اتنی اذیت مجھے کربلا میں نہیں ہوئی تھی جتنی اہل کوفہ کی خاموشی پر ۔کوفہ ایک شہر نہیں،ایک خاموش امت کا نام ہے۔ جہاں کہیں ظلم ہو اور لوگ خاموش رہیں ،وہ شہر کوفہ ہے اور اس کے مکین کوفی ہیں۔
امام زین العابدین
Honoring the legacy of Allama Iqbal the visionary poet who awakened a nation’s soul.
On his death anniversary, we remember his timeless message of selfhood, unity, and hope.
#allamaiqbal#poet
Remembering one of the finest actor of Parallel Cinema, philanthropist and a popular television presenter #FarooqSheikh🙏
#FarooqShaikh with co-star of many movies #DeeptiNaval
Your fav movies of Farooq Shaikh?
اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ
بلکہ وہ کون ہے جو بے قرار شخص کی دعا قبول فرماتا ہے جب وہ اسے پکارے اور تکلیف دور فرماتا ہے ؟
(سورہ نمل آیت ۶۲ کا پہلا حصہ)
ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔جو ختم نبوت کو نہیں مانتا وہ مسلمان ہی نہیں۔آج بھی ریفرنڈم کرا لیں۔ پوری قوم، تمام مکاتب فکر کا فیصلہ۔ البتہ کسی غیر مسلم پہ ظلم ہر گز نہ ہونا چاہیے ۔یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے بلکہ ایک واضح پیمان کہ امت اس کی ذمہ دار ہوگی۔
ناتمام
ہارون الرشید
خدا بے نیاز ہے
جس نے سرکار کا در چھوڑا، اس نے اللہ کو چھوڑ دیا ۔جس نے اللہ کو چھوڑ دیا وہ جانے اور اس کا کام ۔ خدا بے نیاز ہے۔
تاریخی شعور سے بہرہ ور عمرانیات کے ماہر کہتے ہیں: قبائل، ملکوں ، قوموں اور معاشروں کے باہمی تعلقات کا انحصار طاقت پہ ہوتا ہے۔
زندگی کی حفاظت کے بعد سب سے طاقتور جبلت غلبے کی ہوتی ہے۔طاقتور ملک کسی بھی معاشرے کو اس وقت لالچ بھری نظروں سے دیکھتے ہیں جب وہ کوئی متاعِ عزیز رکھتا ہو۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بہت ہےاور اس کے امکانات بھی۔ وہ جنوب مغربی ایشیا ،مشرق وسطیٰ اور سنٹرل ایشیا کا دروازہ ہے۔ ایٹمی طاقت ہے اور ایک ایسے نظریے کا امین کہ قوم عمل پیرا ہو تو طاقت و خوشحالی کا لہکتا ہوا استعارہ بن جائے۔ اسی لئے امریکہ اور اس کے حلیفوں کا فیصلہ یہ ہے کہ پاکستانی قوم کو تعلیم اور شعور سے محروم رکھا جائے۔ برطانیہ کی مدد سے ہماری غلیظ اشرافیہ کی وہ سرپرستی کرتا یے۔ سوا دو سو برس پہلے جس کی خفیہ ایجنسیوں نے ٹھیک اس طرح برصغیر کے طول وعرض میں پکا اور پوشیدہ جال بن دیا تھا، جسا اسرائیل نے ایران میں ۔خاص طور پہ جاگیر داروں، مولویوں اور گدی نشینوں میں۔ اب بھی پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسیاں برطانوی مشورے سے بنتی ہیں۔ امریکی ایما پر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان میثاق جمہوریت برطانیہ نے کرایا تھا۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے مالکان کی دولت کے ڈھیر وہیں پڑے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ نہیں ، کالے دھن کا مرکز اب لندن ہے۔ جنرل باجوہ نے ذاتی طور پہ ناچیز کو بتایا تھا کہ برطانیہ میں شریف خاندان کی تین سو جائیدادیں ہیں۔ لالچی آدمی نے انہی سے سودا کر لیا اور یہ چند ممتاز صنعت کاروں کی مدد سے ہوا جو بھارت سے تجارت کے لئے بے تاب رہتے ہیں، نواز شریف کے فرنٹ مین۔
غیر جانبدار خارجہ پالیسی کے آرزو مند عمران خاں کو ہٹانے کی مہم کا آغاز امریکہ سے ہوا۔ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی امریکہ اور برطانیہ کے سفارت خانوں میں آنے جانے لگے ۔ بلاول بھٹو نیویارک پہنچتے تو غائب ہو جاتے۔ واشنگٹن کا رخ کرتے یا کہیں اور کا؟ غلامانہ ذہنیت کے باجوہ اخبار نویسوں کوچین کے خلاف اکساتے۔اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں دلائل دیا کرتے۔ حیرت ہے کہ ہمارے بعض اچھے بھلے دانشور اور امریکہ میں مقیم پاکستانی امید لگا بیٹھے کہ ٹرمپ ان کے لیڈر کو رہا کرائے گا۔صرف علیمہ خان تھی، جس نے کہا" کیا وہ ہمارا ابا لگتا ہے"
۔ قائد اعظم اور خمینی کی طرح اللہ پہ توکل ہو تو غلیظ اشرافیہ ہی نہیں ، استعمار کو بھی اکھاڑ پھینکیں ۔ پرودگار کا در چھوڑ کر ،طاقتور اقوام کی چاکری کریں تو یہ ایک طرح کا شرک ہے۔ اور شرک تو اسے گوارا ہی نہیں ۔
باطل دوئی پسند ہے حق لا شریک ہے
شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول
اے جوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تند و تیز
ساحل تجھے عطا ہو ساحل نہ کر قبول
غیر مسلم بعض اعتبار سے استثنیٰ رکھتے ہیں۔ شعب ابی طالب کے ایام تھے۔ بنو ہاشم کے بچے بھوک سے بلک رہے تھے، رب العالمین سے آپ نےالتجا کی: اے اللہ تیرے دشمنوں کے گھر مال و دولت دنیا سے بھرے ہیں۔ محمد اور آل محمد ایک ایک لقمے کو ترس گئے۔ جبریل امین پیام لائے: ہم تو ان کے گھر سونے اور سیڑھیاں چاندی کی بنا دیتے مگر آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ جب بھی کسی مسلم معاشرے نے غیر مسلموں پہ انحصار کیا، مالک نے اسے انہی کے حوالے کر دیا۔
کیا اس دنیا میں مسلمان کا کوئی حصہ نہیں۔ جی ہاں مگر مسلمان سب سے زیادہ خوشحال تبھی تھے جب وہ ایمان اور توکل کے حامل تھے۔ جب وہ علم کے جویا تھے۔ اللہ کے آخری رسول کی دعاؤں میں سے ایک یہ ہے: اے اللہ ہمیں دنیا اور آخرت کی بہترین نعمتیں عطا فرما ۔
عالی مرتبت کا ایک فرمان یہ ہے: دینے والا وہ ہے، بانٹنے والا میں ہوں۔فرمایاجہاد جس نے ترک دیا، ذلت اس پہ مسلط کر دی جائے گی۔ غزہ کے مسلمان بلکتے رہے، گاجر مولی کی طرح کٹتے رہے اور ہم امریکہ کو شاد کرنے میں جتے رہے۔ مفتی صاحب کا موضوع تب بھی چار شادیوں کی فضیلت ہی رہا۔
سعودی عرب اور امارات کے دو ہم نام شہزادوں نے ایک ہی بات کہی: قرآن کریم کے ہوتے، حدیث کی کچھ خاص ضروت نہیں ۔حدیث رسول کی ضروت نہیں تو کہکشائیں اور آلوچے کے شگوفے کھلانے والے پروردگار کو تم سے کیا واسطہ؟ کیا واسطہ؟ وہ قسم کھاتا ہے" لعمرک"اے محمد قسم ہے تیری عمر عزیز کی۔ جس نے سرکار کا در چھوڑا، اس نے اللہ کو چھوڑ دیا۔ جس نے اللہ کو چھوڑ دیا وہ جانے اور اس کا کام، خدا بے نیاز ہے۔
غالبؔ ثنائے خواجہ بہ یزدان گزاشتم
کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد است
(غالب ؔنے حضور ﷺ کی نعت کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے
کیونکہ وہ ذاتِ پاک ہی حضرت محمد ﷺ کی شان و عظمت سے صحیح معنوں میں آگاہ ہے)
شب بھر میں سوچتا رہا: علیمہ خاں کی توہین کا منصوبہ بنانے والوں کو کیا ملا؟ بددعائیں، ملامت اور رسوائی؟ اور علیمہ خان کو نقصان کیا پہنچا؟ عزم و ہمت کی تازگی، الفت کی فراوانی اور دعاؤں کی بارش؟
علیمہ خاں کے فرزندوں شیر شاہ اور شاہ ریز کا کیا یہ جرم کم ہے کہ ان کی ماں ریاستی ہیبت سے مرعوب نہیں ہوئی ۔کیا ان نوجوانوں کا یہ جرم کم اہے کہ وہ عمران خاں کے بھانجے ہیں۔