انگریز سے وفا��اری نبھانے،
تاج برطانیہ کے لیے اپنی جانیں نثار کرنے میں پنجابی مسلمان سر فہرست تھے
انگریز نے برصغیر پر قبضہ جمانے کے بعد مقامی لوگوں کو بھرتی کرکے جو فوج بنائی تھی اسے انڈین آرمی کا نام دیا گیا تھا جس کی کمانڈ انگریز کے پاس تھی
انڈین آرمی میں پنجابیوں کی بہت بڑی تعداد بھرتی ہوچکی تھی اور اپنی وفاداری جانثاری کے عوض انگریز سے مالی فوائد سمیٹ رہی تھی
پنجابی مسلمانوں کی انڈین آرمی میں بڑی تعداد کا عالم یہ تھا کہ اگست 1914 سے نومبر 1918 (تقریباً 4 سال) کے درمیان بھرتی ہونے والے 6 لاکھ 83 ہزار 149 ہندوستانی فوجیوں میں سے صرف ساٹھ 60٪ فیصد تو پنجابی سپاہی ہی تھے!
20 ویں صدی کے آغاز پر پنجاب کا صوبہ اور پنجابی قوم انگریز کا مسلح بازو ہونے کا اعزاز حاصل کرچکی تھی
اور عالمی محاذوں پر انگریز کے شانہ بشانہ جنگیں لڑ رہی تھی
انگریزوں نے خاص طور پر پنجاب میں پوٹھوہاری خطوں(سالٹ رینج) کے پنجابیوں کو جو آج بھی ہندکو اور ہزارہ زبانیں بولتے ہیں انڈین آرمی میں ترجیحی بنیادوں پر بھرتی کیا تھا
ان اضلاع میں راولپنڈی ، جہلم اور شاہ پور کو زیادہ ترجیح دی گئی تھی
اگر پنجابی ذاتوں کی بات کی جائے تو انڈین آرمی میں بھرتی ہونے والے شمالی پنجاب کے اعوان، گکھڑ ، اور راجپوتوں میں؛ جنجوعہ اور ٹوانہ سب سے زیادہ تھے
آج بھی پوٹھوہاری خطوں میں ،
خصوصی طور پر؛ چکوال، جہلم اور سرگودھا میں ہر دوسرا آدمی فوجی نکلتا ہے
پنجاب اور پنجابی قوم آج بھی انگریز کی آنکھوں کا تارا ہے
پاکستان کا ہر دوسرا آرمی چیف پنجابی ہوتا ہے. کیونکہ یہ قوم ظالموں کے سامنے کبھی بھی بغاوت نہیں کرتی
یہ ہر زور آور کے قدموں میں نہایت ادب و احترام کے ساتھ سجدہ ریز ہوجاتی ہے
معذرت کے ساتھ
معصوم بیٹیوں کی چیخوں کے درمیان باپ کا خون زمین پر بہا دینا مظلومیت کی انتہا ہے بے گناہ جان لینا اور بیٹیوں کو یتیم کر دینا ایسا زخم ہے جو کبھی نہیں بھرے گا یہ درد قیامت تک بولتا رہے گا۔
ParachinarSiege: 216 Days. انسانی المیہ. Humanitarian crisis. 131 days of Kohat Peace Agreement, and 41 days of Alizai-Utezai accord, but roads are still blocked. #EndParachinarSiege
اب ایک سوال پاکستانی میڈیا اور پروپیگنڈا بیانیوں سے ہٹ کر کریں۔
بھارت کے مطابق اس نے بہاولپور میں مولانا مسعود اظہر اور مریدکے میں حافظ سعید کے مرکز کو براہ راست نشانہ بنایا اور تباہ کر دیا۔ اسی طرح بھارتی دعویٰ ہے کہ پاکستانی انتظام والے کشمیر میں اس نے ان مخصوص عمارتوں کو نشانہ بنایا جن کے بارے میں اس کے مطابق وہاں جہادی تربیت لیتے تھے۔ عالمی سطح پر بھارت نے واضح طور پر کہا کہ اس نے کسی پاکستانی فوجی تنصیب پر حملہ نہیں کیا۔
سوال یہ ہے کہ پاکستانی افواج جواب میں بھارت میں کہاں حملہ کر سکتی ہیں؟ جواب میں آپ کو بھارت کی فوجی تنصیبات پر حملہ کرنا پڑ رہا ہے تو ایسا کیوں ہے؟
اس وقت عالمی سطح پر بھارت کے ان حملوں کی مذمت نہیں ہو رہی، وجہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص بری طرح مجروح ہے اور پاکستان کو دہشت گرد گروہوں کا سرپرست سمجھا جاتا ہے۔
اگلا سوال یہ ہے کہ یہ امیج کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے؟ آپ کو ڈان لیکس معاملہ یاد ہو گا۔ اس وقت نواز شریف حکومت نے ان گروہوں کی سرپرستی سے پیچھے ہٹنے کا کہا تھا۔ اس کے جواب میں سویلین حکومت کے خلاف ایک منظم عسکری مہم چلائی گئی اور جہت تبدیل کرنے کی بجائے حکومت تبدیل کر دی گئی۔
جب تک ہم اس راستے کو ترک نہیں کرتے، عالمی سطح پر پاکستان کے دوست ممالک بھی پاکستان کے لیے کچھ نہیں کر سکیں گے۔ اپنی توانائیاں پراکسی جنگوں میں جھونکنے کے بجائے وقت ہے کہ اپنی جہت مکمل طور پر تبدیل کی جائے۔
ٹل سے #پاراچنار جانے والی مرکزی شاہراہ گزشتہ *206 دنوں* سے ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر بند ہے، جس کے باعث علاقہ مکینوں کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔
خوراک، ادویات، پترول اور دیگر ضروری ساما�� کی عدم دستیابی کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی اجیرن بن چکی.
#EndParachinarSiege
1)پاراچنار کے مومنین اگر مولا علی کے اصحاب سے زیادہ افضل ہوتے تو 6ماہ سےجاری پاراچنار کا محاصرہ کھلوا لیتے، پاراچنار کے مومنین اپنے ہی مولویوں کے ہاتھوں گنڈا پور حکومت کے ہاتھوں گروی رکھے ہوئے ہیں، امین شہیدی کو چاہیئے اسلامی نظریاتی کونسل میں پاراچنار کیلئے احتجاج کریں ورنہ اپنی
200 days of false hopes, broken promises, disappointment, treacherous killings, deprivation and denial of rights for the people Kurram
#Parachinar#EndParachinarSiege
پاراچنار
محترمہ نصرت ناز کو مبارکباد
پاراچنار گاؤں پیواڑ/ حال پاراچنار شہر سے تعلق رکھنی والی نصرت ناز نے انگریزی زبان میں ایک کتاب شائع کی ہے ۔ یہ کتاب اس بات کی گواہی ہےکہ اس حطے میں قابلیت کی کوئی کمی نہیں ۔
یہ طاقتور کتاب پاراچنار کے لوگوں کے سب سے تاریک لمحوں کو اجاگر کرتی ہے، ان کی حوصلہ اور استقامت کو روشنی میں لاتی ہے۔ اس ناول کی رونمائی کئی ممالک میں کی گئی ہے، جن میں آسٹریلیا، روس اور چین شامل ہیں، اور یہ پاکستان کے مختلف یونیورسٹیوں تک بھی پہنچ چکی ہے۔
نصرت ناز نے خوبصورتی سے دکھایا ہے کہ کرم کے لوگ سب سے مشکل وقت میں بھی امید اور کوشش جاری رکھتے ہیں۔
اگرچہ کتاب دنیا بھر میں متعارف کرائی گئی ہے، بدقسمتی سے یہ ابھی تک پاراچنار نہیں پہنچی کیونکہ سڑکوں پر رکاوٹیں ہیں۔
ہم ان کی طاقت اور ہنر کی تعریف کرتے ہیں اور ان کے لئے مزید کامیابیاں اور روشن مستقبل کی دعا گو ہیں۔
#pararchinarexpress #kurramwantpeace #پاراچنار #کرم #Parachinar #Kurram
Pakistan Army is committing genocide in Kurram. The world must act NOW—sanctions, trials, and international intervention are needed!
@UN@IntlCrimCourt@StateDept#EndKurramSiege