2 جلتے تیل کے کڑاہے میں شدید زخمی اور اب زبیر نیازی کی والدہ سمیت 20 سے زائد عورتیں بچے مکان میں باہر سے تالے لگا کر محسور۔
میلاد نبوی ﷺ کے دن یہ فروعونیت
شاید ہی آج سے پہلے کبھی کسی حکومت نے اتنے تمغے اپنے وزرا میں بانٹے ہوں لیکن کارکردگی یہ ہے کہ اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال میں مناسب فائر سیفٹی نہ ہونے کی وجہ سے 14بچے جل کر جان بحق ہو گئے ۔عوام کےبچےمر رہے ہیں دوسری طرف حکمرانوں کےبچوں کی دوڑ لگی ہوئی ہے اگلا بڑا عہدہ کسےملے گا!
پمز ہسپتال کے اس وارڈ میں گیا جہاں آگ لگی تھی،کرسیاں جلی ہوئیں تھیں، لوہے کے راڈ تک جلے ہوئے ہیں، وہاں سے ایز لائیو کیا، فوٹیجز بنائے لیکن جیسے گیٹ پر پہنچا پولیس نے روکا،موبائلز لے لئے اور ویڈیوز ساری ڈیلیٹ کروا دی۔۔۔۔۔۔۔ مجھے حیرانگی ہے کہ پولیس کیا چھپانا چاہ رہی ہے؟؟؟ ایسے حقائق کیا خاک چھپ سکتے ہیں؟ صحافیوں کو اپنا کام کرنے سے کیوں روکا جارہا ہے؟
@MohsinnaqviC42
حسبي الله ونعم الوكيل
مائیں اپنے بچوں کو نو ماہ اس لئے کوکھ میں نہیں رکھتیں کہ کسی کی غفلت کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہی وہ زندہ جل جائیں، وفاقی دارالحکومت میں 14 نومولودوں کا جاں بحق ہونا انسانی تاریخ کا ایک بدترین سانحہ ہے، جن کی امیدوں کے چراغ روشن ہوتے ہی بجھادئیے گئے، وہ بے بس باپ انصاف مانگ رہے ہیں۔
ڈاکٹر عاصم کی اپیل 🚨
عمران خان کو فوری ریٹینا اسپیشلسٹ کے علاوہ اپنے دیگر طبی مسائل کے مکمل جائزے کے لیے کسی اعلیٰ اسپتال جیسے شفا انٹرنیشنل اسلام آباد، میں فوری اور مکمل طبی معائنے کی ضرورت ہے۔
سوشل میڈیا فرض سمجھ کر آواز اٹھائیں
جہاں الفاظ ساتھ چھوڑ جائیں🚨شعلوں کے درمیان گجا (غزہ) میں بلند ہونے والی چیخیں انسانیت کے ضمیر کا امتحان لے رہی ہیں۔اس ظلم کے خلاف خاموش نہ رہیں __ شیئر کر کے اپنی آواز اٹھائیں!
#غزہ#فلسطین#GazaUnderAttack#Gaza
آیت نور کے والد محمد شفیق غم سے کرب سے بے حال ہیں ۔ اللہ کسی دشمن پر بھی یہ دن نہ لائے ۔ پاکستان کے طاقتور لوگوں سے درخواست ہے کہ پاکستان میں ہر رنگ کے قوانین بنتے ہیں ۔ ایک قانون بنادیں کہ جو کوئی بھی ایسی دردنگی کرے اس کا فیصلہ عدالت نہیں بلکہ متاثرہ خاندان کرے گا ۔ ایسے مجرمان کو محمد شفیق جیسے والدین کے حوالے کرنا چاہیے ۔ شاید کہ ان کے دل کو کچھ تو سکون مل جائے ۔
#JusticeForAyatNoor
ڈاکٹر فیصل کا مطالبہ 🚨
مجھے خان صاحب کو دیکھے ہوئے تقریباً 2 سال کا عرصہ گزر گیا ہے، عمران خان کے مؤثر اور جامع علاج کے لیے ذاتی ڈاکٹرز کو رسائی عمران خان تک رسائی دی جائے
#TorturingImranKhanIsACrime
پاکستان کامن ویلتھ کا رکن ملک ہے۔ برطانیہ کی ایک طویل اور قابلِ فخر روایت ہے کہ وہ من مانی گرفتاری، غیر انسانی سلوک اور بنیادی حقوق سے محرومی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔ اگر ہم ان اصولوں کو صرف اپنی سہولت کے مطابق استعمال کریں اور جب یہ اصول ہمارے لیے غیر موزوں ہوں تو انہیں نظر انداز کر دیں، تو پھر ان اصولوں کی اہمیت ہی کیا رہ جاتی ہے؟ جمائما گولڈ سمتھ کا ٹویٹ
@Jemima_Khan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan #ImranKhan
🚨اس خبر کو منظر سے ہر گز نہ ہٹنے دیں ‼️
عمران خان کی بہنوں نے عمران خان کی صحت کے معاملے کو بھرپور طریقے سے عالمی لیول تک پہنچا دیا ہے اب اسے کسی دوسرے بھی فالتو کی بحثوں میں پیچھے نہ جانے دیں اس وقت سب سے ذیادہ اہم موضوع عمران خان کی صحت اور سلامتی ہے ۔🙏
بریکنگ نیوز 🚨
جمائمہ خان کی جانب سے برطانوی حکومت کو کھلا خط لکھ دیا گیا!
جمائمہ خان نے اہم وقت میں, 3 سالہ ظلم کی پوری داستان لکھ دی ہے!!
وزیرِ اعظم اینڈریو برنہم (@andyburnham) اور وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ (@Ed_Miliband): برطانیہ کب تک خاموش رہے گا؟
تین سالوں سے میرے دو بیٹوں کے والد اور پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو ان کے سیاسی مخالفین کی طرف سے بے رحمانہ سزا دی جا رہی ہے۔ یہ آرمی چیف عاصم منیر کا ذاتی انتقام ہے، جو اقوامِ متحدہ (UN) کے مطابق تشدد کے زمرے میں آتا ہے اور اب ان کی جسمانی و ذہنی صحت پر ممکنہ طور پر مہلک اثرات ڈال رہا ہے۔
انہوں نے 3 سال سے قیدِ تنہائی برداشت کی ہے۔ اب تقریباً دس ماہ سے ان کے خاندان کو ان سے رابطے سے محروم رکھا گیا ہے۔ انہیں بنیادی ترین انسانی رابطے سے محروم کر دیا گیا ہے، اور کتابوں، وکلاء اور ڈاکٹروں تک رسائی نہیں دی جا رہی۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار بالکل واضح ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے نیلسن منڈیلا قوانین کے تحت، لگاتار 15 دنوں سے زیادہ قیدِ تنہائی ممنوع ہے اور یہ تشدد کے مترادف ہے۔
انہوں نے یہ سلوک 15 دن نہیں، بلکہ تین سال سے برداشت کیا ہے۔
پاکستان کی اپنی سپریم کورٹ نے اب مداخلت کی ہے: انہوں نے جامع طبی علاج، ذاتی ڈاکٹر تک رسائی، خاندان کی باقاعدہ ملاقاتوں اور بیٹوں کے ساتھ ہفتے میں دو بار فون کالز کا حکم دیا ہے۔
پھر بھی ان احکامات کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
یہ اب صرف پاکستان کا سیاسی معاملہ نہیں رہا۔ یہ انسانی حقوق کی ایک ہنگامی صورتحال ہے۔
ان کے برطانیہ کے ساتھ گہرے اور تاحیات روابط ہیں۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، آکسفورڈ یونیورسٹی کرکٹ ٹیم کی کپتانی کی اور انگلینڈ میں سالہا سال کاؤنٹی کرکٹ کھیلی۔ اس ملک کے ساتھ ان کا رشتہ نصف صدی سے زیادہ پرانا ہے۔ ان کی فلاحی سرگرمیاں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہیں، جن میں پاکستان میں کینسر کا واحد مفت ہسپتال اور ایک یونیورسٹی بنانا شامل ہے۔
ان کے بیٹے، میرے دو بچے، سلیمان اور قاسم، برطانوی شہری ہیں۔ وہ ہزاروں میل دور سے اپنے والد کی صحت کو گرتے ہوئے دیکھنے پر مجبور ہیں، انہیں ملاقات سے روکا گیا، ویزے دینے سے انکار کیا گیا، سرکاری حکام کی طرف سے سرعام گرفتاری کی دھمکیاں دی گئیں، اور یہاں تک کہ عدالت کے حکم کردہ باقاعدہ فون کالز سے بھی محروم رکھا گیا۔
میں نے بارہا برطانوی حکومت سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ بیک چینل (خفیہ ذرائع) سے کی جانے والی مبینہ کوششیں واضح طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔ سابق وزیرِ خارجہ ڈیوڈ لیمی (@DavidLammy) نے مجھے تحریری طور پر مطلع کیا تھا کہ اگر میرے بیٹے، جو برطانوی شہری ہیں، اپنے والد سے ملنے پاکستان جائیں اور وہاں انہیں گرفتار کر لیا جائے، تو برطانیہ مداخلت نہیں کرے گا۔
برطانوی دفترِ خارجہ (@FCDOGovUK): برطانیہ کو اب علانیہ اور واضح طور پر آواز اٹھانی چاہیے۔ مطالبہ کریں کہ پاکستان اپنی ہی سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کرے؛ عمران خان کی طبی رسائی اور خاندان سے ملنے کا حق بحال کرے، ان کی طویل تنہائی کو ختم کرے اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کرے۔
پاکستان دولتِ مشترکہ (Commonwealth) کا رکن ملک ہے۔ برطانیہ کی من مانی حراست، غیر انسانی سلوک اور بنیادی حقوق کی پامالی کے خلاف کھڑے ہونے کی ایک طویل اور قابلِ فخر روایت ہے۔ اگر ہم ان اصولوں کو صرف اپنی مرضی سے استعمال کریں اور ضرورت کے وقت نظر انداز کر دیں، تو ان کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔
یہ نئی برنہم حکومت سے ایک اپیل ہے کہ براہِ کرم اب درست فیصلہ کریں۔