکوں پر نکلیں۔
پشتونوں اور بلوچوں، یہ یاد رکھو۔ ہماری بیٹیوں کے ہاتھوں میں جنہیں چوڑیاں پہننی تھیں اور عید کے لیے مہندی لگانی تھی، اور ہمارے بزرگوں کے ہاتھ جن سے عید کے موقع پر حجرے آباد ہونے تھے، ان کے ہاتھوں میں ظالم فوج نے ہتھکڑیاں ڈال دی ہیں۔ یہ فاشسٹ ریاست نہ ہماری ��قافت کو جانتی ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کو مانتی ہے۔
#StopBalochGenocide
#StopPashtunGenocide
#ReleaseMahrangBaloch
#ReleaseSammiDeenBaloch
#ReleasePTMActivists
ملک نصیر کوکی خیل، پشتون قومی جرگہ کے رہنما، کو سینٹرل جیل ڈی آئی خان سے زبردستی اٹھا لیا گیا! یہ قانون، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ریاست دہشت گردوں کے بجائے ان لوگوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو امن اور انصاف کی بات کرتے ہیں! #UnlawfulArrestOfMalakNaseer
منظور پشتین کا تاریخی خطاب – اقوام متحدہ میں پشتونوں کی آواز
آج جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 58ویں اجلاس کے موقع پر پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) کے بانی اور سربراہ منظور احمد پشتین نے تاریخی خطاب کیا۔ جنیوا پریس کلب میں ہونے والی اس عالمی کانفرنس میں انہوں نے دنیا کے سامنے پاکستان میں پشتونوں پر ہونے والے ریاستی جبر کو بے نقاب کیا اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر عالمی برادری سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
2001 سے، "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کے نام پر دنیا نے دہشت گردی کے خاتمے کی کوشش کی، جو عالمی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے پاکستان کو اس جنگ میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر شامل کیا، خاص طور پر افغانستان اور پشتون علاقوں میں۔ تاہم، پاکستان نے اس اتحاد کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے اسٹریٹجک مفادات کو حاصل کیا اور پشتونوں پر سنگین ا��سانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں۔ اس ظلم و ستم کے نتیجے میں منظم تشدد، زمینوں پر قبضہ، جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور پشتون کمیونٹیز کی تباہی ہوئی۔
دہشت گردی کے خلاف حقیقی اقدامات کرنے کے بجائے، پاکستان نے اس بیانیے کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا تاکہ پشتونوں کے خلاف ظلم کو جائز قرار دیا جا سکے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے جان بوجھ کر ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس میں پشتونوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کیا گیا، تاکہ ان پر جبر کو قانونی حیثیت دی جا سکے۔ عالمی برادری سے مالی اور عسکری مدد حاصل کر کے، پاکستان نے پشتونوں کے خلاف اپنی مہم کو مزید تیز کر دیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بے دخلی، املاک کی تباہی اور ہزاروں معصوم شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔
غیر قانونی حراستی مراکز اور جبری گمشدگیاں
پاکستان میں 43 غیر قانونی حراستی مراکز قائم کیے گئے ہیں جو ملکی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ان مراکز میں قیدیوں کو شدید تشدد، ماورائے عدالت قتل، اور غیر معینہ مدت تک بغیر کسی مقدمے کے قید رکھا جاتا ہے۔ تقریباً 60,000 پشتون غیر قانونی طور پر قید کیے گئے، جن میں سے 6,700 آج بھی لاپتہ ہیں۔ ان کے اہل خانہ اپنے پیاروں کے بارے میں بے خبر ہیں، اور انصاف کے حصول کی ہر کوشش ریاستی جبر سے دبائی جاتی ہے۔
پاکستان میں فوجی عدالتیں بغیر کسی شفافیت کے کام کرتی ہیں، جہاں پشتونوں کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے سزائیں سنائی جاتی ہیں۔ انہیں وکیل کی سہولت فراہم نہیں کی جاتی، اور جھوٹے مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔ 2011 میں "ایکشن ان ایڈ آف سول پاور" نامی قانون نافذ کیا گیا، جس کے تحت سیکیورٹی فورسز کو کسی بھی شہری کو بغیر جوابدہی کے حراست میں لینے اور سزا دینے کا مکمل اختیار حاصل ہوگیا۔
قتلِ عام اور تباہی
گزشتہ دو دہائیوں میں، پاکستان نے تقریباً 76,000 بے گناہ پشتونوں کو قتل کیا، جو کہ اصل دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں مارے جانے والوں سے کئی گنا زیادہ ہیں۔
6000 پشتون معذور ہو چکے ہیں،
1300 بارودی سرنگوں کے واقعات پیش آئے، جن میں زیادہ تر بچے متاثر ہوئے،
800 بچے جاں بحق، 250 معذور، اور 77 نابینا ہو گئے۔
4000 مویشی بارودی سرنگوں کی زد میں آکر ہلاک ہو چکے ہیں، جس سے دیہی پشتونوں کی معیشت تباہ ہو گئی ہے۔
8 سے 9 ملین پشتونوں کو جبراً بے دخل کیا گیا، اور واپس آنے والوں میں
60% نے اپنی زمینیں کھو دیں،
66% بے روزگار ہو چکے ہیں۔
3,00,000 گھروں اور 2000 اسکولوں کی تباہی نے علاقے کو مزید عدم استحکام کا شکار کر دیا ہے۔
پاکستانی فوج نے 1 ملین ایکڑ پشتونوں کی رہائشی زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔
ثقافت پر حملے اور اظہارِ رائے پر پابندی
پاکستانی ریاست نے منظم طریقے سے پشتون ثقافت اور آزادی اظہار کو نشانہ بنایا ہے:
44 موسیقاروں اور 68 صحافیوں کو قتل کر دیا گیا۔
سفید فاسفورس بموں کا استعمال، جو کہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے، ستمبر 2024 میں شمالی وزیرستان میں کیا گیا۔
پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ اور بحالی کے لیے بے تحاشا عالمی امداد ملی، مگر ان فنڈز کو غلط استعمال کیا گیا اور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اپنی دولت میں اضافہ کیا، جبکہ متاثرہ پشتون عوام کی کوئی مدد نہیں کی گئی۔
پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) کا قیام
پشتونوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) 2018 میں قائم کی گئی۔
PTM کے مطالبات درج ذیل ہیں:
�� ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کا خاتمہ۔
✔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کارروائی۔
✔ شہری علاقوں سے بارودی سرنگوں کا خاتمہ۔
✔ فوج کی سرپرستی میں بننے والی ملیشیاؤں کی سرگرمیوں کا خاتمہ۔
✔ بین الاقوامی امداد کے استPTMجوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔
سربراہ پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) منظور پشتین
فاشسٹ ریاست سن لو! یہ وہ وقت نہیں جب تم پشتونوں کو قتل کرتے اور پھر انہیں دہشت گرد بھی قرار دیتے۔ دیکھ لو، مفتی منیر شاکر کے جنازے میں تمام #پشتون اس بات پر متفق ہیں کہ مفتی صاحب کو تم نے قتل کیا ہے۔ جنازے میں "یہ کرنل جنرل دہشت گرد، آئی ایس آئی دہشت گرد، ایم آئی دہشت گرد، یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے" اور "لر او بر یو افغان" کے نعرے لگائے گئے۔
#یہ_وردی_والے_دہشتگرد
#StateKilledMuftiMunirShakir
#PashtunLivesMatter #StopPersecutingPashtuns #StateTerrorismContinues #StopPersecutingPTMActivists #StateDeniesPashtunsJustice #ptmunderattack
سابق پشتون فوجی اہلکار کے انکشافات: میں نے خود 12 بے گناہ پشتونوں کو شہید کیا
ایک مستعفی ہونے والے پشتون فوجی اہلکار نے سنگین انکشافات کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ اسے رات 2 بجے سینئر افسران کی جانب سے حکم ملتا تھا کہ فلاں شخص کو اس کے گھر سے اٹھا لو، اور وہ جانتا تھا کہ وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ خود 12 بے گناہ پشتونوں کو شہید کر چکا ہے، لیکن اب اس ظلم کا حصہ نہیں بن سکتا.
مزید برآں، اس سابق اہلکار نے ایک اور خوفناک انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مساجد میں ہونے والے دھماکے فوج خود کرواتی ہے، تاکہ بعد میں ان کا الزام مخصوص گروہوں پر ڈال کر اپنے مذموم مق��صد حاصل کیے جا سکیں.
اس نے مزید کہا کہ رمضان کے بعد پشتونوں اور بلوچوں کے خلاف ایک بڑا نسل کش آپریشن شروع ہونے والا ہے، اور اس کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ وہ یہ سب کچھ اس لیے کہہ رہا ہے کیونکہ وہ اب مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔
حیران کن طور پر، کچھ اطلاعات اور فوٹیجز سامنے آئی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس انکشافات کرنے والے شخص کو بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ سچ بولنے والوں کا انجام ہمیشہ ایک جیسا ہوتا ہے.
#StopExtraJudicialKillings #StateKilledMuftiMunirShakir #یہ_وردی_والے_دہشتگرد