میں اپنے دوستوں کا کس قدر ممنون ہوں انور
کہ ان کے شر سے کیا کیا خیر کے پہلو نکلتے ہیں
...
اس نے گھٹیا پن دکھایا ہے تو اس کا کیا کروں
اس میں مجھ میں فرق کیا.میں بھی اگر ایسا کروں
اگر اس معاشرے میں امن، محبت اور جمہوریت کی آوازیں غیر محفوظ ہوں تو یہ پورے ملک کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ میاں افتخار حسین کا تحفظ دراصل امن کے نظریے کا تحفظ ہے۔
#WeStandWithMianIftikhar
The current situation and the consequences, All credit goes to the 3 bigs. The nation will remember you three and never forgive you. You have stolen the power of the people and you have worked for your masters in any substance and in any matter. Today the public has no hope because of the big 3 and remember the rebels will be starting against you 3 first and then the systems and deeps.
میں واضح اور ذمہ دارانہ طور پر یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں نے ریاستِ پاکستان کے اعلیٰ ترین اداروں — وزیراعظم آفس، سپریم کورٹ آف پاکستان، اور پشاور ہائی کورٹ — سے ان عناصر کے خلاف باضابطہ رجوع کیا ہے جو دہشت گردوں کی سرپرستی اور دوبارہ آبادکاری میں ملوث رہے ہیں۔ میری نظر میں اس عمل کے مرکزی ذمہ دار درج ذیل ہیں:
1.جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ
2.جنرل (ر) فیض حمید
3.سابق صدر عارف علوی
4. عمران نیازی
5. بیرسٹر سیف
میں دوٹوک الفاظ میں خبردار کرتا ہوں کہ میری اس مؤقف اور گفتگو کو کسی بھی فرد یا گروہ کے ذاتی یا سیاسی مفاد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ ایسا کوئی بھی اقدام نہ صرف غیر اخلاقی ہوگا بلکہ قانونی اور سیاسی طور پر بھی الٹا پڑے گا۔
آج میں کھل کر یہ واضح کر رہا ہوں تاکہ کوئی ابہام باقی نہ رہے کہ میرا اشارہ کس جانب ہے، اور میں آئندہ بھی اسی اصولی مؤقف پر قائم رہوں گا۔
جب میں اس پورے معاملے کو “گندگی” قرار دیتا ہوں تو میرا مقصد حقائق کو بے نقاب کرنا ہے، نہ کہ کسی ذاتی دشمنی کا اظہار۔ بعض لوگ میرے مؤقف کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں، لیکن حقیقت اپنی جگہ پر برقرار رہتی ہے اور رہے گی۔
میرا موقف ریاست، آئین اور عوام کے مفاد میں ہے، اور میں اسی راستے پر قائم رہوں گا
میرے نزدیک جنرل فیض کو ان کے کیے کی اصل سزا نہیں دی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ انہیں اُن سنگین جرائم کے مقابلے میں بہت کم پر چھوڑا گیا ہے۔ کابل میں کھڑے ہو کر چائے کا کپ تھامنے والے فیض نے چالیس ہزار دہشتگردوں کو دوبارہ منظم کیا اور انہیں اس خطے پر مسلط کیا۔ پختونوں کی ایک اور نسل کشی کی کوشش پر نہ ان سے پوچھا گیا، نہ انہیں جواب دہ ٹھہرایا گیا۔
فیض نے پختونخوا میں جن لوگوں کو اپنے ایجنڈے کا آلہ کار بنایا، وہ آج بھی اخلاقیات کا لیکچر دیتے پھرتے ہیں۔ فیض–باجوہ–عمران گٹھ جوڑ کے سارے "فیضیاب" آج بھی حکومتیں، مراعات اور اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ اسی سازش کے تحت ایک پوری نسل کو اپنے ہی سیاسی مشران کا دشمن بنا کر پیش کیا گیا،انہیں بتایا گیا کہ آپ کے سب رہنما چور ہیں، صرف ایک مسیحا ہے جو آپ کو نیا پاکستان دے گا۔
وفاق اور پنجاب نے اس جھوٹے بیانیے اور مصنوعی تبدیلی کو صرف چار سال انجوائے کیا، لیکن پختونخوا میں تو اس پورے منصوبے کی پیٹنگ اور تیار کردہ سکرپٹ نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ یہاں تیسری بار اسٹیبلشمنٹ کے تجربات کو کامیاب بنایا گیا، اور پختونوں کو سب سے بھاری قیمت چکانی پڑی۔
ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ جب تک اس پورے گٹھ جوڑ کو بے نقاب نہیں کیا جاتا، قانون کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جاتا، اور پختونوں کے خلاف ہونے والی سازشوں کا مکمل احتساب نہیں ہوتا اس خطے میں نہ امن آئے گا، نہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئیگا۔
Tomorrow is #ShaheedHaroonBilour day of shahadat. You’re, you were and you will always remain in the hearts. Please remember him and all of OUR Shuhda in your prayers.
Tomorrow is #ShaheedHaroonBilour day of shahadat. You’re, you were and you will always remain in the hearts. Please remember him and all of OUR Shuhda in your prayers.