ایک سے بڑھ کر ایک دلہ ملا عمران خان کو ، جس سسٹم نے عمران خان کو غائب کیا ہوا یہ حرامی اسی سسٹم کو کندھا دیے ہوۓ ہیں ۔۔
دونوں کہتے تھے خان سے مشاورت کیے بغیر بجٹ پاس نہیں کریں ۔۔
اپنا فیلڈ مارشل سائیڈ پر کرو اگر ایک ہفتے میں ہم نے تمہاری حکومت نا گرائی تو ہم گھروں میں واپس چلے جائیں گے، یہ عمران خان کے نام سے خوفزدہ ہیں۔ خالد نثار
عمران خان پاکستان کی سیاست کی ایک نمایا شخصیت ہیں جنہوں نے کرکٹ ،فلاحی کاموں اور سیاست میں اپنی پہچان بنائی ان کے حامی انہیں تبدیلی، خودمختاری اور عوامی حقوق کی أواز قرار دیتے ہیں ان کی سیاسی سرگرمیاں آج بھی پاکستان بھر میں بحث اور دلچسپی کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔۔
راولاکوٹ کے مقام پر ٹھیک اس جگہ 16 بار ریجیرز کی جانب سے آپرہشن ہو چکا ہے۔
جتنی بار آپریشن ہوتا ہے تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔
کمشیری اور ایرانیوں نے ثابت کر دیا ہے اتحاد کی طاقت بندوق سے نکلے گولی سے زیادہ طاقتور ہے
ایک بار پھر یاسمین راشد، عمرسرفرازچیمہ، اعجازچوہدری،محمودالرشیدکو10،10سال قیدکی سزا سنا دے گئی 💔
پھر کہتے ہیں آجاؤ بیٹھ کر بات کرتے ہیں لعنت ہے ان فارم 47 اور استثنی لینے والوں اور ان ججز پر بھی جو اندھے ہیں🖐️
اپ سمجھ رہے ہوں گے کہ سہیل افریدی نے بجٹ کاغذات پر سائن کیے ہیں بالکل بھی نہیں اج خیبر پختونخواہ کی اسمبلی نے عمران خان کے نام پر جیتے ہوئے 92 ایم پی ایز نے مائنس عمران خان پر دستخط کر دیے ہیں
اسد طور کا انکشاف 🚨
عمران خان کو کچھ دن پہلے آفر ہوئی کہ آپ بس چپ کرکے باہر بیٹھ جائیں بیشک جلسے کریں لیکن حکومت نہ گرائیں
عمران خان نے آفرلیجانے والوں کو شٹ اپ کال دی کہا Who are you ایسی آفر لانے والے
پہلے علی امین گنڈاپور بھی لے گیا تھا عمران خان نے جوتا اتر لیا تھا
کشمیری آج 15ویں روز بھی احتجاج کر رہے ہیں!
تاجر برادری نے بھی ایکشن کمیٹی کے ساتھ اتحاد کرکے اپنے کاروبار کو بند کردیا ہے عوام بھی ساتھ کھڑی ہے!!♥️🔥
کاش باقی پاکستان کے 10 کروڑ لوگ بھی نکل ائے, صرف دو دونوں کے لیے, تو پاکستان ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جائگا!!
بہنوں کے علاوہ عمران خان کا کوئی نام ہی نہیں لیتا، پی ٹی آئی ٹکٹ ہولڈرز کہاں چھپے ہوئے ہیں اور کس دن کے لیے چھپے ہوئے ہیں؟
عظمٰی خان نے بلکل ٹھیک کہا 💔
لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے ڈاکٹر یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کو سنائی گئی 10،10 سال قید با مشقت کی سزا عدالتی ریکارڈ اور قانون شہادت کے مسلمہ اصولوں کے بالکل برعکس ہے۔
یہ مقدمہ 11 مئی 2023 کو تھانہ مغلپورہ میں ایف آئی آر نمبر 852/23 کے تحت انسداد دہشت گردی ایکٹ اور تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات بشمول جلاؤ گھیراؤ اور کار سرکار میں مداخلت کے تحت درج کیا گیا تھا، جس کا بنیادی الزام دھرم پورہ پل پر ایک پولیس گاڑی پر نامعلوم افراد کا حملہ تھا۔
کیس کی باقاعدہ سماعت اور جرح کے دوران استغاثہ کا پورا کیس تکنیکی اور قانونی طور پر ختم ہو گیا جب عدالت میں موجود سرکاری تفتیشی افسر نے آن ریکارڈ داعتراف کیا کہ جائے وقوعہ کے شواہد، جیو فینسنگ اور تفتیشی ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور شاہ محمود قریشی اس حملے میں سرے سے ملوث نہیں تھے، اور دوسرا یہ کہ کرسچینٹی اور ریکارڈ کے لحاظ سے اس ایف آئی آر کا 9 مئی کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
جب گواہ اور تفتیشی افسر خود بے گناہی کی گواہی دے رہے ہوں، تو سزا سنانا انصاف نہیں بلکہ آئین اور قانون کا سرِعام قتل ہے۔نو مئی کو بنیاد بنا کر پہلے ہی غیر قانونی گرفتاریوں چھاپوں اور قید کی شکل میں کتنے ہی لوگوں کو غیر قانونی سزائیں دی جا چکی ہیں اس بربریت کو اب ختم کرنا ہو گا، عدالتوں کو اپنے حلف سے غداری کا جواب دنیا اور آخرت دونوں میں دینا ہو گا۔